ٹرمپ کی جیت سےپریشانی کیوں؟؟

گزشتہ دو دہائیوں سے مسلمانوں اور خصوصاً مذہبی طبقوں، دینی جماعتوں ،مدارس اسلامیہ اور اسلامی نظریات رکھنے والی عالم اسلام کی سیاسی جماعتوں کے خلاف مغرب اور خصوصاً امریکہ اس پروپیگنڈے میں فرنٹ لائن پرشوروغل مچاتا رہا کہ مسلمان اور مذکورہ بالا جماعتیں انتہا پسندی ،تعصب ،نسل پرستی اور نفرت کی سیاست کو فروغ دے رہی ہیں، جس سے امن عالم کو شدید خطرات لاحق ہیں،پھر اسی مفروضے کو بنیاد بنا کر گزشتہ پندرہ بیس برس سے عالم اسلام کے کئی ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور دن رات مختلف محاذوں پر اس کے خلاف کسی نہ کسی حوالے سے تادیبی کاروائیاں تادمِ تحریر جاری ہیںگوکہ مسلمانوں اور ہمارا موقف شروع دن ہی سے یہی تھا کہ خود مغرب اس سلسلے میں دوہرے معیار کا شکا رہے اورخود اس کے معاشرے میں انتہا پسندی ،نسلی امتیاز ،نفرت اور تعصب سب سے زیادہ ہے ،جس کی زندہ جاوید مثال امریکہ کے حالیہ الیکشن میں بھارت نواز ریپبلکن پارٹی کے غیر سنجیدہ ،منتقم مزاج امیدوار ، نسلی امتیاز کے علمبردار اور متعصب ڈونلڈ ٹرمپ جیسے اسلام دشمن بلکہ انسانیت بیزار پرسنالٹی کی اکثریت کیساتھ الیکشن میں جیت کی صورت میں نمودار ہوئی جوصرف مسلمانوں کیلئے نیک شگون نہیں بلکہ ساری دنیا کیلئے خطرے کی گھنٹی اور لمحہ فکریہ ہے ۔

ٹرمپ نے الیکشن میں اسلام اوردیگر مختلف طبقات کے خلاف انتہائی گھٹیا ،شرمناک ،زہریلی اور خطرناک زبان اورالزامات کی بھرمار پر مبنی صدارتی مہم چلائی جس کی اس سے قبل دنیا بھر میں کوئی نظیر نہیں ملتی، دنیا بھر کے تھنک ٹینکس اور میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ہیلری کلنٹن کو کامیاب قرار دے رہے تھے، لیکن اس کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ،امریکیوں کی اصل سوچ اوراس کے مکروہ چہرے (جو ”جمہوریت” اور ”انسانی حقوق” جیسے خوشنما نقابوں میں چھپا ہوا تھا)کو پوری طرح بے نقاب کردیا۔ ٹرمپ کی یہود نوازسوچ مسلمانوں اور عالم اسلام کے خلاف تو اول دن ہی سے عیاں تھی لیکن اس کیساتھ ساتھ یورپ ،چائنااور خود امریکہ کی کئی ریاستوں اور امریکہ کی سیاہ فام آبادی کے خلاف بھی اسکے فاشسٹ نظریات سے دنیا حیران و پریشان ہے ۔ اس الیکشن سے ایک بات واضح ہوگئی کہ انتہا پسندی اور نفرت وتعصب کا گڑھ مغرب اور امریکہ ہے۔(اس سے قبل برطانیہ میں یورپی یونین سے علیحدگی کے ایشو پر ریفرنڈم ہوا جس میں پچاس برس سے زائد عمر کے متعصب نسل پرست برٹش قوم کے افراد نے یہ فیصلہ کیا کہ برطانیہ فوراً یورپی یونین سے الگ ہوجائے)اس ریفرنڈم سے بھی مغرب کی نسل پرستانہ سوچ واضح ہوئی۔

اس حیران کن الیکشن سے دنیا بھر میں خوف اور وحشت کی فضا قائم ہوگئی ہے،کیونکہ ٹرمپ نے امریکہ میںمقیم لاکھوں مسلمانوں کے خلاف کاروائیوں کا عندیہ دے دیا ہے اور اس نے اپنی کابینہ کے لئے ایسے خطرناک بدنام ترین فاشسٹ نظریات رکھنے والے متعدد افراد کا انتخاب بھی کرلیا ، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسکے ارادے عالم اسلام اور پوری دنیا کے لئے ٹھیک نہیں ہیں اور امریکی اسٹیبلشمنٹ عالم اسلام کے کئی ممالک پر چڑھائی کا ارادہ اب بھی پہلے سے زیادہ رکھتی ہے۔اسکے الیکشن کے بعد امریکی معاشرہ کئی دھڑوں میں واضح منقسم ہوگیا ہے اور اب وہاں پر نسل پرستی کا جن بے قابو ہونے کو ہے۔ اب کئی حلقے ڈونلڈ ٹرمپ کو روسی صدر گورباچوف سے بھی تشبیہ دے رہے ہیں کہ جس طرح روسی صدر نے اپنی پالیسیوں سے متحدہ سوویت یونین کو منقسم کردیا تھا اسی طرح ٹرمپ بھی امریکہ کی پچاس سے زائد اسٹیٹس کو اپنی پالیسیوں کی وجہ سے بالآخر منقسم کردیگا اور اسی طرح ٹرمپ کو بھارتی متعصب نسل پرست ہندو وزیراعظم نریندر مودی سے بھی تشبیہ دے رہے ہیں کہ وہ بھی مودی کی طرح مکمل اسلام کی بربادی کا ایجنڈا رکھتا ہے۔

اسی طرح نام نہاد لبرل امریکی معاشرہ نے یہ بھی ثابت کردیا کہ عورت امریکی صدارت کی اعلیٰ مسند کبھی بھی حاصل نہیں کرسکتی،اسلئے بھی ہیلری شکست سے دوچار ہوئی۔ پھر امریکی سیاہ فام باراک اوبامہ کی وائٹ ہاؤس میں کرسی صدارت پر بھی کئی سالوں سے ناراض بلکہ غصے سے بھرے ہوئے تھے کہ ایک سیاہ فام ”غلام نسل” کا صدر کا وائٹ ہاؤس میں اتنا عرصہ کیسے گزار کر ان کے سینے پر مونگ دَلتا رہا، اسی نسلی امتیاز کے نکتے پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ زیادہ پڑے۔امریکہ کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت عالم اسلام سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، اس الیکشن کے نتائج واثرات بہت جلد اس کے کمزور معاشرے اور سیا سی و معاشی نظام پر مرتب ہونا شروع ہوجائیں گے۔ باقی پاکستان اورعالم اسلام کیلئے ہیلری کیا مفید ثابت ہوسکتی تھیں؟ توا س کیلئے بھی زیادہ ماضی میں جھانکنے کی ضرورت نہیں کیونکہ عالم اسلام کے کئی ممالک افغانستان،شام،عراق، لیبیا بشمول پاکستان وغیرہ کی موجودہ حالت ِ زار اسی ڈیموکریٹس پارٹی اورا سکے صدارتی امیدواروں بل کلنٹن، باراک اوبامہ اور خود سابقہ امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن ہے،پاکستان اورعالم اسلام کی دشمنی میں یہ دونوں پارٹیاں ایک ہیں،فرق صرف یہ ہے کہ ہیلری کلنٹن ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلہ میں چھوٹی برائی تھی۔دوسری جانب ٹرمپ نے اسرائیل اور بھارت کو اپنا فطری حلیف قرار دیا ہے اور امریکی صدارتی مہم کے دوران اس نے جو عزائم عالم اسلام کے خلاف بیان کئے تھے اس پر وہ مستقبل میں عمل درآمد کرتا نظر آرہا ہے،اب عالم اسلام کے حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ اس الیکشن کے بعد بھی منتشر اور خواب غفلت کا شکار رہیں گے یا ان کے جگانے کیلئے صور اسرافیل بجایا جائے؟
ع کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے