"نفرتیں”

مجھ سے اکثر لوگ یہ پوچھتے ہیں آپ تو مولوی نھیں پھر آپ کیوں یہ داڑھی ،ٹوپی اور شلواریں قمیزیں پہنتے ہیں۔

میں جب یہ سنتا ہوں تو محض ایک سوال معلوم نھیں ہوتا بلکہ ایک گہرے فکری عمل کی عکاسی کرتا ہے۔اسی کی جڑیں ہمارے شعور میں پنہاں ہیں۔اسی کے تحت ہماری نظریں جب کسی کو دیکھتی ہیں تو اس کی شخصیت پر پہلے سے قائم شدہ تصورات چسپاں کردیتی ہیں۔اس کی شناخت پر حکم لگاتے ہیں پھر اس کے مطابق معاملہ کرتے ہیں۔

یہ دو طرفہ مسئلہ ہے۔جہاں لباس افکار کے نمائندہ بن جانتے ہیں۔اور افکار سے اختلاف لباس سے نفرت میں ظاہر ہوتی ہے۔

جن لوگوں کو خاص مذہبی ماحول میں وقت گزارنے کا موقع ملا ہے وہ جانتے ہیں کہ علما اپنے مخصوص لباس تک میں کف یا شرٹ کالر کا استعمال بھی معیوب سمھجتے ہیں اور مغربی لباس زیب تن کرلینا تو گویا ایمان ہی کی موت کے مترادف ہے۔ بلکہ اگر اس ماحول میں کوئی یہ گستاخی کر بیٹھے تو نگاہیں اس کے لیے اجنبی ہوجاتی ہیں۔

اسی طرح بعض لوگ مغربی طرز لباس کو اپناتے ہیں وہ بالعموم ہر ڈاڑھی ٹوپی والوں کو ایک کند ذہن مولوی سمھجتے ہیں اور حقارت ہی کی نظر سے ہی دیکھتے ہیں۔

یہ دونوں رویے اصلاح کا تقاضہ کرتے ہیں۔
جدید پڑھے لکھے لوگوں کو مذہبی لوگوں کو یہ لیبرٹی دینی چاہیے کہ وہ اگر علما کسی لباس کو اپنی تہذیبی شناخت کے طور پر اپناتے ہیں تو انھیں اس کا حق دیں۔ اس لباس کو کسی تعصب سے ایسوسیئٹ نہ کریں ۔یہ ان کا حق ہے وہ جو چاہے پہنیں ۔اس بنیاد پر ان کی یا وہ لباس پہننے والے کسی بھی شخص کی شخصیت کو جج نھیں کرنا چاہیے۔

اسی طرح علما کو غور کرنا چاہیے کہ اگر وہ اسی دنیا کا حصہ ہیں تو اپنے آپ کو "ایلین” نہ بنائیں۔لباس کی بنیاد پر انسانوں کی دین دوستی یا دشمنی کا فیصلہ نہ کریں۔اور ان تمام لوگوں کے لیے بھی دل میں حقیقی احترام رکھیں جو ان سے مختلف جامہ زیبی کرتے ہیں۔ان مقام بلند ہے۔انھیں ہر لباس والے کے لیے سراسر محبت اور شفقت ہونا چاہیے۔ ان کا کام ہر ایک تک دین پہنچانا ہے۔اسے بڑے مشن میں لباس کو حجاب نہ بنائیں۔

باقی ہمارے نزدیک دین نے لباس کے حوالے سے صرف اخلاقی ہدایات دی ہیں۔دین نہ کہتا ہے ٹوپی پہنو ،نہ کہتا ہے پینٹین نہ پہنو۔وہ اخلاقی رہنمائی کرتا ہے ۔وہ بتاتا ہے لباس ساتر ہونا چاہیے۔اندیشے کے مقام چھپے ہوں۔اس میں تکبر کا پہلو نہ ہو۔ اس کے بعد یہ میں نے اور آپ نے طے کرنا ہے ہم جس ثقافت میں رہتے ہوں جو موسم کے مطابق سمھجتے ہیں۔ اپنی مرضی کے لباس پہن سکتے ہیں۔اس کا دین سے کوئی تعلق نھیں۔
البتہ دین نے جو چیز حرام قرار دی ہے وہ نفرت ہے۔دوسروں کے بارے میں بد گمانی ہے۔تعصب ہے ۔حکم لگانا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے