معاہدہ کراچی آسمانی صحیفہ نہیں،میں اُسے تسلیم نہیں کرتا:وزیراعظم آزاد کشمیر

وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے حالیہ دورے میں ہم نے کشمیری اور پاکستانی نژاد ممبران یورپی پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کو بهرپور طریقے سے اُجاگر کیا اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو رکوانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں

جب فاروق حیدر سے پوچھا گیا کہ معاہدہ کراچی کے مطابق مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے .کیا اس معائدے کی روسے آپ کا دورہ خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں‌ آتا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ”معاہدہ کراچی آسمانی صحیفہ نہیں ہے ، میں معاہدہ کراچی کو نہیں مانتا”

انہوں نے مزید کہا کہ شملہ معاہدہ سے ہمیں بہت نقصان پہنچا ہے ، اسے ختم کرنا چاہئے . کشمیر دو طرفہ مسئلہ نہیں بلکہ اس مسئلے کی وجہ سے جنوبی ایشیا کا امن داو پر لگا ہوا ہے .

انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے کا سب سے زیادہ فائدہ ہندوستان کو ہو گا اس کے لیے ہندوستان کو کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہو گا

انہوں نے کہا مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے نوجوان اپنا کردار ادا کریں ہم پڑهے لکھے نوجوانوں کو مختلف زبانوں کے کورس کروا کے باہر بھجیں گے .

انہوں نے یہ بهی کہا کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر جاندار موقف پیش کیا .

اس موقع پر انہوں نے مسلح افواج کو بهی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ افواج ملکی سلامتی کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہی ہے

خیال رہے کہ منقسم کشمیر کی ایک اکائی گلگت بلتستان کا عبوری انتظام 28 اپریل 1949ء کو پاکستان کو ایک معائدے کے تحت دیا گیا تھا . کشمیریوں رہنماوں کی جانب سے سردارابراہیم خان اور چوہدری غلام عباس اس معائدے کے متحرک کردار تھے . اسے معائدہ کراچی کہا جاتا ہے .

بہت سے کشمیری حلقوں کو معائدہ کراچی پر شدید تحفظات رہے ہیں اور گلگت بلتستان کے باشندے بھی ماضی میں آزادکشمیر کی حکومت سے اس معائدے کی بنیاد پر ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں .

آزادکشمیر کے وزیر اعظم فاروق حیدر خان کی حالیہ بیان ایک ایسے وقت میں‌سامنے آیا جب پاکستان چین راہداری کے منصوبے پر کام شروع ہے اور گلگت بلتستان کی آئینی صورت حال زیر بحث ہے .

وزیر اعظم آزادکشمیر گزشتہ کچھ دنوں سے یورپی یونین کے دورے پر تھے اور گزشتہ رات ان کی اسلام آباد واپسی ہوئی ہے .

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے