اجنبی لوگ

انسان کی کہانی دراصل ہجرتوں کی کہانی ہے انسان کو بنانے والے رب العالمین نے اسے بے شمار خصوصیات سے نوازا ہے ان ہی بے شمار خصوصیات میں سے اس کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں ہر ماحول میں باآسانی ایڈجسٹ ہونے کی صلاحیت ہے اور یہ ہی وہ خاصیت ہے جس نےاشرف المخلوقات انسان پر ہجرتوں کو آسان بنایا

وہ جہاں جاتا ہے وہاں کے ماحول میں کچھ ایسا رچ بس جاتا ہے جیسے وہ صدیوں سے اس ماحول سے مانوس ہو وہ پرایو میں بھی ایسے گھل مل جاتا ہے کہ جیسے اس کا ان سے صدیوں پرانا کوئی رشتہ ہو وہ جہاں جاتا ہے وہاں اپنے سے دوست ڈھونڈ لیتا ہے انسان کا مزاج کچھ ایسا ہے کہ وہ اپنوں میں خوش رہتا ہے اور اگر تنہا ہو جائے تو اندر ٹوٹ جاتا ہے اپنوں کے لیے خوشی خوشی ہر دکھ ہر تکلیف سہہ لیتا ہے لیکن اگر تنہا ہوجائے تو دنیا کی تمام آسائیشوں کے باوجود بھی اداس ہوجاتا ہے

جہاں یہ ممکن ہے کہ ایک اجنبی انسان پرایوں میں رہ کر بھی انھیں اپنا اپنا سا لگے تو وہاں یہ بھی عین ممکن ہے کہ ایک انسان اپنوں کے درمیان رہ کر بھی ان کے لیے ایک بیگانا ہی تصور کیا جائے

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر گھل مل جانے والا انسان آخر اتنا اکیلا کیوں ہوجاتا کہ اپنوں میں رہ کر بھی اپنوں سے بیگانہ ہی تصور کیا جائے
شاید ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کسی بھی انسان کے لیے اس کا فہم اس کی دانش اس کے خیالات اور اس کا طرز فکر ہی اس کے لیے سب کچھ ہواور اس کے سوا سب باطل
تو پھر دوستو!

ایسا انسان دیس میں رہ کر بھی ایک پردیسی کی زندگی گزارتا ہے اور وہ اپنے ہی معاشرے کے لیے ایک اجنبی انسان بن کے رہ جاتا ہے

ایسا انسان اپنی زات میں اس قدر گم ہوتا ہے کہ اسے اپنے ارد گرد کے لوگ یا تو بہت چھوٹے نظر آتے ہیں یا پھر سرے سے نظر ہی نہیں آتے

جب بھی انسان کے اندر اپنے آپ کو مناوانے کا جنون حد سے بڑھ جائے

اور جب انسان یہ چاہے کہ مجھے جاننے والے مجھے ماننے والے بھی بن جائیں

اور جب انسان کہ اندر یہ خواہش شدت اختیار کر جائے کہ لوگ مجھ سے محبت نہیں عقیدت رکھیں

اور جب انسان میں میں اور بس میں ہی ہوکر رہ جائے

تو ایسے انسان سے آہستہ آہستہ لوگ دور ہونا شروع ہوجاتے ہیں

دوسروں سے اپنے آپ کو منوانے کے لیے سب سے پہلے دوسروں کو تسلیم کرنا پڑھتا ہے

کہتے ہیں تالی ہمیشہ دونوں ہاتوں سے بجتی ہے

میرا خیال ہے کہ اانسان خود کو اتنا مشکل نہ بنائے کہ لوگ اسے سمجھ نہ سکیں ہم سب اپنے تمام علم و ہنر کے باوجود ایک عام انسان ہی تو ہیں اور ہمیں باقی زندگی بھی عام انسانوں میں ہی گزارنی ہے یقین کریں عام انسان کی زندگی بڑی خاص ہوتی جبکہ خاص انسان بڑی پیچیدہ زندگی گزارتے ہیں انسان کا زندگی کو اپنے زاویہ سے دیکھنا کوئی بری بات نہیں لیکن !!

دوسرے انسان کے زوایہ کو سمجھے بغیر بات آگے نہیں بڑہتی خاص طور پر جب وہ دوسرا انسان آپ کا شریک حیات ہو
یا آپ کے والدین ہوں
یا کوئی اچھا دوست
آپ کےعزیز و اقارب
یا پھر اولاد ۔

زندگی کہ اس سفر میں صرف میں اور میں کا راگ الاپنے والا مسافر بالاخر بے مراد اور اکیلا رہ جاتا ہے جبکہ میں سے ہم تک کا سفر کرنے والا انسان منزل پا جاتا ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے