کیا یہی عشق رسول ﷺہے؟

ماہِ ربیع الاوّل کے سایہ فگن ہوتے ہی ہر مکتبہِ فکر کے افراد اپنے اپنے عقائد اور نظریات کے مطابق اپنے نبی ﷺسے عقیدت و وابستگی کا مختلف طریقے سے اظہار کرتے ہیں۔ محبت و عقیدت کا یہ مظاہرہ ایک یوم یا زیادہ سے زیادہ ایک مہینے کے لیے مخصوص کر لیا گیا ہے وہ بھی ایسے نت نئے طریقوں سے جن کا کوئی ثبوت کوئی حوالہ دورِنبوّت، خلفائے راشدین اور اسلامی تاریخ میں نہیں ملتا۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں مسلمان 12ربیع الاول کو نبی کریمﷺ کا جشن ولادت مناتے ہیں۔

مصّر کے مشہور ہیئت دان عالم محمود پاشا فلکی نے دلائل ریاضی سے ثابت کیا ہے کہ آپﷺ کی ولادت 9 ربیع الاول بمطابق20 اپریل 571 ء میں ہوئی اس ربیع الاول میں جتنے بھی پیر گزرے ہیں ان میں سے 12 ربیع الاول کو کوئی پیر تھا ہی نہیں بلکہ پہلا پیر 2 ربیع الاول اور دوسرا پیر 9 ربیع الاول کو تھا۔ چشم پوشی سے کام لیتے ہوئے اگر مان بھی لیا جائے کہ آپ ﷺ کی ولادت با سعادت12 ربیع الاوّل کو ہی ہوئی تھی تب بھی دورِ نبوی اور خلفائے راشدین کے ادوار سے اس دن کو جشن عید میلاد النبی کے نام پہ منانے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

اللہ تعالی نے جب نبی ﷺ کی امت پر اپنا احسان جتلایا تو ان الفاظ میں کے ” بے شک اللہ نے مومنوں پر احسان کیا ہے کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایاجو انہیں آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے یقیناَ یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے” ( آلِ عمران ۴۶۱)

ربِ کائنات عالم الغیب ہے ، وہ جانتا تھا کہ چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن کی محبت صرف زبانی دعوؤں اور ربیع الاول تک محدود ہو جائے گی ، اس لیے پہلے ہی ایمان والوں کو ہر وقت محبت کرنے کا حکم دیا اور ان الفاظ میں دیا ” اللہ اور اس کے فرشتے آپﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجتے رہا کرو” (الاحزاب ۶۵)

کائنات میں آنے والے بہترین انسان اصحابِ رسول ﷺہیں جن کی محبت کا یہ عالم تھا کہ آپﷺ کے وضو کے پانی کو زمین پر نہ گرنے دیتے ، آپ ﷺ کی زبان سے نکلنے والے الفاظ پر قربان ہونے کے لیے بے قرار رہتے ، اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کو اسوہِ رسول ﷺ کے مطابق بسر کرتے ، آپ ﷺ کی پکار پر ”میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان” کہتے ہوئے لبیک کہتے، انہوں نے موتہ سے قادسیہ تک تلواروں کی جھنکار اور نیزوں کی نوک تلے اطاعت رسول ﷺ کی داستانیں رقم ہیں

محبت رسول ﷺ میں خنساء جیسی ماؤں نے چار چار بیٹوں کو دیوانہ وار قربان کیا ، عمارہ جیسی بیٹیوں کی والہانہ محبت نے احد کے رستوں پر چل کر آپﷺ کا دفاع کیا ، سمعیہ جیسی مومنات نے ابو جہلوں کی فرعونیت پر طمانچے رسید کیے۔ حیرت ہے آقائے کریم ﷺ کی تریسٹھ سالہ زندگی میں آپﷺ کے جانثار صحابہ کو آپﷺ سے محبت کے اظہار کے لیے کبھی’’ عید میلادالنبی ‘‘کا سہارا نہیں لینا پڑا ، کسی نے جشنِ ولادت کے نام پہ بھنگڑے نہیں ڈالے، آپﷺ پر اپنے خاندان قربان کرنے والوں نے کبھی شانِ مصطفیﷺ کو طبلے اور سارنگی کی تھاپ پر عرشِ بریں سے ماورا ثابت نہیں کیا کسی مخصوص طبقے کی مسجد بنا کے سرخ، سبز اور ہرے پرچم نہیں لہرائے پھر بھی قرآن ان کے بارے میں شاہد ہے ”رَضِیَ اللّہ عَنھْم وَ رَضْو عَنہْ( البینہ ۸)۔

فتنوں کے اس دور میں جب الفاظ اپنے معنی کھو چکے ہیں ، ہماری اقدار بدل رہی ہیں ، نیکی بدی کے پیمانے بدل چکے ہیں ، اللہ اور اس کے رسول کی باتیں کرنا دقیانوسی اور اولڈ فیشن لگتا ہے ، وہاں مذہب سے لگاؤ کا اظہار بھی ایک فیشن ہے . ہر طبقے کا فیشن الگ ہے اور ہر جگہ فیشن کے اظہار کے طریقے بھی جدا ہیں ۔سو جدّت کے اس دور میں اللّہ اور اس کے رسول سے محبت کا اظہار بھی سٹیٹس اور سمبل بن گیا ہے ، محبتیں جتلانے کے بھی سو طریقے ایجاد ہو چکے ہیں

معاشرے کا ہر طبقہ ایک نیا انداز رکھتا ہے ، کہیں شاندار قسم کے ہوٹلوں میں کیمروں کی چکا چوند میں سیرت کوئز ہو رہے ہوتے ہیں تو کہیں رنگ و نور کے امڈتے سیلاب میں محفل میلاد سجتی ہے ۔غازہ و میک اپ سے لتھڑے چہرے مخلوظ تقریبات میں ایک سے بڑھ کر ایک ترنم سے محفل لوٹنے کے چکر میں دکھائی دیتے ہیں . بھلے اذانیں ہو رہی ہوں ، نمازیں گزر جائیں کسی کو کوئی پروا نہیں۔

بہر حال عجیب چیز ان گناہ گار آنکھوں نے دیکھی ہے کہ بے تحاشا آرائش و زیبائش ، کیمروں کی چکا چوند، گلیمر و گلٹر کا اندھا استعمال، چراغاں، عریاں لباس غضب یہ کہ سب عشق رسولﷺ کے دعوے کے ساتھ، عقل دنگ ہے کہ سنتوں کی خلاف ورزی کر کہ یہ کون سی محبت کا اظہار ہوتا ہے؟ محبت تو اطاعت و اتباع کو آسان بناتی ہے یہ صرف جذباتی محبت نہیں بلکہ عقل و شعور کی مکمل پختگی کی ساتھ کی جانے والی محبت ہے جس کا انداز تو یہ سکھایا گیا ہے ” یقیناَ اللہ کے رسولﷺ کی ذات تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ملاقات کی امید اور آخرت کے دن کا خوف رکھتا ہے اور اللّہ کو بہت یاد رکھتا ہے۔(الاحزاب ۱۲)

نبی کریم ﷺ کی ذات کا ہمارے لیے بہترین نمونہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ روز مرّہ زندگی کے تمام معاملات میں آپﷺ کے اسوہَ مبارک کو مدِ نظر رکھیں اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کی زبانِ مبارک سے اعلان کروایا ” کہیے اگر تم الّلہ سے محبت رکھتے ہو تو میری (محمدﷺ)کی اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرے گا، تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور الّلہ بخشنے والا مہربان ہے”(آلِ عمران ۱۳)

عشق رسول کے نام پہ اجاگر کرنے والی باتیں تو یہ ہیں کہ آپﷺ کا رہن سہن کیسا تھا، اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، کھانا پینا، آپﷺ کا لباس، معیشت، معاشرت، سیاست ، تہذیب اور دیگر معاملاتِ زندگی اجاگر کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے مگر یہاں تو چونکہ ایک شو کرنا ہے لہذا سنتوں کو بھی جدیدیت کے لبادے میں لپیٹ کے پیش کیا جاتا ہے۔

محبت کا اظہار صرف میلاد کی دیگیں، تبرک اور حلوے تقسیم کرنے تک رہ گیا ہے جدید دور کی ان تمام تقریبات میں یہ باور کروانا چاہیے کے رحمت العالمین کے گھر میں دو دو ہفتے تک چولہا نہیں جلتا تھا، آپﷺ کے اہل و عیال نے کبھی پیٹ بھر کے کھانا نہیں کھایا، مفلس اور بھوکے کی آواز پر آپﷺ کی لختِ جگر اپنی کئی وقتوں کی بھوک قربان کر کے لبیک کہتیں، آپﷺ کے لباس میں پیوند لگے ہوتے، نبیﷺ اپنے کام خود اپنے ہاتھوں سے کرتے، آپ کے لیے کوئی تحت و تاج نہ تھا، کھجور کی کھردری چارپائی پر بغیر بستر کے سوتے،

میلاد شوز میں بے باکی سے حسن کا اظہار کرتے ہوئے شاید کسی کے ذہن میں خیال تک نہیں آتا کہ اللہ کے نبی ﷺ کنواری لڑکیوں سے زیادہ حیادار تھے۔ کیسا گھاٹے کا سودا ہے اللہ اور اْس کے نبی کے دین کو بگاڑنے کا سارا کام محبت و عقیدت کے نام پر کیا جاتا ہے آپﷺ کا لایا ہوا دین بے حد سادہ ہے جو اپنی مکمل ترین حالت میں ہم تک پہنچا مگر ہم نے وقت کے ساتھ نت نئی ایجادات کر اسے کیا سے کیا بنا ڈالا۔

پیار و محبت کا اصل مفہوم تو یہ ہے جس سے محبت کا دعوی کیا جائے اپنی زندگی کے ہر ہر عمل کو اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ڈھال لیا جائے اسی کو شریعت اسلامی سنت رسول کا نام دیتی ہی جس پر عمل کرنا ہر مسلمان پر لازم قرار دیا گیا ہے۔

آج عالم کفر کے امام توہین رسالت کا ارتکاب کر کے ہمیں چیلنج کر رہے ہیں کہ محبت رسول کے تقاضوں کو نبھانا جانتے ہیں یا نہیں؟ ہم اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنے سے آنکھ نہیں چرا سکتے کہ انہوں نے سیرت مبارکہ کو اپنے قلم سے بگاڑنے کا قبیح جرم کیا تو ہم نے سیرت مبارکہ کو اپنے عمل سے نکال کر سنت سے بے وفائی کی۔

خود ساختہ جشن ولادت کے نام پہ عقیدت و محبت کے دعوے کرنے، بے ہنگم نعرے بازی اور مظاہروں کو محبت رسول کا نام دینے کے بجائے انسانیت کا نام بلند کرنے والے نبیﷺ کا لایا ہوا ہدایت نامہ عملاَ قبول کر کے حقیقی محبت کا حق ادا کیجیے۔

اللہ تعالی ہمیں اسوہِ رسولﷺ کو اپنی زندگیوں میں رائج کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے قلوب و اذہان کو نبی کریم ﷺکی مبارک سنتوں سے آراستہ فرمائے۔ آمین

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے