یونیورسٹیوں میں جوڑے

سوات یونیورسٹی کے بعدہزارہ یونیورسٹی نے بھی تعلیم کے حصول کیلئے یونیورسٹی آنے والے طلبہ و طالبات کو یونیورسٹی کے احاطہ میں جوڑے بن کر الگ الگ بیٹھنے سے منع کردیا ہے۔۔ سوات یونیورسٹی اور سرگودھا میں بھی ایسے احکامات جاری ہوئے اور ان پر کافی حد تک عمل درآمد بھی کرایا گیا ۔۔ ہزارہ یونیورسٹی کے گارڈن میں ایک بورڈ بھی آویزاں کیا گیا ہے جس پر واضح لکھا ہے ۔۔،Gender mixing not allowed، یعنی ،صنفی اختلاط کی اجازت نہیں،، ۔۔۔خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے کئے جائیں گے۔۔۔یقینا روشن خیالوں کیلئے یہ ایک بری خبر ہے ۔ اس پر طرح طرح کے تبصرے ہوں گے، پابندی کو اسلامی شعار سے جوڑ کر مزاق بھی کیا جائے گا۔۔ یہ آراء بھی سامنے آئیں گی کہ دنیا آگے کو جارہی ہے ہم پیچھے کو جارہے ہیں۔۔۔ یہ بھی ممکن ہے سوات کے بعد مانسہرہ میں ایسی پابندی کو پی ٹی آئی سے جوڑ دیا جائے۔۔ لیکن سچ یہ ہے جس نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے ۔۔ خواہ یہ وائس چانسلر کے احکامات ہیں یا یونیورسٹی انتظامیہ کے۔۔ لائق تحسین ہیں۔۔

یونیورسٹی میں طلبہ و طالبات کے جوڑوں کی شکل میں محافل جمانے ۔۔ گارڈن میں گومنے پھرنے ۔۔ یا کلاسز ختم ہونے کے بعد کلاس رومز میں ہی نجی معاملات لے بیٹھنا کسی بھی طور درست نہیں ہیں۔۔۔وہ اس لئے بھی کہ ملک میں خواتین کیلئے الگ جامعات نہ ہونے کے باعث ولدین مجبوراً بچیوں کو علم کے حصول کیلئے مخلوط تعلیم کیلئے بھیجتے ہیں۔۔ اصل مقصد تعلیم حاصل کرنا ہوتا ہے۔۔ کلاسز میں ساتھ بیٹھ کر لیکچرز لینا۔۔ لائبریز یا کلاسز کے اندر گروپس کی شکل میں کام تو سمجھ آتی ہے۔۔ لیکن گارڈنز میں محافل۔ ہوٹلوں پر کھانے پینے کے بہانے لمبی بیٹھکیں۔۔ گاڑیوں میں گومنا۔۔ اور سب سے بڑھ کر کلاس فیلوز کے بہانے تمام کلاس فیلوز لڑکوں اور لڑکیوں سے سوشل میڈیا پر بھی رات دن ٹچ رہنا ۔۔۔ سوشل میڈیا کے گروپ بنا لینا۔۔ اور اسے سیکھنا یا جدید تقاضے قرار دے کر اخلاقیات کی حدیں عبور کر جانے کو مخلوط تعلیم کی ضرورت یا جدت نہیں کہا جا سکتا۔۔۔میرے خیال میں فیصلے کو غلط کہنے والے کبھی بھی اپنی بہن بیٹیوں کو ایسے لڑکوں کے ساتھ وقت گزارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ نہ ہی بچوں کو اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ پڑھنے کیلئے یونیورسٹی جائیں اور لڑکیوں کے ساتھ دوستیاں شروع کردیں۔

اگر یہ پوچھا جائے کہ وہ خود ان متذکرہ محافل کیلئے اپنی بیٹیوں کو اجازت دیں گے تو یقینا جواب نفی میں ہی آئے گا۔۔ اس لئے ضروری ہے کہ جب ہم اپنے بچوں ، بہن بیٹیوں کیلئے یہ پسند نہیں کرتے کہ وہ یونیورسٹی میں کلاسز کے علاوہ لڑکوں کے ساتھ پارکوں یاہوٹلوں میں بیٹھ کر وقت گزاریں۔۔۔ سوشل میڈ یا پر رات دن موبائل پر کلاس فیلوز سے ہی مصروف رہیں۔۔ تو پھر دوسروں کیلئے بھی ایسی ہی سوچ رکھنی چایئے۔۔۔ آج کل تو یونیورسٹی کے ٹیچرز بھی سوشل میڈیا پر ہی نظر آتے ہیں۔۔ میں ایسے متعد د روشن خیالوں کو جانتا ہوں جو خود تعلیمی اداروں ، دفاتر میں ۔۔ صحافت میں ۔یا دیگر شعبوں میں خواتین کی آزادی کے حامی ہیں۔۔این جی اوز کی معاشرہ بگاڑو واکس کا حصہ بھی بن جاتے ہیں۔۔ سوشل میڈیا پر تو عورتوں کی آزادی اور مردوں کے برابر حقوق اور شانہ بشانہ چلنے کے زبر دست حامی ہوتے ہیں۔۔ اٹھتے بیٹھتے ان آزادی کا نہ صرف پرچار بھی کرتے ہیں بلکہ عورتوں کے حقوق اور آزادی کیلئے مرے جارہے ہوتے ہیں لیکن کسی محفل میں، فنگشن میں۔۔ کولیگز کی شادیوں میں ۔۔ اہم تقریباً میں بھی ان کی اپنی عورتوں ساتھ نظر نہیں آتیں۔۔۔

ایک صاحب سے میرا اکثر اس حوالے سے مکالمہ ہوتا رہتا تھا کہ وہ لڑکیوں کے مردوں کے ساتھ کام کرنے ، عورتوں کے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کی ہر وقت وکالت کرتے رہتے تھے۔۔ان کی فیس بک کی ٹائم لائن عورتوں کے حقوق کیلئے پوسٹ سے بھری ہوتی تھی ۔۔ ایک دن صحافیوں کے ایک فیملی فنگشن پر میرا ان سے آمنا سامنا ہوا۔۔ میں نے پوچھا بھابھی ساتھ نہیں آئی ہیں ؟ کہنے لگے یار تمہیں پتہ ہے صحافیوں کا یہ تو جسے دیکھتے ہیں ان پر تبصرے کئے بغیر نہیں رہ سکتے اس لئے میں تو بیوی کو کبھی ایسے فنگشنز میں نہیں لاتا ۔۔۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا جناب آپ تو عورتوں کے برابر حقوق کے علمبردار ہیں اور گھر میں پابندیاں لگا رکھی ہیں۔۔ وہ پہلے تو چپ ہو گئے ۔۔ پھر کھسیانی سے ہنسی ہنس کر کہنے لگے کہ آپ کو پتہ ہے ہم دیہاتی بیک گراونڈ کے لوگ ہیں وائف کو ساتھ لایا تھا لیکن اندر نہیں لایا باہر پارکنگ میں گاڑی میں بیٹھی ہے بچی بھی اور اس کی اماں بھی ۔۔۔۔۔

مجھے روشن خیالی کے اس دعویدار دوست کاموقف سن کر اس لئے حیرت ہوئی کہ ان کی ساری روشن خیالی اور وں کیلئے تھی۔۔۔ہمارے ملک میں خواتین کیلئے الگ یونیورسٹیوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے ۔۔ فاطمہ جناح یونیورسٹی اس کی ایک عمدہ مثال ہے ۔۔ لیکن جب تک ہم اس ہدف کو حاصل نہیں کرسکتے ۔۔ اور مخلوط تعلیم پر مجبور ہی ہیں تو پھر طلبہ اور طالبات کے یونیورسٹیوں میں جوڑے بن کر گومنے پھرنے ۔ تخلیئے ڈھونڈنے ایسے غیر اخلاقی اقدار کی حوصلہ شکنی کی مخالفت نہیں کرنی چایئے۔۔جیسے ملک بھر کی سڑکوں پر رکھی رکاوٹوں کو ہم یہ کہہ کر برداشت کرلیتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہماری ہی سکیورٹی کیلئے کیاجارہا ہے توایسے ہی سمجھ لیں کہ یہ پابندی ہمارے ہی بچوں کو اخلاقی بیراروی سے بچانے کیلئے ہے ۔۔ ہاں البتہ ہزارہ یونیورسٹی میں ،،صنفی اختلاط ،، کی پابندی موثر بنانے پر مامورپراکٹرز پہ بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اس پابندی کے بہانے طلبہ و طالبات کو بلیک میل نہ کرنے لگ جائیں۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے