حلب کے سقوط کی جدلیات

بشارالاسد نے شام کے سب سے مشہور اور سب سے بڑے تجارتی شہر حلب میں اپنے مخالفین کو شرمناک شکست سے دوچار کر دیا ہے. قبضے کی جو جنگ آج سے 49 ماہ پہلے شروع ہوئی تھی، بالآخر اسد کو فتح مل گئی. اسد نے فتح کا جشن ہزاروں افراد کے قتل اور لاکھوں افراد کی معذوری کیساتھ برپا کیا ہے. حلب دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک جہاں دنیا بھر میں حسین ترین آبادی اپنی زندگی بسر کرتی تھی. آج وہی آبادی لہولہان ہے.

بشار الاسد نے جب حلب پہ قبضے کا ارادہ کیا تو اِس فوج کشی میں شامی فوج کے ساتھ ساتھ ایرانی، لبنانی، عراقی اور فلسطینی جنگجوؤں نے بھرپور شرکت کی. علاوہ ازیں روسی بمبار طیاروں کی بھر پور مدد بھی شاملِ حال تھی. آمر بشارالاسد اور زارِ روس ولادی میر پیوٹن کی یہ مشترکہ کارروائی ایک تباہ کن اور ظلم سے بھرپور تھی. یقیناً حلب بشار الاسد کے مخالفین کا مضبوط گڑھ تھا، مگر اسد اور پیوٹن کی شدید اور تباہ کن فوج کشی نے سکولوں، گھروں اور ہسپتالوں سمیت تمام انفراسٹرکچر کو تہس نہس کرکے رکھ دیا.

بشارالاسد اور پیوٹن کی اِس خونریزی نے پوری دنیا کے حساس لوگوں کے دلوں کو زخمی کیا ہے. خون آلود بوڑھی لاشیں دیکھ کر مجھے اپنے بزرگ یاد آ رہے ہیں. لہولہو نوجوان لاشوں میں مجھے اپنے بہن بھائی اور دوست نظر آتے ہیں. حساس دل والدین کو حلب میں ادھڑی ہوئی بچوں کی لاشیں رونے پہ مجبور کر رہی ہیں.

اِن حالات میں مغربی دنیا کا میڈیا اور مغربی حکمران اشرافیہ بھی ٹسوے بہا رہے ہیں. پانچ لاکھ افغانیوں، ایک لاکھ پاکستانیوں اور پندرہ لاکھ عراقیوں کو اپنے مفادات کی جنگ میں قتل کرنے والے امریکی اور نیٹو ممبران ممالک کے حکام بھی بشارالاسد اور پیوٹن کی خونریزی پہ تنقید کر رہے ہیں. حالانکہ حلب پہ ہونے والی فوج کشی کے نتیجے میں جو خونریزی ہوئی وہ تو مغربی ممالک کی جانب سے جاری خونریزی کے برابر کچھ بھی نہیں. موجودہ دن تک امریکہ اور برطانیہ کی مدد سے سعودی عرب نے یمن پہ شدید اندھا دھند بمباری جاری رکھی ہوئی ہے. یمن کا بےرحم محاصرہ بھی جاری ہے جس کی وجہ سے تین کروڑ انسان ذلیل و خوار ہیں اور قحط کا سامنا کر رہے ہیں.

جو مغربی حکام اِس وقت بشارالاسد اور پیوٹن کے ہاتھوں حلب کی بربادیوں پہ نوحہ کناں ہے، اُن کی اپنی افواج نے موصل شہر کا بھی ایسے ہی محاصرہ کر رکھا ہے. موصل کی آبادی بھی حلب سے کہیں زیادہ ہے. موصل شہر پہ بھی اِس بھی زیادہ گھناؤنی اور قیامت ڈھانے والی فوج کشی کی منصوبہ بندی مکمل ہو چکی ہے. منافقت کی انتہا دیکھیے کہ سقوطِ حلب کے بعد مغربی آقا اپنے دوستوں یعنی بشارالاسد کے دشمنوں کو مزید اسلحہ اور پیسہ بھیجنے کی باتیں کر رہے ہیں. مغربی اور امریکی میڈیا اور حکام کو مظالم صرف وہ دکھائی دیتے ہیں جو اُن کے علاوہ کوئی دوسرا کرتا ہے.

لیکن سوال یہ بھی ہے کہ بشارالاسد اور پیوٹن کو حلب پی اتنی خونریز اور تباہ کن فوجی کارروائی کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوئی؟ اِس میں بھی امریکہ کی ہٹ دھرمی اور دھوکہ بازی شامل ہے. سقوطِ حلب سے ایک ماہ قبل شام و روس نے امریکہ کو جنگ بندی کا پیغام بھیجا جسے امریکہ نے نہایت روکھے انداز میں رد کر دیا. مزید برآں روس کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے قطری بیس سے اڑنے والے امریکی طیاروں نے "دیرالزور” میں بمباری کر دی جس کے نتیجے میں شامی فوج کا اچھا خاصا نقصان ہوا اور شامی فوجی بھی ہلاک ہوئے.

حلب داعش کا مضبوط ترین گڑھ تھا، جہاں داعش میں ضم ہونے والے گروہ "جبہت فتح الشام” اور "احرار الشام” کے ہیڈکوارٹر موجود تھے. علاوہ ازیں نورالدین زنگی گروپ بھی حلب میں موجود تھا. اِن تمام گروہوں کو امریکی گروپ کہا جاتا ہے. یہ گروہ بشارالاسد کیلئے موت کا پیغام تھے. لہذا بشارالاسد اور پیوٹن نے اپنے مخالفین کے مضبوط ترین گڑھ پہ تباہ کن حملہ کرکے اپنا قبضہ جما لیا.

سرمایہ دارانہ نظام کے تحت جنگیں لازم ہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام تو ہے ہی بربریت… جنگیں اِس بربریت کا ایک رخ ہیں. آج جنگیں بہت منافع بخش کاروبار ہیں. پہلے زمانے میں جنگ لڑنے کیلئے اسلحہ تیار کیا جاتا تھا، لیکن آج کل اسلحہ بیچنے کیلئے جنگیں تیار کی جاتی ہیں. تیل اور دوسری معدنیات کی ہوس بھی جنگ کا سبب ہیں. دنیا بھر میں اپنا تسلط، اقتصادی راہداریوں اور منڈیوں پہ تسلط کی یہ جنگ قابلِ نفرت ہے. ایسے میں دنیا بھر کے مظلوم اور غریب عوام کو متحد ہو کر اِن سرمایہ دار حکمران نظام کے خلاف بغاوت کرنی ہو گی. کیونکہ حلب کی تباہی سرمایہ دارانہ نظام کے تحت پہلا اور آخری غیرانسانی قدم نہیں ہے.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے