بین المذاہب ورکشاپ پر تاثرات

’’کچھ ارادے, کچھ وعدے اور کچھ غلط فہمیوں کے ازالے ‘‘ یہ نچوڑ ہے میری نظر میں تین روزہ بین المذاہب ہم آہنگی ورکشاپ کا (18 اکتوبر تا 20 اکتوبر 2016)

ادارہ امن و تعلیم اسلام آباد کے زیر اہتمام تمام مذاہب(بشمول مسیحی , ہندو, سکھ اور مسلمانوں کے تمام مسالک) کے قائدین کو فیصل آباد میں اک ورکشاپ میں اکٹھا کیا گیا

ڈاکٹر محمد حسین صاحب کی محبت و شفقت کہ انہوں نے بندہ کو بھی استفادہ کا موقع دیا

پہلے دن جب ہوٹل کے ہال میں داخل ہوا تو کچھ عجیب سا لگ رہا تھا کہ ان تمام لوگوں کے ساتھ بیٹھنا و کھانا, پینا ہو گا جن سے صرف مسلکی نہیں بلکہ مذہبی اختلاف ہے.

ٹیبل پہ اپنا نام تلاش کر کے بیٹھا تو دیکھا اک طرف مسیحی بھائی ریحان دانیال اور دوسری طرف ہندو بھائی اویناش داس کے نیم ٹیگ پڑے ہوئے ہیں. کچھ ہی دیر میں ان کی آمد ہوئی تو بتکلف مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ آداب و سلام کا تبادلہ ہوا.

آغاز میں سب نے اپنا اپنا تعارف پیش کیا , برف پگھلنے لگی اور فاصلے کم ہونے اسی لمحے پروگرام مینجر محترم حافظ غلام مرتضی صاحب نے اک ایکٹویٹی کی شکل میں گرم پانی کا جو جگ انڈیلا تو برف سے جمے ہوئے احساسات میں ابال آیا اور سب اپنی اپنی سیٹس سے اٹھ کر اک دوسرے کے پاس جا کر تعارف کرنے و کروانے لگے (یہی ایکٹویٹی تھی)

تمام سیشن ہی بڑے پر مغز اور فائدہ مند تھے
جیسے
” بین المذہب ہم آہنگی کیوں ضروری ہے؟ .. .. ا
ابلاغ….
مذہب امن کا سر چشمہ……
تنوع و اختلاف….
تنازع…..
تشدد و انتہا پسندی….
بین المذاہب مکالمہ….
حل تنازعات

ان سب پہ سیر حاصل بحث ہوئی, گروپ ایکٹویٹیز , پریزینٹیشنز اور عملی سرگرمیاں اس کا حصہ رہیں

صرف تین دن اک ساتھ گزارنے کے بعد اختلاف مذاہب کے باوجود جدا ہوتے ہوئے یوں لگ رہا تھا کہ صدیوں سے اکٹھے کھیلنے, پڑھنے, اور عبادت کرنے والوں میں جدائی ہو رہی ہے

آخر میں اپنے الفاظ میں تمام سیشنز کا خلاصہ عرض کرتا چلوں

"کاش کہ ہم سمجھیں بین المذاہب ہم آہنگی کا یہ معنی قطعا نہیں کہ سب مذاہب کو ملا کر کوئی نیا مذہب ایجاد کیا جا رہا ہے.
……بلکہ….. مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے مذہب پہ قائم رہتے ہوئے دوسرے کے مذہب و مقتدا کا احترام کرنا سیکھ لیں.
اختلاف بلا مخالفت و تشدد کے کرنا آ جائے ”

یہ تب ہی ممکن ہو سکے گا جب آپس کے فاصلے کم ہوں ابلاغ کا کامیاب عمل مکمل ہو.
ایسی ورکشاپس اور پروگرام ترتیب دیے جائیں

تا کہ معاشرے میں پھیلی ہوئی منافرت اور تشدد کی آگ کو بھجایا جا سکے….
….ورنہ…. اس آگ کی لپیٹ میں
بلاامتیاز مذہب(مسلم ,مسیحی, ہندو,سکھ)
سب ہی آ جائیں گے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے