موروثی سیاست اور بونوں کا راج

بھارتی جارحیت تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا جوابی فائرنگ، ہائی کمشنر کی طلبی، اسمبلی کی قراردادوں اور بلند و بانگ جوابات سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہم دنیا میں تنہا ہو چکے ہیں مگر اس کا اقرار کرنے سے گریزاں ہیں، بھارت کی جارحانہ سفارتکاری ہمارے سچ کو بھی جھوٹ میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہے، بھارت نہایت کامیابی کے ساتھ پاکستان کو دوست اور حلیف ممالک سے بھی علیحدہ کر چکا ہے، نواز حکومت کو ساڑھے تین سال میں اتنی فرصت نہ ملی کہ کوئی وزیر خارجہ مقرر کیا جا سکے یا یوں کہیئے کہ کوئی شخصیت نہ ملی، نتیجہ بہرحال یہی ہونا تھا، اب بھارت کی سرحدی جارحیت ہو یا معاشی محاذ آرائی، آبی جنگ ہو یا سفارتی میدان بھارت ہر محاذ پر دبائو بڑھاتا جا رہا ہے مگر پاکستان کیلئے عرب اور مسلم ممالک سمیت کوئی آواز نہیں اٹھتی

غلطیوں کو سدھارا جا سکتا ہے بشرطیکہ غلطی کو تسلیم جائے، ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ غلطی اور ناکامی کو بھی عظیم کارنامہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے یہ کیسی سیاست ہے، ذرا کسی حکومتی نمائندے سے سفارتی محآذ کی ناکامی یا وزیر خارجہ کی عدم دستیابی کی بات چھیڑ کر دیکھیں، سب سے پہلے تو آپ کو جاہل قرار دیا جائیگا اور ساتھ ہی سی پیک اور موٹر وے کی تعمیر کو سفارتی کامیابیوں کی معراج بتا کر معاملہ خردبرد کرنے کی بے مثال صلاحیت دکھائی جائیگی، بڑھتی بھارتی جارحیت پر ہر شہری پریشان ہے اگر نہیں ہے تو حکومت، ہر روز لائن آف کنٹرول پر فوجی اور شہری مارے جا رہے ہیں ہمارے پاس جواب میں بیانات، احتجاج اور فسانہ طرازی ہے، بلکہ اب تو یہ شروع ہو گیا ہے کہ بھارتی نقصان کا تخمینہ بھی ہم ہی پیش کر دیتے ہیں، خس کم جہاں پاک، فہماری دنیا ہی علیحدہ بس چکی ہے اور پھر گلہ یہ ہے کہ عالمی قیادت ہماری شکایت نہیں سن رہی، فسانہ طرازی اور خوش فہمی ریت کی قلعے جیسی ہوتی ہے جسے حقیقت کی ہوا کا ایک جھونکا تہس نہس کر دیتا ہے

اس سے پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اب دشمنی کا اظہار صرف روایتی جنگ تک محدود نہیں بلکہ معاشی، سفارتی اور دیگر میدانوں میں دشمن کے خلاف بھرپور جنگ چھیڑی جاتی ہے، مودی سرکار اسی پالیسی پر گامزن ہے، بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت ایسا کوئی موقع نہیں جانے دیتی جہاں پاکستان کو زک پہنچائی جا سکے، اس وقت صورتحال سنگین ہو چکی ہے پاکستان کے پڑوسی مسلم ممالک کی ہمدردیاں اور مفادات بھی بھارت کیساتھ ہیں جیسے ایران اور افغانستان، رہی بات چین کی تو سی پیک یقینی طور پر گیم چینجر منصوبہ ہے مگر یہ چین کی قومی ترجیح ہے، خطے کے دیگر ممالک بنگلہ دیش، سری لنکا سمیت ہمارے کسی ملک سے قریبی تعلقات نہیں، عرب ممالک میں بھی مودی سرکار کی ڈپلومیسی کامیاب رہی ہے، عرب اور مسلم ممالک کشمیر میں بھارتی بدترین درندگی پر چب سادھے ہوئے ہیں، یہ وہ روایتی حلیف ہیں جو ماضی میں پاکستانی موقف کی بھرپور حمایت کرتے رہے، مگر وہ پاکستان بھی مختلف تھا ماضی میں مسلم امہ عالمی مسائل میں پاکستان کی جانب دیکھتی تھی مگر اب صورتحال بالکل برعکس ہے اسکے باوجود ہم حقیقت کا سامنا کرنے کو تیار نہیں

دنیا کا الزام ہے کہ پاکستان میں موجود شدت پسند اور دہشتگرد بیرون ملک کارروائیوں میں ملوث ہیں اور پاکستان تمامتر کوششوں کے باوجود موثر کارروائی میں کامیاب نہیں ہو سکا یا باالفاظ دیگر پاکستان بعض دہشتگرد عناصر کی پشت پناہی کر رہا ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں مگر کیا گڈ اور بیڈ طالبان کی پالیسی ختم ہو گئی، کیا حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی ہوئی، کیا جماعت الدعوہ/لشکر طیبہ، جیش محمد، جنداللہ کے خلاف کوئی موثر کارروائی کی گئی، جو اقدامات اور جوابات ہمارے پاس ہیں اس سے غیر تو کیا اپنے بھی مطمئن نہیں، ایک جانب دنیا کا ہم پر اعتبار ختم ہوا ہے تو دوسری جانب مودی سرکار نے جارحانہ سفارتکاری کے ذریعے ہمیں تنہا کرنے میں کامیاب نظر آتی ہے، جو رہی سہی کسر تھی وہ ہمارے اپنی مشکوک پالیسیوں، نام نہاد اسٹریٹیجک اثاثوں اور بے سمت خارجہ پالیسی نے پوری کر دی ہے، پٹھانکوٹ ہو یا اڑی سیکٹر الزام پاکستان پر ڈال دیا جاتا ہے حتیٰ کہ بھارتی کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کی وجہ بھی پاکستان کو قراردیا جا رہا ہے، ہماری گونگی خارجہ پالیسی اور اندھی حکمت عملی نے ایسے سنگین موڑ پر لا کھڑا کیا ہے بقول پروین شاکر

میں سچ کہونگی مگر پھر بھی ہار جائونگی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دیگا

ایسا کیوں اور حل کیا ہے، پہلی بات کا جواب یہ ہے کہ اگر پاکستان میں قابل لوگ پیدا ہونا بند نہیں بھی ہوئے تو کم از کم اوپر آنا ضرور بند ہو گئے، اعلیٰ تعلیم یافتہ، با صلاحیت اور ذھین لوگ کم نہیں مگر یا تو وہ ملک سے باہر ہیں یا پھر دربدر بھٹک رہے ہیں، ذھین لوگ موروثی سیاست میں نہیں پنپ سکتےاور اس میں تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی سیاست میں بونوں کا راج ہے، ماضی پر نظر ڈالیں تو وزرا خارجہ کی قطار میں سر ظفر اللہ، منظور قادر، ذوالفقار علی بھٹو، آغا شاہی، صاحبزادہ یعقوب جیسی قدآور شخصیات نظر آتی ہیں، یہ معاملہ صرف خارجہ امور تک محدود نہیں المیہ ہے کہ ماضی کے مقابل ہر میدان میں ہمارے پاس قابل اور ذھین شخصیات کا کال پڑ چکا ہے، موروثی سیاست درحقیقت قابلیت اور صلاحیت کی قاتل ہوتی ہے اور نتیجے میں بونے ہی کاروبار ریاست پر چھا جاتے ہیں

اب رہی دوسری بات کہ حل کیا ہے، اس سے پہلے میں وضاحت کرتا چلوں کہ ن لیگ، پی پی، تحریک انصاف سمیت کوئی سیاسی و مذہبی جماعت یا شخصیت ملکی مفاد سے بالاتر نہیں، پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ مفاہمتی سیاست اور قیادت سب دیکھ چکے ہیں، نواز شریف خارجہ معاملات کو ذاتی اور خاندانی طرز پر چلانے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں، عرب ممالک سے خاندانی تعلقات، ترک صدر طیب اردووان سے برادرانہ تعلق، نریندر مودی سے تعلقات کے حوالے سے بھی کڑی تنقید کی زد میں رہتے ہیں، ذاتی اور برادرانہ تعلقات میں کوئی حرج نہیں ماضی میں بیشتر حکمرانوں کے عالمی قائدین سے ایسے تعلقات رہے ہیں، ایوب خان، بھٹو، بینظیر، ضیاالحق مگر ایک باریک فرق یہ ہے کہ ذاتی اور ریاست کے تعلقات میں بہرحال تفریق ہوتی ہے، پھر یہ بات بھی اہم ہے کہ مذکورہ رہنمائوں کے کاروبار بھی بیرون ملک نہیں تھے

لمبی چوڑی مثالیں دینے کی کیا ضرورت ہے خطے میں بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک ہم سے آگے نکل گئے، بنگلہ دیش بھی جمہوریت اور آمریت کی جنگ لڑتا اور سری لنکا نے تامل باغیوں کے دہشتگردی کے خلاف طویل جنگ لڑ چکا ہے اور اب دونوں معاشی طور پر مستحکم ممالک ہیں، پاکستان زیادہ وسائل کے باوجود کہیں پیچھے رہ گیا ہے، غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے والی قوموں کے پاس مستقبل نہیں صرف ماضی کی داستانیں ہوتی ہیں، سیاست اور حکومت ملکی مفاد سے بالاتر نہیں، پاکستان ہے تو سیاست بھی ہے کاروبار بھی، بھارت کے خلاف ہمیں ہر محاذ پر کڑی جنگ لڑنی ہے اب بھی ہاتھ نہ روکا تو ہندو انتہا پسندی پورے خطے کو برباد کر ڈالے گی، بونوں کی سیاست نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا حقیقت ہے کہ پاکستان اندرونی اور بیرونی جنگ لڑ رہا ہےلیکن اپنی بقا کیلئے موروثی سیاست سے چھٹکارا اور باصلاحیت اور قابل قیادت کیلئے بھی ایک بڑی جنگ ناگزیر ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے