"خواب میں رسول اللہ سے ملاقات”

(ایک غلط فہمی کا ازالہ)

نیند میں انسانی دماغ پر گزرنے والی کیفیات کو خواب کہتے ہیں ۔جیسے انسان کے جسم پر مختلف تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ۔ایسے ہی اس کا دماغ خاکے بناتا ہے،تصوات قائم کرتا،اور اس میں خیالات آتے ہیں۔جس طرح جسم کے ماہرین اس کا علاج کرتے ہیں ایسے ہی انسانی نفسیات کے ماہرین خوابوں کی تحلیل کرتے ہیں ۔وہ یہ بتاتے ہیں کہ خواب دراصل انسانی شعور میں نہا خیالات کا ہی آئینہ ہوتے ہیں ۔وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اگر نفسیات پر گرفت اپنی حدود سے تجاوز کر جائے تو حالت بیداری میں انسان خیالات کو مجسم کر لینے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے۔اس لحاظ سے خواب خالص طبعی معاملہ ہے ،دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

البتہ جس طرح خدا اپنے قانون کے مطابق حالات سازگار بنا کر انسان کی مدد کرسکتا ہے ،وہ انسانی جسم کو قوت بخشنے پر قادر ہے ، بالکل ایسے ہے وہ اپنے نیک بندوں کی خواب کے ذریعے بھی مدد کرسکتا ہے۔رسول اللہ نے اسی بات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :نبوت ختم ہوگئی بس مبشرات باقی ہیں ۔پھر آپ نے بتایا مبشرات نیک آدمی کا خواب ہوتے ہیں۔

قرآن مجید میں خدا کی جانب سے اس تائید کے جو نظائر بیان ہوئے ہیں ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ،خدا کی مدد حالات کی رعایت سے، اشارات اور تماثیل کی صورت میں ہوتی ہے ۔

اسی تائید کی ایک صورت بالعموم یہ بھی سمجھی جاتی کہ خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوجائے۔

مسلمان چونکہ رسول اللہ سے غیر معمولی تعلق رکھتے ہیں اسی وجہ سے آپ کو خواب میں دیکھتے آۓ ہیں۔جو بہت فطری بات ہے۔لیکن اس خواب کے بارے میں یہ دعوی کرنا کہ جس شخصیت کو اس خواب میں دیکھا گیا ہے ،وہ دراصل وہی رسول اللہ تھے جنھیں اللہ نے سرزمین عرب پر مامور کیا ،یہ بات درست نہیں ہے ۔
اس پر دو باتیں عرض ہیں:

پہلی بات یہ ہے کہ رسول اللہ کسی خواب میں تشریف نہیں لاتے بلکہ یہ ان کی تمثیل ہوتی ہے جس سے ہمیں یہ گمان محسوس ہوتا ہے کہ آپ اللہ کے رسول تھے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ جس تمثیل کو خواب میں رسول اللہ کا گمان کر کے دیکھا جائے وہ لازما اللہ کے رسول ہی کی تمثیل ہوتی ہے یہ بات بھی ٹھیک نھیں ۔ اس دعوے کی تائید میں جو حدیث بالعموم پیش کی جاتی ہے ,وہ کچھ یوں ہے:رسول اللہ نے فرمایا جس شخص نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے بے شک مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری تمثیل نہیں بنا سکتا۔
ایک اور روایت بھی ہے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب مجھے حقیقت میں بھی دیکھ لے گا شیطان میرا روپ نھیں اپنا سکتا ۔

اس مضمون کی تمام روایات پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ بات رسول اللہ کے مخاطبین کو کہی جا رہی جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقت میں دیکھ لیا تھا اور وہ جانتے تھے کہ آپ کی حقیقی شکل و صورت کیا ہے ،انھیں بطور خاص یہ بتایا جا ہے کہ اگر یہی روپ وہ خواب میں دیکھیں تو وہ رسول اللہ ہی کی تمثیل ہوگی ،کیونکہ شیطان رسالت مآب کا حقیقی روپ اپنا کر رسول کے مخاطبین کو دھوکہ نھیں دے سکتا ،اس لیے کہ خدا کے رسول کو اس کی خاص تائید و نصرت حاصل ہوتی ہے ۔

لہذا آج ہم میں سے کوئی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ جس ہستی کو ہم نے خواب میں دیکھا وہ واقعتا اللہ کے رسول ہی کی تمثیل تھی ۔بلکہ یہ دعوی کرنے میں اس لیے بھی احتیاط کرنی چاہیے کہ یہ کسی عام ہستی کے متعلق دعوی نھیں ہے بلکہ اللہ کے رسول کے حوالے سے دعوی ہے جس کی کوئی قطعی دلیل ہمارے پاس موجود نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے