ملتجیانہ نظریں

محمد احمد نے تعلیم بلکہ بہترین تعلیم کے حصول کیلئے لاڑکانہ کیڈٹ کالج میں داخلہ لیا۔ کیڈٹ کالجز میں داخلے کا طریقہ کار قریبا سب کو معلوم ہے۔ تحریری امتحان ‘ نفسیاتی تشخیص ‘ شخصی پرکھ اور طبی معیار پر پورا اترنا۔
کسی بھی کیڈٹ کالج میں عموما داخلے کیلئے امیدواروں کی تعداد دس ہزار کے قریب اور چناو صرف دو سے تین سو کا ہوتا ہے۔ اس سے اندازہ لگا لیں کے وہاں پہنچنے والے امیدوار ایک انتہائی کڑی پرکھ سے گزرتے ہیں۔ وہ محنتی ‘ ذہین ‘ جسمانی فٹنس’ پہل کرنے کی ہمت ‘متجسس طبیعت ‘ متوازن رویوں ‘ امتیازی خوبیوں ‘ پر اعتماد ‘ تحریر و تقریر میں ماہر ‘ گروہ میں نمایاں ‘ اور کئی ایک انتظامی خوبیوں کا مجموعہ ہونے کے ساتھ ساتھ خوش قسمت بھی ہوتے ہیں۔

کیڈٹ کالج میں داخلہ ملنے کا مطلب یہی سمجھا جاتا ہے کہ بچے کا کیرئیر بن گیا۔ اب ماں باپ بھی فکر سے آزاد ہوجاتے ہیں کہ کچھ بن کر ہی نکلے گا۔ عموما کیڈٹ کالجز کو عسکری اداروں کی نرسری کی حیثیت حاصل ہے۔ یہاں سے پاس آوٹ کرنے والے بچے قریبا ننانوے فی صد بری ‘ بحری اور فضائی افواج میں کمیشن پاتے ہیں ۔ آئی ایس ایس بی میں جب سلیکشن کا عمل ہوتا ہے تو اس دوران اگر کسی سویلین تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل بچے کی باری کیڈٹ کالجز والوں کے ساتھ آجائے تو وہ اسے اپنی بدقسمتی ہی گردانتا ہے کیونکہ بہترین تربیت اور اعلی تعلیمی معیار کے باعث اور ان امتحانات کی مخصوص تیاری کے باعث اس کے انتخاب کی امید بہت کم ہوجاتی ہے۔

دس اگست کو راشد جو کہ محمد احمد کا والد ہے اور خود بھی پرائمری اسکول میں استاد ہے’ کو کالج انتظامیہ کی طرف سے ایک کال موصول ہوتی ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ اس کے بیٹے کو کچھ ہوگیا ہے اور وہ اسے ہسپتال لے کر جارہے ہیں ۔ بوڑھا باپ روتا چلاتا بھاگم بھاگ وہاں پہنچتا ہے اور کالج کی گاڑی ا سے راستے میں ہی مل جاتی ہے۔ محمد احمد اذیت سے چلا رہا ہے ‘ درد سے دوہرا ہو کر گٹھڑی بن رہا ہے۔ اذیت اس کر چہرے پہ نمایاں اور کرب نسوں کی صورت ابھر آیا ہے۔ آنسو چیخوں کے متبادل کے طور پر بہہ رہے ہیں ۔ تشدد کے نشان گردن ‘ جسم اور ٹخنوں پہ واضح ہیں۔ باپ دھائی دیتا ہے کس نے اس پھول کو مسلا ہے؟ہائے کون بے درد ہے جسے اس معصوم کی چیخیں بھی موم نہ کر پائیں ؟ کس درندے کا دل اس کے اشکوں سے نہ پسییجا؟

پر جواب دینے کو کوئی تیار نہیں۔ جواب تو کجا اس کے علاج کا بھی کوئی پوچھنے نہیں آیا۔
کون سی ایسی خطا سرزد ہوگئی ہوگی؟
کیا اس سے بھی کوئی توہین سرزد ہوگئی یا کسی اعلی معاشرتی قدروں کو اس نے روند ڈالا؟
محمد احمد اس وقت ذھنی و دہنی معذوری کا شکار ہو چکا ہے اور جسمانی طور پر اپاہج ۔
کرب کی انتہاء یہ ہے کہ وہ بول کہ اپنے باپ کو شکایت بھی نہیں لگا پایا کہ بابا مجھے فلاں نے مارا۔
وہ تو بین بھی نہیں کر سکتا کہ
بابا میرا جرم خواب تھے بابا اور تمھارا جرم بھی خواب ۔
اس تو اچھا تھا تم مجھے اپنے ساتھ درگاہ ماشوری کے سرکاری اسکول میں ہی رہنے دیتے۔ پچھلے بیس دن سے وینٹیلیڑ پہ سانسیں گنتا اور نالی سے خوراک لیتا فرشتہ نہ تو ہاوس انچارج جی ایم بھٹی کی زبان پہ لگا مصلحت کا تالہ کھلوا سکا اور نہ ہی پرنسپل لیفٹیننٹ کرنل (ر) افتخار حسین بلوچ کے دفتر کا دروازہ

محمد احمد شاید اب کبھی نہ بول پائے۔ شاید خوراک کی نالی سے خوراک بھی لمبے عرصے تک نہ لے سکے ۔ مگر وہ صرف ایک کام کر سکتا ہے جو وہ ظالم مسلسل کر رہا ہے۔
وہ مسلسل ملتجیانہ نظروں نے مجھے دیکھ رہاہے ‘ آپ کو دیکھ رہا ہے۔ بے حس معاشرے ‘ بے شرم حکومت اور بے غیرت ارباب اختیار کو دیکھ رہا ہے ۔
اس کی نظریں سیدھا سینے میں ترازو ہو رہی ہیں اور کلیجہ چیر رہی ہیں۔
سوچو
اگر ایسی ہی خالی اور ملتجیانہ نظریں لئیے تمہارا بچہ لیٹا ہوتا تو کیا کرتے ؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے