سعودی سرزمین اور حوثی میزائیل

جدید نیشن سٹیٹس میں کوئی بھی ملک اپنے ملکی مفادات سے ہٹ کر کوئی بھی فیصلہ نہی کرتا۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ مسلم امہ سے متعلق جب بھی کوئی معاملہ ہوتا ہےتو ہم آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور حقائق کو جاننے کی کوشش نہی کرتے اور جذبات میں فیصلے کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ظلم دنیا کے کسی کونے پر کسی بھی مذھب کے، کسی بھی رنگ و نسل کے لوگوں پر ہو قابل مذمت ہے۔ ہمارے مسلم بھائیوں پر جہاں ظلم ہوتا ہے وہاں ہمارے بھائی ایسے بھی ہیں جو ظلم کی ایسی داستانیں رقم کرتے ہیں کہ انسانیت کانپ اٹھتی ہے اور فرشتے لپک کر کہتے ہونگے کہ ہم نہی کہتے تھے یہ فساد برپا کرے گا۔

ابھی پچھلے دنوں، مکہ مکرمہ پر حوثیوں کی طرف سے میزائل داغنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ہم نے سعودی شہزادوں کی بات کو من و عن مان کر لعن طعن شروع کردی ہے۔ حالانکہ کہ سعودی شہزادے کوئی دودھ کے دھلے نہی ہیں۔ اور چونکہ وہ بیت اللہ کے محفاظ ہیں تو یہ ذمہ داری بھی انکی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ انکی حرکتوں سے کوئی بھی ایسا رد عمل نہ ہو جو اس شہر کے تقدس کو پامال کرنے والا ہو۔

میزائل کا فائر ہونا ایک بات اور مکہ پر اسکا فائر ہونا دوسری بات ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ سعودیہ امریکہ کے دست و باوزو کی حیثیت سے یمن کے خطے میں موجود یمنی عرب ریپبلک کو سپورٹ کررہا ہے۔ اور روس ڈیموکرٹیک رپبلک آف یمن کو سپورٹ کر رہا ہےاور اسی طرح ایران بھی حوثیوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ اس سارے علاقے میں سعودیہ اور ایران کے مفادات سے زیادہ مفاد امریکہ ارو روس کا ہے۔ امریکہ اب تک یمن کو 1.2 بلین کی امداد ملڑی اور پولیس کی مد میں دے چکا ہے ۔ایران شیعہ برادری کی بنیاد پر بھی حوثیوں سے ہمدردی رکھتا ہے۔ سعودیہ کے کچھ جنوبی علاقے حوثیوں کی حکومت سے خطرے میں پڑ جاتے ہیں اسلئے وہ امریکہ کے اتحادی کے طور پر اس جنگ میں شریک ہے۔

میزائل والی بات پر جانے سے پہلے اس علاقے کی صورتحال ایک جائزہ لیتے ہیں تاکہ بات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ حوثی لوگ چونکہ شیعہ زیدی فرقہ سے متعلق ہیں اور یمن میں وہ ایک اقلیت ہیں۔ ْ سنی دنیا اوریمن میں انکی مقبولیت اسی بنیاد پر بہت کم ہے۔ 1980 کی دہائی میں یہ ایک پرامن مذہبی جماعت کے طور پر کھڑے ہوئے تھے۔ 2003 میں یہ لوگ سیاسی طور پر بھی ایکٹو ہو گئے اور اسکی وجہ صالح کا عراق میں امریکی مداخلت کی پشت پناہی کرنا تھا۔

2004سے 2010 تک عبداللہ صالح کے خلاف یہ حوثی لوگ کم ازکم کوئی چھ بار اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔اس میں حوثیوں نے اور دوسرے باغیوں نے جون 2009، کے شروع میں قریب نو سیاحوں کو قتل کیا، اور جرمنی سے تعلق رکھنے والے بچے یمن اور سعودیہ کی افواج کے مشترکہ آپریشن سے بازیاب کروا لئے گئے۔ اگست 2009، میں یمنی حکومت نے سخت قدم اٹھایا اور باغیوں کو کچل دینے کے لئے کاروائی شروع کی اس آپریشن کو عملية الأرض المحروقة، یا آپریشن سکراچڈ ارتھ کا نام دیا گیا۔

اس ساری جنگ سے کس کو کیا فائد ہ ہوتا ہے وہ آجکا موضوع نہی ہے۔ آجکا موضوع صرف اور صرف حوثیوں کے اس عمل کے پیچھے چھپی تاریخ کو سامنے لانا ہے تاکہ اس ساری صورتحال میں اس عمل کا جائزہ لیا جاسکے۔2009نومبر، کے شروع میں سعودی حکومت پر حوثیوں کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ باقاعدہ بارڈر سے پار یمن میں حوثیوں کے خلاف کاراوئیوں میں ملوث ہے ۔اس الزام میں سب سے اہم بات جو کی گئی تھی وہ یہ تھی جبل الدخان نامی جگہ پر موجود ایک بیس سے سعودیہ یمنی سپاہیوں کو حوثیوں پر حملے کے لئے جگہ فراہم کر رہی ہے۔ اس الزام کی تردید یمنی حکومت کی طرف سے کردی گئی تھی لیکن تین نومبر کو سعودیہ کی ایک پٹرولنگ پارٹی پر حوثیو کی جانب سے حملہ کردیا گیا۔ اس حملہ میں دو سعودی فوجی ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے۔ اسکے جواب میں سعودیہ نے حوثیوں پر پانچ نومبر کو باقاعدہ اٹیک کردیا۔ اس اٹیک میں حوثیوں پر بم مارے گئے۔ سعودیہ نے یمنی زمین پر کسی بھی ایسے حملے سے صاف انکار کردیا لیکن الجزیرہ کے مطابق چھ مقامات پر یمن میں راکٹس مارے گئے جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک گھنٹے میں قریب سو راکٹس ایک جگہ پر داغے گئے تھے۔جیزان نامی شہر میں شہریوں نے جنگی طیاروں کی آوازیں اور فوجیوں کی در اندازی کی شہادت بھی دی اور کہا جاتا ہے اسی دوران کنگ فہد ہسپتال کو ایمرجنسی الرٹ کردیا گیا تھا۔ آٹھ نومبر کو سعودیہ نے یہ بات مان لی اور کہا کہ یہ جبل الدخان کو باغیوں سے واپس لینے کی کاروائی تھی ال عربیہ نیوز نے اس خبر کو نشر کیا جس میں اس بات کو واضح انداز میں لکھا گیا تھا کہ "جنوبی یمن میں جمعرات کو باغیوں پر بارڈر کراس کرنے کی وجہ سے ائیرسٹرائیک کی گئی ہے” ۔نومبر کے اواخر تک یہ جنگی تناؤ باغیوں اور سعودیہ کے بیچ بنا رہا۔اس سال کے آخر اور نئے سال کے شروع میں کچھ ایرانی بھی اسلحہ پہنچانے کی کوششوں میں پکڑے گئے اور اسکے علاقہ سعودیہ کی بمباری اور اس سے ہونے والے نقصان کو روس کے نیوز چینلز نے بڑے پیمانے پر کور کیا۔

منصور الہادی نے 2014 میں انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ کے پریشر میں آکر فیول سبسڈی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر حوثیوں کی طرف سے شدید مظاہرے کئے گئےتھے اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ منصور الہادی جو اصل میں صالح کا وائس پریذڈنٹ تھا اسے بھی ہٹایا جائے اسکے ساتھ سیاسی طور سیٹوں کوتمام جماعتوں کو تقسیم کیا جائے۔ اس پر انہوں نے بہت ریلیاں ور احتجاجی مظاہرے کئے لیکن انکی نہ سنی گئی اورا سکے مخالف اسلامی اخوت نے حوثیوں کی مخالفت میں بہت مظاہرے کئے۔ صورتحال بگڑتی بگڑتی زیادہ بگڑ گئی اور حوثیوں نے الہادی کے مقام پر اٹیک کرکے اسے اسکے وزیر اعظم سمیت گھر میں قید کردیا۔اسکے بعد سے اب تک حالات بہت زیادہ کشیدہ ہیں۔

اقوام متحدہ میں سعودیہ کے امبیسڈر عبداللہ ا لمعلمی کا کہنا تھا کہ ہم یمن میں یمنی لوگوں پر بم گرانے نہی جاتے بلکہ ہمارا مقصد یمنی حکومت کی مدد کرنا ہے تا کہ انکو انکے ملک میں امن بحال کرنے میں مدد کی جاسکے۔حوثی جو کہ اب بہت طاقتور ہوچکے ہیں، انہوں نے ابھی پچھلے دنوں اسی مدد کے جواب میں سعودیہ پر ایک بیلاسٹک راکٹ داغا تھا جسکے لئے اتنی لمبی تاریخ کو مجھے بہت اختصار اور کاٹ کاٹ کر پیش کرنا پڑا۔

اس لمبی تاریخ کا مقصد تھا کہ تالی ایک ہاتھ سے نہی بجائی گئی بلکہ اس میں سعودیہ کے اپنے مفادات بھی شامل ہیں جنہوں نے حوثیوں کو سعودیہ پر حملے کا جواز فراہم کیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حوثی واقعی ہی مکہ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ فی الحال حقائق سے صرف نظر کرکے صرف اور صرف، جنگی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ حوثی اس وقت یمن میں ایک بڑی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جس میں انہیں کافی حد تک کامیابی مل رہی ہے، کیا یہ انکے مفاد میں ہوگا کہ وہ اس جنگ کو چھوڑ کر مکہ پر حملہ کرکے پوری مسلم امہ کو اپنے مخالف کرلیں اور ایک نئی مشکل اپنے لئے پیدا کرلیں؟

اس سے متعلق حوثیوں کا بیان بھی سامنے آ چکا ہے، المسیرۃ نامی چینل حوثی باغیوں کی طرف سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ انکے مطابق انہوں نے یہ میزائل والکینو -1 کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ائرپورٹ ، جدہ پر داغا تھا۔ اس بیان کو نیویارک ٹائمز نے اٹھائیس اکتوبر کو شائع کیا تھا۔

داغے جانے والے میزائل کے متعلق جو مرضی دعوٰ ی کردیا جائے۔ اسکی تحقیق کون کرے گا؟

سعودی حکومت کی طرف سے یہ بیان جاری کیا گیا کہ یہ میزائل مکہ مکرمہ کی طرف داغا گیا جسے قریب اڑتالیس کلومیٹر دور ہوا میں ہی ہٹ کردیا گیا تھا۔ یہ ایک غلط فہمی بھی ہوسکتی ہے۔اور یہ ایک بہترین چال بھی ہوسکتی ہے، چونکہ امریکہ کا اس میں بہت مفاد شامل ہے اسلئے انہوں نے چند منٹوں میں ہی انہوں نے اسکی مذمت کی اور انگلی کٹوا کر شہیدوں میں شامل ہوگئے۔ جبکہ امت کے لئے یہ مسئلہ مرنے مارنے سے متعلق ہے۔ لیکن اس مرنے مارنے سے قبل تصدیق کرلی جائے کہ آیا کہ یہ نیشن سٹیٹس کی مد میں کھیلا گیا ایک کھیل ہے یا اسکی کوئی حقیقت بھی ہے؟
!صورتحال آپکے سامنے ہے فیصلہ بھی آپ ہی کیجئے!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے