پاکستان کیوں ٹوٹا؟

عظمتِ رفتہ کے نقوش اُجاگر کرنا ہماری تاریخ نگاری کا غالب رجحان ہے۔ تاریخ نویسی کا یہ جذباتی اور رومانی اندازِ نظر دورِ غلامی میں تو شاید ہماری نفسیاتی ضرورت تھا۔ مؤرخ نے اس ضرورت کو اس شان سے پورا کیا کہ تاثر کو تجزیہ کا نعم البدل مان لیا گیا۔ ہر رخصت ہونے والی شخصیت ہیرو ٹھہری اور ماضی کا حصہ بننے والا ہر دور زمان سنہری عہد قرار پایا۔ طلوعِ آزادی کے بعد بھی ماضی قریب اور ہم عصر تاریخ کے حقیقت پسندانہ تجزیے کی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔ ہر لمحہ اپنے عمل کا حساب کرنے کی بجائے ہمارے مؤرخ ماضی کے چوکھٹے میں رنگ بھرنے میں مصروف رہے۔ بڑی سے بڑی قومی تباہی بھی ہمیں خود احتسابی پر مجبور نہ کر سکی۔ اگر ہم چونکے بھی تو صرف اس حد تک کہ ہر تباہی کی غیروں کی تخریب و سازش کا شاخسانہ قرار پایا مگر اپنوں کی ضمیر فروشی، نااہلی اور غداری کے تجزیے کی راہ اختیار نہ کی۔ بلاشبہ ہماری ہر قومی ابتلا و آزمائش میں غیروں کی سازشوں کا عمل دخل ہے مگر ہمیں غیروں سے کہیں زیادہ اپنوں کی اندرونی سازشوں اور غداری سے سبق اندوز ہونے کی ضرورت ہے۔

اندرونی سازشوں اور سیاسی و فکری غداری کی جڑیں ہمارے ماضی میں دور تک پھیلتی چلی گئی ہیں۔ اس لیے محض جذباتی الزام تراشی سے ہم اس کی پوری معنویت سمجھ سکتے ہیں نہ اس کا مؤثر تدارک کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں گذشتہ تیس برس کی قومی تاریخ کو سائنسی انداز میں سمجھنا اور سمجھانا ہوگا۔ محض اپنی اپنی یادداشتیں قلمبند کر دینے یا تاثرات نگاری سے ماضی کے چوکھٹے میں رنگ بھرنے سے کام نہیں چلے گا۔ہمیں اپنی تاریخ کو خود لکھنا ہوگا۔

اس وقت باہر کی دنیا میں قیامِ پاکستان کے محرکات اور قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک کی تاریخ پر حیرت انگیز حد تک توجہ دی جا رہی ہے۔ روس اور بھارت، برطانیہ اور امریکہ کے مورخین اپنے اپنے قومی مفادات کے پیشِ نظر اور اپنے اپنے اندازِ نظر سے ہماری حالیہ تاریخ پر تحقیق و تفتیش میں منہمک ہیں۔ ہمیں ان کی مذمت میں قلم توڑنے کی بجائے اپنے نقطۂ نظر سے اپنی تاریخ کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنا ہے۔ اگر ہم اس کام کے آغاز کے لیے ان شخصیتوں کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کا انتظار کرتے رہے جو ہماری اجتماعی محرومیوں اور قومی نامرادیوں کی ذمہ دار ہیں تو ہمارے پاس دوسروں کے نقط�ۂ نظر سے لکھا ہوا اتنا کچھ اکٹھا ہو جائے گا کہ ہماری نئی نسل اپنے قومی وجود اور اپنے نظریاتی تشخص کو دوسروں کی عینک سے دیکھنے اور اس سے نفرت کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔

۱۹۷۱ء میں پاکستان کی تقسیم ہماری قومی زندگی کا اتنا بڑا المیہ ہے کہ اس کی تفہیم و تعبیر کا عمل ایک طویل عرصہ تک جاری رہے گا۔ اس کے صحیح عوامل اور محرکات کے بے نقاب ہونے میں ابھی وقت درکار ہے مگر جتنا مواد اس وقت تک منظر عام پر آ چکا ہے اس کی بنیاد پر بھی کتابوں کا ایک اچھا خاصا ذخیرہ جمع ہو گیا ہے۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے موضوع پر اس وقت تک جو درجن بھر کتابیں شائع ہو چکی ہیں انہیں ہماری قومی بقا کے خلاف جارحیت کا نام دیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے بیشتر کتابیں بھارتی مصنفین کی کاوش کا نتیجہ ہیں۔ بھارتی صحافی، مورخین اور ماہرین سیاسیات پاکستان کی تقسیم کی کہانی سناتے وقت تاریخی حقائق کو یوں مسخ کر کے پیش کرتے ہیں گویا پاکستان کی نظریاتی اساس ہی میں ہماری خرابی کی تمامتر صورتیں مضمر ہیں۔ ان کے نزدیک جب تک ہم دو قومی نظریے سے دستبردار ہو کر اور اپنے منفرد تہذیبی وجود کو مٹا کر اکھنڈا بھارت کا اٹوٹ انگ بننے پر آمادہ نہ ہوں گے ہمارے دیدہ و دل کے نجات کی گھڑی دور ہی رہے گی۔ ظاہر ہے کہ اس اندازِ نظر کے ساتھ لکھی ہوئی تاریخ نہ تو تاریخ نگاری کے سائنسی تقاضوں پر پوری اُتر سکتی ہے اور نہ ہی اس المیے کے حقیقی پس منظر و پیش منظر کو روشن کر سکتی ہے۔ اس کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ ہماری نئی نسل کے دل و دماغ میں پاکستان کی نظریاتی اساس اور ہمارے منفرد تہذیبی وجود کے بارے میں شکوک و شبہات کو جنم دے اور پاکستان سے باہر کی دنیا میں ہماری قومی شناخت کو دھندلائے۔ اس منفی پروپیگنڈہ کے لیے بھارتی مصنفین کو اصل حقائق سے زیادہ افواہیں کام دے سکتی تھیں سو، اُنہوں نے مسلمہ حقائق کو سیاق و سباق سے کاٹ کر اور غلط رنگ میں پیش کر کے پاکستان کی نظریاتی اساس کو منہدم کرنے کی کوشش کی ہے۔

بھارتی مصنفین کی اس صحافیانہ تاریخ نویسی کے پہلو بہ پہلو دنیائے مغرب میں بعض ایسی کتابیں شائع ہوئی ہیں جو جارحیت کا ایک نیا رنگ پیش کرتی ہیں۔ ان میں بظاہر غیر جذباتی اور سائنسی اندازِ نظر روا رکھا گیا ہے مگرفی الواقع یہ ہماری تاریخ کے خوب و ناخوب کو اپنے مخصوص سامراجی مفادات کے رنگ میں پیش کرتی ہیں۔ اس انداز کی کامیاب ترین مثالیں جناب جی ڈبلیو چوہدری کے ہاں ملتی ہیں۔ ان کتابوں کا اسلوب نگارش تو بلاشبہ تاریخ نویسی کا عمدہ معیار پیش کرتا ہے مگر ان کی سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ یہ ہمارے قومی مشاہیر کو غدار اورہماری رائے عامہ کی نظروں میں غدار شخصیتوں کو قومی ہیرو بنا کر پیش کرتی ہیں۔ یوں ہم ان کتابوں میں کسی ایک شخص یا چند اشخاص کی کردار کشی کے مناظر تو دیکھ سکتے ہیں مگر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے پسِ پردہ طویل اور پیچ در پیچ اسباب کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ان کتابوں میں ہمارے لیے بصیرت کا سامان ہے نہ عبرت کا۔ یہ فقط ہمارے تاریخی تناظر کو دھندلاتی اور ہماری قومی زندگی میں غلط مفروضوں کو رواج دیتی ہیں۔

جی ڈبلیو چوہدری کی کتاب ’’متحدہ پاکستان کے آخری ایام‘‘ لندن میں شائع ہوتے ہی ہفت روزہ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ میں ترجمہ و تلخیص کے روپ میں یوں نمودار ہوئی تھیں جیسے پاکستان میں ایک خاص مکتب فکر اس کتاب کی اشاعت کا بے تابی سے منتظر تھا۔ چوہدری صاحب ہمارے علمی حلقوں میں درباری مورخ کی سی شہرت کے مالک ہیں۔ سکندر مرزا کی مشرقی پاکستان پر حکومت کے عہد سے لے کر ایوب خان کے دور آخر تک چوہدری صاحب نے پاکستان کی سیاست اور تاریخ پر جو چند کتابیں تصنیف کی ہیں ان کی مشترکہ خصوصیت حاکم وقت کی حمد و ثنا اور اس کی پالیسیوں کی فراخدلانہ تائید ہے۔ اس سلسلے میں اگر انہیں اپنے ممدوحین پر بعد از وقت الزام تراشی بھی کرنا پڑے تو یہ بھی کر گزرتے ہیں مثلاً ایوب خان کے عہد میں سکندر مرزا کی ان ہی پالیسیوں کی مذمت کر ڈالیں گے جن کی حمایت میں وہ سکندر مرزا کے دور حکومت میں جوش بیان کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ ’’متحدہ پاکستان کے آخری ایام‘‘ میں بھی اُنہوں نے ایوب خان کی ان غلط تدابیر کا پول کھولا ہے جو ایوب خان کے عہد میں چوہدری صاحب کے حسن تدبیر کا نمونہ نظر آتی تھیں۔ مگر یحییٰ خان کے اس سابق وزیر اور مشیر نے یحییٰ خان کو نیک نیت، وطن دوست اور انصاف پرست ثابت کرنے میں دلائل کے انبار لگا دیئے ہیں۔ یحییٰ خان کے علاوہ چوہدری صاحب کو متحدہ پاکستان کے آخری ایام میں چند ایک اور نیک سیرت اور قابل اعتماد اشخاص بھی نظر آتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ سارے کے سارے لوگ خفیہ پولیس سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں سب سے بڑا وطن دوست ملٹری انٹیلی جنس کا ریٹائرڈ جنرل اکبر ہے۔ ان ذرائع سے حاصل کردہ بیش بہا معلومات کو چوہدری صاحب یحییٰ خان کے چہرے کی کالک کو دھونے میں استعمال کرتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ عوام کے منتخب نمائندے غدار تھے اور یحییٰ خان پاکستان کو عوامی نمائندوں سے نجات دلانے میں حق بجانب تھا۔

اگر ہم اس کتاب کو الطاف گوہر کے اس مقالے کی روشنی میں پڑھیں جو گوہر صاحب نے لندن کے رسالہ ’’تھرڈ ورلڈ کوارٹرلی‘‘ (اشاعت بابت جنوری ۱۹۷۹ء) میں شائع کیا ہے تو ہمیں چوہدری صاحب کی تضاد بیانی اور علمی بددیانتی کے علاوہ اس حقیقت کا بھی علم ہو جائے گا کہ متعدد نازک مواقع پر چوہدری صاحب کی پراسرار لندن اور نیویارک آمد و رفت کیا معنی رکھتی ہے؟ یحییٰ خان کو گمراہ کرنے میں خود چوہدری صاحب کا کتنا حصہ ہے اور وہ یحییٰ خان کے وزیر اور مشیر بن کر صرف یحییٰ خان اور پاکستان کی خدمت میں مصروف تھے یا ان کی خدمات کا دائرہ کچھ بہت ہی زیادہ وسیع ہو کر رہ گیا تھا؟ جس زمانے میں وہ وزیر تھے نہ مشیر نہ سرکاری اہلکار اس زمانے میں انہیں کس خوشی میں سرکاری خزانے سے پیسے ملتے رہے؟ اور اب متحدہ پاکستان کے آخری ایام میں اگر انہوں نے چند نیم صداقتوں کو بیان کیا ہے، بہت سے حقائق پر پردہ ڈالا اور کچھ سوالات سے کترا کے نکل گئے ہیں تو یہ محض اتفاقی امر ہے یا کوئی سوچا سمجھا منصوبہ ہے؟

افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم نے ان کتابوں میں بیان کی گوی سیاق و سباق سے کٹی ہوئی نیم صداقتوں کو سر آنکھوں پر جگہ دی۔ آخر کیوں؟ اس لیے کہ ہم حود احتسابی سے زیادہ قربانی کے بکرے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ٹوٹنے کی ذمہ داری کسی ایک سیاستدان کسی ایک سیاسی جماعت، قومی زندگی کے کسی ایک شعبے یا پھر کسی ایک طبقے کی گردن پر ڈال کر اسے قربانی کا بکرا ثابت کر دیں۔ ہم اپنی بداعمالی یا بے عملی کا تلافی اور اپنے سنگین جرائم کا کفارہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں ان پر اسرار محرکات اور پیچ در پیچ عوامل کے اس طویل سلسلے کی تجزیاتی اور تنقیدی شعور سے کوئی سروکار نہیں جو تقسیمِ پاکستان کا باعث بنے اور موجودہ پاکستان میں ابھی تک سرگرم کار ہیں۔ نتیجہ یہ کہ صحافتی واقع نگاری اور جذباتی نعرہ بازی ہمارے اجتماعی کیتھارسیس کے لچر وسیلے بن کر رہ گئے ہیں۔ ایسے میں ہمارے چند دانشوروں کی دلسوزی اور جگر کاوی غنیمت ہے۔

صدیق سالک کی کتاب ’’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘‘ کی اشاعت سے ایسا مستند مواد سامنے آ گیا ہے جس کی بنیاد پر سامراج نواز تاویلات کا پول کھل سکتا ہے۔ جی ڈبلیو چوہدری سے سامراج نواز مورخوں نے تقسیم پاکستان کے ڈرامے میں ولن کو ہیرو ثابت کرنے کی جو کاوش کی ہے اس کتاب میں پیش کی گئی ناقابل تردید اور محکم واقعاتی شہادتیں اسے ناکام بنا دیتی ہیں۔ اسی طرح وہ زبان زد عام افسانے جس کے باعث اس کی سرگزشتہ کے خوب و ناخوب میں تمیز جاتی رہی ہے صدیق سالک کے بیان کردہ واقعات کی روشنی میں پادر ہوا نظر آنے لگے ہیں۔سالک نے یہ واقعات اور مشاہدات بڑی جرات اور چابکدستی سے بیان کیے ہیں۔ ’’وٹنس ٹوسرنڈر‘‘ ڈائری نویسی یا نامہ نگاری نہیں تخلیقی فنکاری کی مثال ہے اس کا حسن طول بیانی اور خطابت میں نہیں بلکہ اشارہ و ایما میں ہے ۔یوں لگتا ہے جیسے ان ابواب میں قلم سے زیادہ موقلم استعمال کیا گیا ہے۔ پہلے باب میں سالک ؔ نے اشاراتی انداز میں مشرقی اور مغربی پاکستانیوں کے درمیان حائل خلیج کے نفسیاتی، اقتصادی اور سیاسی عوامل کی مصوری کی ہے۔ صرف آٹھ صفحات پر مشتمل اس باب کی آخری سطریں پڑھنے کے بعد قاری اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ خلیج ناقابل عبور ہو چکی ہے۔ پاکستان ٹوٹا پڑا ہے صرف دور سے دیکھنے والے کو ثابت و سالم نظر آتا ہے۔ یہ بات پڑھتے وقت مجھے بیورلی نکلس کی کتاب ’’ورڈ کٹ آن انڈیا‘‘ یاد آئی۔

سن چالیس سے شروع ہونے والی دھائی کے ہندوستان میں برپا جس ہندو مسلمان کشمکش کو سیاسی حکیموں کے مقالات حل کرنے کی بجائے مزید الجھانے کا باعث بن رہے تھے اسے افسانہ نگار بیورلی نکلس کی تیز بین نگاہوں نے یوں دیکھا اور اس فنکارانہ صداقت پسندی سے پیش کیا تھا کہ تحریک پاکستان کے بدترین دشمن بھی اسے صحیح تناظر میں دیکھنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ سالکؔ نے بھی ان چیزوں کو دیانت کے مقام نظر سے دیکھا اور صداقت کے اسلوب بیان میں پیش کیا ہے۔ آپ جانیں، دیانت اور صداقت ہمارے ہاں اشتعال انگیز چیزیں بن کررہ گئی ہیں۔ چنانچہ یہ کتاب جہاں عام پاکستانیوں کے لیے بصیرت افروز اور عبرت آموز ہے وہاں زیرِنظر المیہ کے زندہ کرداروں کے لیے اشتعال انگیز بھی ہے۔

یہ اشتعال ایک عام پاکستانی کے لیے بہت مبارک ہے اس لیے کہ جنرل نیازی ہوں یا راؤ فرمان علی، صاحبزادہ یعقوب ہوں یا ٹکا خان اس فوجی اور سیاسی المیے کے بہت سے کردار اس کتاب کے مندرجات سے مشتعل ہو کر اپنے اپنے حافظے میں محفوظ یا دداشتوں کو قلمبند کرنے پر مجبور ہوں گے اور یوں پاکستانی مورخ اور سیاسی مفکر کو وہ خام مواد ہاتھ آئے گا جس کے بغیر کوئی بھی بے لاگ اور معتبر تاریخی تجزیہ وجود میں نہیں آ سکتا۔

صدیق سالکؔ نے ہتھیار ڈالنے کی کہانی بیان کرتے وقت حیرت انگیز کامیابی کے ساتھ جذبات کی نمائش سے دامن بچایا ہے۔ اس جا نگسل واردات کے بیان میں جذباتیت کو قطعاٍ کوئی دخل نہیں مگر گہرا دکھ بیانیہ کے تارو پود میں زیرین رو کے مانند جاری و ساری ہے اور راوی جان سے زیادہ تسلیم جاں کے مفہوم پر غور و فکر کرتا نظر آتا ہے۔ شاید اسی غور و فکر کو غذا فراہم کرنے کے لیے سالکؔ نے ہتھیار ڈالنے سے متعلق اصل دستاویز کو بھی بطور ضمیمہ درج کر دیا ہے تاکہ کتاب ختم ہونے کے بعد بھی ختم نہ ہو اور قاری زیرِ بحث موضوع پر سوچتا ہی چلا جائے۔

جس شخص نے دردمندی اور علمی دیانت کے ساتھ ہتھیار پھینکنے کی اس دستاویز پر جرات فکر کا ثبوت دیا ہے اس کا نام ڈاکٹر صفدر محمود ہے۔ صفدر محمود نے پاکستان کی حالیہ تاریخ کے منتشر اوراق کی شیرازہ بندی جس محنت اور محبت کے ساتھ کی ہے وہ قابلِ دید ہے۔ ان کی کتاب ’’مسلم لیگ کا دورِ حکومت‘‘ کے بارے میں انتظار حسین نے کیا خوب کہا ہے کہ:

’’پاکستان میں جس تاریخ کو فراموش کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا اسی تاریخ کو صفدر محمود نے یاد دلانے کا اہتمام کیا۔ مسلم لیگ کو تحریکِ پاکستان کے طفیل مقدس گائے کا مرتبہ حاصل ہو گیا تھا۔ مگر صفدر محمود نے بتایا کہ مقدس گائے کو جب پاکستان میں ہری ہری گھاس نظر آئی تو وہ اتنی مقدس نہ رہی۔ اپنے دورِ اقتدار میں مسلم لیگ نے کیا کیا۔ پارٹی کا کیا نقشہ اُبھرا اور لیگی وزراء نے کیا کیا۔ یہ کچا چٹھا اُنہوں نے بیان کیا ہے۔‘‘

اسلام کے جن انقلابی تصورات کو اپنا کر مسلم لیگ ایک عوامی تحریک بنی تھی، اپنے دورِ اقتدار میں اس نے ان تصورات سے کس طرح غداری کی؟ صفدر محمود نے اس کا ایک جیتا جاگتا اور حقیقت سے لبریز عکس پیش کر کے ہمیں اپنے بنیادی تصورات سے انحراف کی راہ چھوڑنے کی دعوت دی ہے۔ وہی جماعت جو مظلوموں کو ظلم سے نجات دلا کر ایک جہانِ نو پیدا کرنے کے عزم سے اُٹھی تھی جب اس ظالمانہ نظا م کی سب سے بڑی محافظ بن بیٹھی تھی تو اس کا زوال شروع ہو گیا۔ مسلم لیگ نے تحریکِ پاکستان کے دوران سامراجی نظام حکومت و معیشت میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا عہد کیا تھا مگر قائداعظم کی وفات کے بعد وہ اس عہد سے منحرف ہو گئی۔ پاکستان کی سا لمیت اور استحکام کو بیرونی سازشوں سے زیادہ ان تبدیلیوں کو روکنے کے عمل نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس مسلسل اندرونی جارحیت کی صداقت پسندانہ تاریخ بیان کرنا اس وقت ہماری قومی بقا کا اوّلین تقاضا ہے۔ ڈاکٹر صفدر محمود اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ صرف سقوط ڈھاکہ کے موضوع پر اب تک ان کی دو کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ایک سچے پاکستانی کی دلسوزی کے ساتھ ڈاکٹر صفدر محمود تقسیم پاکستان کے المیے کی کہانی مسلم لیگ کے دورِ حکومت ہی سے شروع کرتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں وہ عوامل اور محرکات جو بالآخر ۱۹۷۱ء میں سقوطِ ڈھاکہ پر منتج ہوئے اُن کی جڑیں آزادی کے فوراً بعد مسلم لیگی قیادت کی غلط فکری اور گمراہی میں پوشیدہ ہیں۔

ڈاکٹر صفدر محمود کی تازہ کتاب ’’دی ڈیلیبریٹ ڈی بیکل‘‘ اس اعتبار سے ایک فکر انگیز کتاب ہے کہ اس میں تاریخ نگاری کی نامنصفانہ اور یک رُخی روش کے تدارک کا موثر انتظام موجود ہے۔ صفدر نے غیر جذباتی اور متوازن اندازِ نظر سے کام لے کر بہت سی غلط فکریوں کا عملی توڑ پیش کیا ہے۔ صفدر سقوطِ مشرقی پاکستان کو نہ تو پاکستان کی فکری اساس میں مضمر کسی موہوم خرابی کا شاخسانہ سمجھتا ہے اور نہ اس کی ساری کی ساری ذمہ داری کسی ایک شخص، ایک پارٹی یا ایک عہد پر ڈالتا ہے۔اس کی نظر ان عوامل کی تہہ تک پہنچ جاتی ہے جن کی جڑیں ہماری تاریخ، تہذیب اور معاشرت میں پھیلی ہوئی ہیں وہ پاکستان کی تقسیم میں کارفرما بیرونی عوامل سے صرف نظر نہیں کرتا مگر کسی ایک طاقت کو اس کا ذمہ دار بھی نہیں ٹھہراتا وہ پاکستان کے اندر کی طاقتیں ہوں یا باہر کی۔۔۔جس جس کا جتنا جتنا حصہ ہے وہ اسے بے نقاب کرتا ہے مگر اصل ذمہ داری پاکستان کی نظریاتی اساس سے انحراف کرنے والی سیاسی اور تہذیبی قوتوں پر ڈالتا ہے۔

پاکستان کی سا لمیت اور استحکام کو بیرونی سازشوں سے زیادہ انحراف کے اِس عمل نے نقصان پہنچایا ہے۔ چونکہ یہ انحراف قیامِ پاکستان کے فوراً بعد شروع ہو گیا تھا۔ اس لیے سقوط کاعمل بھی قیام کے ساتھ ساتھ ہی جنم لینے لگا تھا۔ ایوب خان کی بعض غلط اندیشیوں اور غلط کاریوں نے اس عمل کو تیز کیا۔ یحییٰ خان نے اس عمل کو برق رفتاری بخشی اور آخری مرحلہ میں اپنی بدنام زمانہ بے تدبیری اور میر جعفر اور میر صادق کی سی ہوس اقتدار سے پوری قوم کو ذلّت آمیز شکست سے دوچار کر دیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے