دل تو بچہ ہے جی!

بچپن کے دن کتنی پیاری باتوں سے بھرے ہوتے ہیں،کیا آپ کو اپنا بچپن یاد ہے؟ کیسی میٹھی یادیں ذہن کے کسی گوشے میں چھپی ہوئی ہیں،زندگی اب کتنی مشکل ہو چکی ہے لیکن پھر بھی اپنا بچپن یاد آتے ہی دل میں گھنٹیاں سی بجنے لگتی ہیں۔

کیا دن تھے وہ بھی، محلہ میں گھنٹی بجنے کی آواز سنائی دینی، ہم نے بھی فوراً باہر نکلنا، ایک بابا جی گلے میں بڑا سا چوکور ڈبہ لے کر ایک موڑ پر بیٹھ جاتا۔۔ ڈبے کا ڈھکن اتار نا اور اس میں رنگ کے ساتھ چینی ڈال کر چرخہ چلا دینا، بس پھر کیا تھا رنگ دار لچھے بنتے جاتے، بابا جی سے فرمائشیں ہوتی جاتیں، مجھے بطخ بنا دو، مجھے جہاز۔۔ کسی کو کچھ تو کسی کو کچھ پسند ہونا، پھر اٹھنی، ایک روپیہ کا لچھا لینا اور اتنی محنت سے بنا یا ہوا پرندہ دو منٹ میں چٹ کر جانا۔
اس لچھے کی چاشنی آج بھی منہ میں گھلتی محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح کبھی ایک بڑے سے ڈنڈے پر کوئی مزے کی ٹافی نما چیز لپیٹے کوئی چاچا محلے میں اسی طرح گھنٹی بجاتا داخل ہوتا۔ وہ بھی ٹافی کو کبھی مرغی، کبھی بطخ کبھی مور کی شکل دے کر اسے ایک تیلہ پر لگا دیتا اور ہم پھر اس محنت کو ایک منٹ میں زبان پر گھول لیتے۔

ایک مخصوص ٹھک ٹھک کرتی آواز آتی تو بھی محلہ کے سب بچے باہر نکل جاتے۔ ایک آدمی ڈوری سے بندھی ایک گاڑی چلا رہا ہوتا تھا ، تیلوں سے بنی گاڑی کے بالکل بیچ میں ایک مٹی اور کاغذ سے بنی ڈھولکی پرربڑ بینڈ سے بندھا ایک اور تیلہ پہیے گھومنے پر ٹکراتا جس سے مزے کی آواز پیدا ہوتی۔ سارے گھر میں ہم وہ گاڑی بھگاتے پھرتے ، کمرے میں گاڑی چلانے پر اکثر نانی اماں جنہیں ہم پیار سے امی جان کہا کرتے تھے وہ ہمیں کہتیں ، بیٹا باہر جا کر شور مچاؤ، ہم پھر اپنا سامنہ اورگاڑی لیے صحن میں چلے جاتے اور خوب ہلہ گلہ کرتے جب تک ربڑ بینڈ سلامت رہتا یا وہ ڈھولکی نہ پھٹ جاتی۔

معلوم نہیں وہ پنکھے کا کیپیسٹریا کوائل ہوتا تھا، ہاتھ لگ جانا تو اس کا پوسٹمارٹم کر دینا، اسے کھول کراس کی تاریں بجلی کے ساکٹ میں لگا دینی پھر اس کی کاپر وائنڈنگ کا رنگ لال ہوتے دیکھنا، وہ تاریں لال ہو کر انتہائی گرم ہو جانیں تو انہیں چھو کر پھر بھاگنا۔۔ جلا ہوا ہاتھ پھر امی جی سے چھپا کر رہنا، یہ سوچنا انہیں پتہ نہیں چلے گا حالانکہ رات کو سوتے ہوئے پھر ان ہی سے لپٹ کر سونا۔ جب سو کر اٹھتے یہ تو ہمیں اس وقت پتہ نہیں چلتا تھاکیوں امی جی کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ میرے ہاتھ پر رات کو کس نے سوتے میں برنال لگائی ۔ کس نے زخم صاف کیا۔

سکول جانا تو پہلے پیریڈ سے ہی آدھی چھٹی کا انتظار شروع ہو جاتا، لنچ بکس میں امی جی کے ہاتھ کے پکائے مختلف کھانے کھاتے کھاتے کبھی بھی بوریت نہیں ہوئی، کبھی بن کباب، کبھی چکن فرائی تو کبھی فرائیز۔۔ لیکن میرے فیورٹ تو ہمیشہ انڈا پراٹھا رہے، میری فرمائش ہوا کرتی تھی ، ہر روز انڈا پراٹھا ہی ہونا چاہئے۔۔ اب حال یہ ہے انڈا کھانے کو دل ہی نہیں کرتا۔پراٹھہ کھائیں تو کولیسٹرول بھی بڑھتا ہے اور توند بھی۔ اس لیے احتیاط لازم ہے۔

سکول جاتے تو عدسہ بیگ میں ہوتا تھا سائنس کے کاموں کے لیے مگر استعمال ہوتا تھا دوستوں کو تنگ کرنے کے لیے، بس جہاں سورج کی روشنی دستیاب ہوئی، کسی کی موٹی گردن تاک کر اس پر سورج کی کرن کو عدسہ کے ساتھ باریک کر کے پہنچانا۔۔ دوست جب اچانک ہاتھ مار کر گردن سہلاتا ہم بھی عدسہ ڈیسک
میں چھپا کر کتاب میں خود بھی چھپ جاتے۔ وہ بے چارہ سمجھتا کوئی کیڑا کاٹ گیا۔

کاغذ سے دن رات بنانا۔۔ کتنا اچھا لگتا تھا۔ کاغذ کی کشتی بنا کر بارش کے پانی میں کھیلنا، کاغذی جہاز کس کا دور تک جائے گا؟۔۔ پھر کتاب سے پڑھنے کے علاوہ کرکٹ کھیلنے کا کام بھی لیا جاتا جو بیٹنگ کرتا کتاب اس کے ہاتھ ہونی، اس نے صفحہ کھولنا آخری نمبر زیرو تو آؤٹ، باقی جو بھی آیا وہ رنز میں شمار ہو گا۔ ایک کھیل جو ہم سارے بچپن میں زیرو کانٹا کے نام سے کھیلتے رہے اب معلوم ہوا انگریزوں نے اس کا نام ٹک ٹیک ٹو رکھا ہوا ہے۔ایک ٹین کی سی بنی کشتی بھی خریدا کرتے تھے جس میں ایک موم بتی جلا کر اسے پانی کے ٹب میں چلاتے تھے اور وہ موٹر بوٹ کی طرح گھومتی رہتی تھی۔

سکول میں لگے جھولوں میں اس جھولے پر بیٹھنا جہاں ایک اوپر جائے تو دوسرا نیچے ، بس وہاں جو بچہ نیچے پہنچا اور اس کے دماغ میں اچانک جھولے سے اتر جانے کا خیال آیا تو وہ فوراً اس جھولے سے چھلانگ لگا دیتا اور دوسرا بچہ پھر تیزی سے نیچے کی طرف آتا۔ ہوشیار بچہ ہوتا تو بچ جاتا نہیں تو۔۔ پھر روتے ہوئے کہتا ابھی جا کر ٹیچر کو بتاتا ہوں، پھر اس کو منانے کے لیے کرسپ کے پیکٹ پر گزارا ہو جاتا تھا ، ایسے بچے بار بار چوٹ کھانے کے باوجودپھر اسی شرارتی لڑکے کے ساتھ اسی جھولے پر بیٹھ جاتے اور چوٹ کھاتے لیکن انہیں سمجھ نہیں آتی تھی یا شاید کرسپ زیادہ اچھے لگتے تھے۔

اکثر جب تیز ہوا چلنی یا آندھی آنی تو شاپنگ بیگ سے دھاگہ باندھ کر بھاگتے اور وہ بیگ پتنگ کی طرح اڑتا رہتا، خود کہیں سے مومی کاغذ ڈھونڈ کر تیلوں کی مدد سے اپنی ذاتی پتنگ بنانا۔ گیلی مٹی میں سریا کے ساتھ کھیلنا۔۔ یا پھر پٹھو گرم، جی ہاں، سڑک کے بیچوں بیچ چھ سات ٹکڑیوں کی سیڑھی سی بنانی اور دو ٹیموں کا آمنے سامنے کھڑا ہونا، جو ٹیم ٹاس جیت جاتی اس کے کھلاڑی نے بال مار کے گیٹیاں گرانی، پھر مخالف پارٹی نے گیٹیاں واپس جوڑنے سے روکنا، روکنے کے لیے مخالف کھلاڑیوں کو تاک تاک کے بال سے نشانہ بنانا۔

اس کے علاوہ جناب یسو پنجو ہار کبوتر ڈولی۔۔ یہ کھیل بھی اپنی نوعیت کا ہوتا تھا، اس میں بھی مار وہ کھاتا تھا جو سیدھا سادہ مسکین سا بچہ ہوتا ورنہ وہ تاک جاتا کہ چار نے آپس میں طے کر رکھا ہے کہ کسے رگڑا لگانا ہے، اچھا مزے کی بات یہ ہے اکثر بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے کئی بڑے بیٹھ جاتے اور پھر کیا زناٹے دار تھپڑ بندھے ہوئے ہاتھوں پر رسید کرتے کہ کئی روز یسو پنجو کھیلنا تو دور کرکٹ کھیلنا بھی مشکل ہو جاتا تھا۔

شام ڈھلنے سے پہلے صحن کو دھویا جاتا، ٹی وی کو کمرے سے باہر نکالا جاتا، پھر محلہ بھر کے لوگ اکٹھے ہوتے اور شام کو آٹھ بجے ہاؤس فل شو ہوا کرتا جب پی ٹی وی پر ڈرامہ چلا کرتا۔ اس کے بعد سب چلے جاتے، بچے سونے چلے جاتے مگر بڑے فرمان الہٰی کے بعد ترانہ شروع ہونے پر ٹی وی بند کرتے، پھر اس بھاری بھرکم ٹی وی کو اٹھا کر واپس کمرے میں پہنچایا جاتا۔ محلہ میں ایک یا دو گھروں میں فون ہونا، فون صبح سویرے آئے یا رات گئے بنا شکل بنائے بچے کو بھیجا جاتا کہ ہمسایوں کو بلا کر لاؤ۔اسی طرح فریج بھی محلہ کے ایک یا دو گھروں میں ہوتا بھری دوپہر میں دروازہ بجنا اور برف مانگی جانی۔ کوئی بھی خالی ہاتھ نہیں جاتا تھا۔

کیا زمانہ تھا؟ محلہ ، واقعی محلہ ہوتا تھا جہاں سب کی عزتیں سانجھی ہوا کرتی تھیں، بچہ اگر سگریٹ پینا شروع کرتا تو اپنے گھر والوں کے علاوہ محلہ کے بزرگوں سے بھی چھپتا، کہیں محلہ کا کوئی بزرگ ،کوئی بھی بڑا اگر یہ گناہ کرتا دیکھ لے تو تھپڑ لگنے کا اندیشہ ہوتا تھا۔ اب آپ کو اپنے ساتھ والے گھر میں رہنے والے کا نہیں معلوم ہوتا کہ یہ کون بھائی صاحب ہیں اور کہاں کام کرتے ہیں۔

آج زمانہ بدل گیا ہے، لچھے کی جگہ کاٹن کینڈی نے لے لی ہے، پٹھو گرم کا متبادل آ گیا ہے رگبی، شاپنگ بیگ تو اب کوئی نہیں اڑاتا ہاں پتنگ کیمیکل ملی ڈور سے اڑانے سے لوگوں کی گردنیں کٹنا شروع ہو چکی ہیں، اسی باعث اب بسنت بھی پیلے رنگ کی نہیں سرخ ہو چکی ہے۔ اغوا کاری کی وارداتوں کے باعث بچے اب گراؤنڈ ز تو دور اپنے گھر کے سامنے والی سڑک پر بھی نہیں کھیل سکتے۔ نئی بننے والی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں سڑک کے دونوں اطراف مٹی ہی نہیں ہوتی تو بارش کے بعد سریا کا کھیل کیسے کوئی کھیلے۔

آج کل کے نصاب نے بچوں کو تھکا بھی دیا ہے اس لیے وہ ویسے بھی گراؤنڈ جا کر کھیلنے کے بجائے گھر میں ہی پلے سٹیشن سے دل بہلا لیتے ہیں۔ بچہ جب خود باپ بن جائے تو سوچتا ہے اکیلا ہمارا باپ کیسے یہ بوجھ اٹھاتا تھا، ہمارا باپ بہت عظیم تھا، ماں بہت پیاری تھی ہم تو ابھی سے گھبرا گئے وہ تو ہم پر اب تک سایہ بنے بیٹھے تھے، کیوں چلے گئے ہمیں چھوڑ کر۔۔ کاش زندگی میں ریوائنڈ کا بٹن ہو، وقت پھر وہیں لے جائے جہاں کوئی فکر نہیں تھی، جہاں ہر طرف پیار کرنے والے تھے، آج پھر دل بچہ بن گیا ہے چاہتا ہے میں بھی پھربچہ بن جاؤں۔۔۔کاش، اے کاش بچپن لوٹ آئے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے