سرد موسم کی سلگتی یادیں

دسمبر۔۔۔جسے شاعروں نے سرد موسم میں رومان کی حدت میں اضافے کا مہینہ قرار دیا ہے۔ شاعر کی آنکھ برف کی سفید چادر اوڑھے پہاڑوں اور وادیوں کو دیکھتی ہے تو عشق و محبت کی نظمیں جنم لیتی ہیں۔ ملن کے گیت لکھے جاتے ہیں۔

پہاڑوں پر بیٹھا فنکار رباب پر پیار محبت اور امن کی دھنیں چھیڑ دیتا ہے۔ یہ مسحور کن دھنیں سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں۔ یہی دسمبر تھا۔ شاعر گیت لکھ رہا تھا۔ فنکار دھنیں بجارہا تھا۔ سیاح محوِ رقص تھے۔ چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے۔

مسکراہٹیں بکھر کر امن کا پیغام دے رہی تھیں۔ نہ جانے اچانک کیا ہوا کہ شاعر کا قلم رُک گیا۔ قلم سے روشنائی کی جگہ لہو کے قطرے بہنے لگے۔ رباب کے تار سے فنکار کی انگشت گھائل ہوگئی۔ سیاحوں کا زندگی سے بھرپور رقص موت کا رقص معلوم ہونے لگا۔

خوشی سے تمتماتے چہروں پر غم کے سائے منڈلانے لگے۔ مسکراہٹوں کی جگہ بین کرتی آوازوں نے لے لی۔ رگوں میں دوڑتا لہو جم سا گیا۔ وقت اپنی جگہ تھم سا گیا۔ وقت کیوں نہ رُکتا۔ وقت جب سے پیدا ہوا ہے سفاکی کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔

وقت زندگی کی معراجوں کا چشم دید گواہ بھی ہے اور موت کی رقاصہ کا مستقل و عادی تماش بین بھی۔ مگر کچھ اندوہناک واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے وقت کا کلیجہ بھی چاک ہوجاتا ہے۔ یہی دسمبر تھا جب اے پی ایس پشاور میں معصوموں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔

محبت کے نغمے لکھنے والے شاعر کو یہ ترانہ لکھنا پڑا کہ بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے ڈرتا ہے۔ دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا وعدہ بھی کیا گیا۔ رنج و الم میں ڈوبی قوم کو نغموں سے بہلا دیاگیا۔ آج بھی یہ قوم دشمن کے ہر حملے کے بعد کسی نئے نغمے کی منتظر رہتی ہے۔

مگر بدقسمتی سے ہمارا نغمہ گو بھی ایسے واقعات کا عادی ہوچکا ہے لہذا نئے نغموں نے بھی جنم لینا چھوڑ دیا۔ پروفیسر عنایت علی خان کے شعر،حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا۔۔ لوگ ٹہرے نہیں حادثہ دیکھ کر والا معاملہ تواتر کے ساتھ رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے ساتھ بھی ہے۔

ایک بے حس قوم کی مانند ہم ان واقعات کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ اب وقت بھی نہیں تھمتا۔ آنسو کمیاب ہوچکے۔ نوحوں اور مرثیوں کے لئے الفاظ اور احساسات کا قحط پڑچکا ہے۔ جہاں قسمت کو قتل کردیا جائے وہاں بدقسمتی کا رونا رونے کا کوئی جواز نہیں اور احساسات کا قحط پڑجانا فطری امر ہے۔

اس بدقسمت معاشرے میں اب یہ روایت پڑچکی کہ ہر دہشت گردی کا واقعہ معمولی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ کسی سپہ سالار کا وقت پر ریٹائرمنٹ لینے پر راضی ہوجانا ایک غیر معمولی واقعہ تصور کیا جاتا ہے۔

اسی طرح کوئی منتخب حکومت اگر اپنی معیاد پوری کرلے تو وہ بھی ایک غیر معمولی واقعہ کہلاتا ہے۔ دسمبر ہمیں ایک اور سانحے کی بھی یاد دلاتا ہے۔ جب اس ملک کے ایک حصے کو کاٹ کر پھینک دیا گیا تھا۔

سقوطِ ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس کا ایک ہی تاریخ پر وقوع پذیر ہونا بھی ایک معمہ ہے۔ یہ بھی ہمارا طرہ امتیاز ہے کہ ہر رخصت ہونے والی حکومت یا سپہ سالار کے نامہ اعمال پر خون کے دھبے ضرور ہوتے ہیں۔

قصیدہ گو چاہے ان دھبوں کو چھپانے کی لاکھ کوشش کریں مگر تاریخ ان دھبوں کو دیکھ لیتی ہے۔ اب ایک دسمبر کا کیا رونا کہ ہر ماہ دسمبر ہے۔ ماضی یعنی تاریخ کا چہرہ اگر مسخ کردیا جائے تو نہ صرف حال کی شکل بگڑجاتی ہے بلکہ مستقبل کے خدوخال بھی مبہم ہوجاتے ہیں۔ جن قوموں کا ماضی محفوظ نہیں رہتا اُن کا حال اور مستقبل کیسے محفوظ ہوسکتا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا شاعر جنگ و نفرت کے ترانوں کی بجائے امن و محبت کے گیت لکھے تو ہمیں اپنے ماضی کو نئی آنکھوں سے دیکھنا ہوگا اور پرانی آنکھوں میں نئے خواب سجانے ہونگے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے