پاکستان کی جاسوس خواتین

افغان جنگ کے دوران نیشنل جیو گرافگ کے سرورق پر تصویر کی اشاعت سے مقبولیت حاصل کرنے والی شربت گلہ پاکستان میں جعلی شناختی کارڈ بنوانے کے جرم میں سزا کے بعد اپنے وطن افغانستان پہنچ چکی ہیں ۔ وہاں پر افغانستان کے صدر جناب اشرف غنی نے شربت گلہ کا استقبال کیا ۔ سعودی عرب کی جیل سے رہائی پانے والے زید حامد کے ٹویٹ کے ذریعے یہ بریکنگ نیوز ملی کہ ’’ شربت گلہ پاکستان کے خلاف جاسوسی کا ایک پورا نیٹ ورک چلا رہی تھی ۔‘‘ یہ خبر کافی مضحکہ خیز ہے کیونکہ شربت گلہ طویل عرصے سے پاکستان میں قیام پزیر تھی اور اگر ایسی کوئی بات تھی تو یہ ہمارے سیکیورٹی اداروں کے لئے سوالیہ نشان ہے جب کہ دوسری جانب خیبر پختونخواہ حکومت نے شربت گلہ کو پاکستان میں رکنے کا عندیہ بھی دیا تھا ۔

شربت گلہ کو اس حوالے سے پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ شربت گلہ کے ساتھ الزام لگانے کے حوالے سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا گیا۔ کیونکہ وہ تو پھر بھی افغان ہیں ۔ ہم نے تو الزامات لگانے میں اپنی خواتین کو بھی غداری کے بڑے بڑے القابات سے نوازا ہے ۔ جن میں چند چیدہ چیدہ خواتین درج ذیل ہیں۔

[pullquote]مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح[/pullquote]

بانی پاکستان قائد ا عظم کی بہن اور سیاسی ہمسفر محترمہ فاطمہ جناح کی زندگی ایک طویل اور انتھک جدوجہد کی علامت ہے ۔ تحریک آزادی کا سفر ہو، جلسے جلوس ہوں ، تقسیم کے بعد کے مراحل ہوں یا زیارت میں قیام ، فاطمہ جناح ہر ہر قدم پر بانی پاکستان کے ساتھ ساتھ نظر آتی ہیں۔ آپ تحریک پاکستان کے ہر ہر راز کی امین ہیں ۔ لیکن قائدا عظم کی وفات کے بعد آپ کو سیاست سے دور رکھنے کی کوشش جاری رہی ۔ جب تک آپ عملی سیاست سے دور رہیں ۔ قومی اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں آپ کی قدر و منزلت بحالت مجبوری موجود رہی ۔ لیکن 1965 میں آپ نے جب مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب کے خلاف صدارتی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو آپ کی کردار کشی کئے لئے بھرپور تحریک چلائی گئی اور امریکہ کی مدد سے حکمرانی قائم کرنے والے جنرل ایوب نے آپ پر ’’ پرو انڈیا اور پرو امریکہ‘‘ ہونے کا الزام لگایا۔ آپ کی موت کے حوالے سے بھی آج تک واضح نہیں ہو سکا کہ وہ قتل تھا یا طبعی موت۔

[pullquote]محترمہ بے نظیر بھٹو:[/pullquote]

محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے بھرپور سیاسی زندگی گزاری ۔ بے نظیر آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویٹ تھیں اور اپنی قد آور شخصیت ، سیاسی سوجھ بوجھ اور جمہوریت پسند ہونے کے اعتبار سے عالمی طور پر پہچانی جاتی تھیں۔ شاید بے نظیر کی یہی پہچان اسٹیبلشمنٹ کی نظروں میں کھٹکتی تھی ۔ اسلئے آپ پر مغربی ایجنٹ ہونے سمیت ’‘ملک کے لئے سیکیورٹی رسک ‘‘ ہونے کے الزامات بھی لگائے گئے۔ محترمہ نے ساری زندگی جیلوں اور عدالتوں کا سامنا کیا۔ اور ہمیشہ جیالوں کی قیادت کے لئے سف اول میں موجود رہیں۔ بے نظیر نے جلاوطنی ، ذاتی وسیاسی الزامات سمیت بچوں سے دوری کا درد بھی برداشت کیا اور آخر میں اپنی جان تک قربان کر دی ۔ لیکن پھر بھی غداری کے الزامات سے نہ بچ سکیں۔ آج تک آپ کے قاتل بھی گمنام ہیں۔

[pullquote]ملالہ یوسف زئی [/pullquote]

سوات سے تعلق رکھنے والی سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی پوری دنیا میں لڑکیوں کی تعلیم اور حقوق کے لئے جدوجہد کر رہی ہے ۔ ملالہ پر ۹ اکتوبر۲۱۰۲ طالبان نے قاتلانہ حملہ کیا ۔ جس میں وہ شدید زخمی ہوئیں ۔ ملالہ نے ایسے وقت میں تعلیم کے لئے آواز اٹھائی جب طالبان نے سوات میں تمام سکول بند کروا دئے تھے ۔ ملالہ کو ان کی بہادری ، استقامت اور تعلیم کے لئے مسلسل جدوجہد کرنے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خصوصی خطاب کے لئے بلایا گیا اور پوری دنیا کے لیڈروں نے کھڑے ہو کر آپ کا استقبال کیا۔ ملالہ ایک ایسی پاکستانی لڑکی ہے جو پوری دنیا میں تعلیم کے لئے جدوجہد کرنے والی علامت بن چکی ہے ۔ اور اقوام متحدہ نے ملالہ کے یوم پیدائش کو ملالہ ڈے قرار دیا ہے لیکن کشمیر اور فلسطین کے حقوق پر بات کرنے والی ملالہ کا یہ دن پاکستان میں نہیں منایا جاتا کیونکہ پاکستان میں عام تاثر یہ ہے کہ ملالہ مغرب کی نمائیندہ ہے ۔

[pullquote]
شرمین عبید چنائے :[/pullquote]

دو مرتبہ آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے کو بھی بہت سے طبقوں کی جانب سے مغرب کا ایجنٹ ہونے کا ٹائٹل دیا گیا ہے ۔ شرمین عبید پاکستانی فلمساز اور ہدایت کارہ ہیں اور ان کو اپنی دستاویزی فلم ’’ دی گرل ان دا ریور : پراٗس فار فارگیونس‘‘ اور’’ سیونگ فیس ‘‘ کے لئے آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے ۔کیونکہ یہ دستاویزی فلم ’’غیرت کے نام پر قتل ‘‘ کو موضوع پر بنائی گئی ہے اسلئے انہیں مذہبی حلقوں کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔

اس کے علاوہ دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ ، انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی عاصمہ جہانگیر ، شیری رحمان سمیت کئی ایسی خواتین ہیں ۔ جنہوں نے ساری زندگی پاکستان میں گزاری اور پاکستانیوں کے لئے جدو جہد کی ۔ لیکن کبھی انہیں انڈین ایجنٹ کہا گیا تو کبھی مغربی ایجنٹ ۔ ہم شاید ایسی قوم ہیں جو اپنے علمی سرمائے کو own نہیں کرتے ۔ بلکہ پیسوں کی طرح یہ سرمایہ بھی باہر منتقل کرنے کے لئے بے چین رہتے ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے