16دسمبر ! زخم تازہ ہو گئے

جب بھی 16دسمبر آتا ہے پاکستان کو لگے زخم تازہ ہو جاتے ہیں۔ 16دسمبر 1971ء میں مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہو کر دنیا کے نقشے پر بنگلہ دیش بن کر ابھرا۔ 2014ء تاریخ 16دسمبر ہی ہوتی ہے سفاک دہشتگردوں نے پشاور اے پی ایس پر حملہ کر کے نوخیز کلیوں کو پھول بننے سے پہلے ہی کچل دیا۔
جس دن پاکستان بنا اس وقت اس کی آبادی تقریباً 8کروڑ نفوس پر مشتمل تھی۔ ساڑھے چار کروڑ مشرقی پاکستان اور ساڑھے تین کروڑ مغربی پاکستان کی آبادی تھی۔ قائداعظم کی رحلت اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع ہو گئیں۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں عالمی طاقتوں کے علاوہ ہمارے سیاستدانوں اور فوجی جرنیلوں کی ہوس اقتدار نے اہم کردار ادا کیا۔

مغربی پاکستان کے جاگیردار ذہنیت رکھنے والے سیاستدانوں نے مشرقی پاکستان کی لیڈر شپ کو ہمیشہ کارنر کیے رکھااکثریت میں ہونے کے باوجود ہونے جائزمقام دینے کو تیار نہ تھے ۔ قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب ’’شہاب نامہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ پاکستان آنے کے بعد مجھے مسٹر آئی۔آئی چندریگر جو وزیر تجارت و صنعت ورکس تھے کے ساتھ انڈر سیکرٹری لگا دیا گیا۔ ایک روز اس وقت کے وزیر خزانہ غلام محمد کی زیرصدارت میٹنگ تھی ، کراچی میں دفتری اور رہائشی ضروریات کیلئے جو نئی عمارتیں اور کوارٹر تعمیر ہو رہے تھے ان کیلئے تعمیری سامان درآمد کرنے کا مسئلہ تھا ۔ میٹنگ میں چار وزیر اور کچھ افسر شریک تھے۔ وزیروں میں مولوی فضل الرحمن موجود تھے جن کے پاس امور داخلہ، تعلیم اور اطلاعات کا محکمہ تھا۔ کچھ بحث و تمحیص کے بعد سینٹری کے سامان کا کوٹہ طے ہو گیا تو وزیرتعلیم نے دبے الفاظ میں تجویز پیش کی کہ اگر اس امپورٹ کا کچھ حصہ ڈھاکہ کیلئے مخصوص کر دیا جائے تو مناسب ہو گا۔

اس تجویز پر بڑی ہنسی اڑی ، کسی نے کہا کہ ڈھاکہ میں کوئی خاص تعمیری کام شروع نہیں ہوا، وہاں پر سامان پہنچنے کی کوئی تک نہیں ، ایک صاحب نے مذاق ہی مذاق میں پھبتی اڑائی کہ ’’بنگالی لوگ تو کیلئے کی گاچھ کی اوٹ میں بیٹھ کر رفع حاجت کرنے کے عادی ہیں‘‘ وہ ابھی سے کموڈ اور وائش بیسن لے کر کیا کریں گے؟ میرے خیال میں لاشعوری طور پر بنگلہ دیس کی کھدائی کا کام اسی روز شروع ہو گیا تھا۔

مسٹر بھٹو ایوب کابینہ میں وزیر خارجہ کے طور پر کام کر رہے تھے ایک وفد لے کر امریکہ گئے ،وفد میں بنگالی انفارمیشن آفیسر بھی موجود تھے ۔ بھٹو نے اپنے دورے کے دوران انہیں اتنا بے عزت کیا کہ وہ رو پڑے۔ بات دراصل یہ تھی کہ بھٹو چاہتے تھے کہ نیویارک ٹائمز کے پہلے صفحے پر ان کی تصویر چھپے مگر انفارمیشن آفیسر یہ کام نہ کر سکا۔ بھٹو نے اس آفیسر کو ڈانٹ پلائی کہ تم سارا دن بیٹھے بیٹھے شراب پیتے ہو کیا تم نہیں جانتے کہ میں انقلابی حکومت کا وزیر ہوں اور تمہیں ابھی نوکری سے فارغ کر سکتا ہوں ، جب بھٹو وہاں سے چلے گئے تو انہوں نے روتے ہوئے مجھ سے کہا کہ ہم آپ پنجابیوں کے ساتھ کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے آپ دیکھ نہیں رہے کہ مشن میں ہم صرف دو بنگالی ہیں اور وہ بھی نچلے عہدوں پر اعلیٰ عہدے آپ لوگوں نے سنبھال رکھے ہیں حالانکہ ملک میں ہماری اکثریت ہے۔میں نے جواب دیا ’’بھٹو تو پنجابی نہیں سندھی ہیں‘‘ وہ کہنے لگا ’’ہمارے لیے تو آپ سب پنجابی ہیں‘‘ مجھے بھٹو کے رویے پر سخت افسوس ہوا مجھے یقین ہو گیا کہ مشرقی پاکستان کبھی نہ کبھی مغربی پاکستان سے علیحدہ ہو جائے گا۔ ’’اپنا گریباں چاک‘‘ جسٹس(ر)ڈاکٹر جاوید اقبال۔

1971ء میں پاکستان کی تقدیر تین ہاتھوں میں تھی ، فوج ، عوامی لیگ اور پیپلزپارٹی یہ تینوں ہاتھ بجائے اتحاد کے اقتدار کی خاطر ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے ۔ عام انتخابات میں مشرقی پاکستان میں مجیب کی عوامی لیگ ، مغربی پاکستان میں پیپیلزپارٹی نے اکثریت حاصل کی۔ مجموعی طور پر عوامی لیگ کو سارے پاکستان سے زیادہ نشستیں ملیں۔ یحییٰ خان کو چاہیے تھا کہ وہ اقتدار مجیب کے حوالے کر دیتا لیکن چونکہ یحییٰ خان پاور نہیں دینا چاہتا تھا ، وہ مجیب کے پاس گیا اور کہا کہ وزارت اعظمیٰ مبارک ہو، مجیب نے کہا کہ تم صدر نہیں رہو گے۔ یحییٰ کہنے لگا ’’یار تم نے وعدہ کیا تھا‘‘ مجیب نے کہا کہ میں سیاست دان ہوں تم صدر نہیں رہ سکتے مجیب کے یہ تیور دیکھ کر یحییٰ خان کو سخت دھچکا لگا اس نے ون یونٹ توڑ دی دوسری طرف بھٹو بھی اقتدار میں آنا چاہتا تھا وہ اسی صورت ممکن ہو سکتا تھا کہ مشرقی پاکستان نہ رہے۔ بھٹو بھی مجیب کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ مجھے اپنا نائب بنا لو مجیب نے انکار کر دیا بھٹو نے وزارت خارجہ بھی مانگی کہا نہیں پھر کہا سپیکر بنا دو وہ اس پر بھی نہ مانا ، تو پھر بھٹو نے نعرہ لگایا ’’ادھر تم، ادھر ہم‘‘ اور ڈھاکہ جانے والوں کی ٹانگیں توڑ دینے کی دھمکی دی۔

یحییٰ نے بھٹو سے کہا کہ مجیب مجھے صدارت دینے پر تیار نہیں تو بھٹو نے کہا دفع کرو میں بناؤں گا تمہیں صدر ، تم صدر پاکستان اور میں وزیراعظم ، پھر انہوں نے ملک توڑنے کا فیصلہ کیا حالات خراب ہونے پر یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان میں جنرل نیازی کو کمانڈر بنا کر بھیج دیا ، کہا جاتا ہے کہ تیس لاکھ آدمی مارے گئے اور بیس لاکھ لوگوں کی بے حرمتی ہوئی عورتوں کی عصمت دری اور ریپ کے واقعات بھی منظر عام پر آئے۔ جنرل نیازی بحیثیت کمانڈر جب ڈھاکہ ایئرپورٹ پر اترا تو اس نے جنرل خادم حسین راجہ سے کہا کہ مجھے عورتوں کی فہرست دو ، جنرل خادم نے کہا کہ سر آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں میرے پاس ایسی کوئی فہرست نہیں ہے۔

ایک طرف جرنیلوں کے یہ کرتوت تھے تو دوسری طرف ہندوستان بھی پاکستان کو دولخت کرنے کے درپے تھا۔ اس نے مکتی باہنی کی مدد کی آڑ میں اپنی فوج بنگلہ دیش میں اتار دی ، مغربی پاکستان کے سیاستدانوں اور جرنیلوں کی ہوس اقتدار نے مسئلے کو سلجھانے کی بجائے الجھایا۔ مسئلے کا سیاسی حل ممکن تھا مگر مغربی پاکستان کے جاگیردارانہ سوچ رکھنے والے سیاستدانوں نے مشرقی پاکستان کے مجیب کی عوامی لیگ کو اقتدار دینے پر تیار نہ ہوئے ۔ 8دسمبر کو ایک اعلیٰ سطحی وفد اقوام متحدہ بھیجا جا رہا تھا تا کہ سیز فائر کروایا جائے مسٹر بھٹو کو بھی وفد کے ساتھ بھیجنے کے انتظامات کیے گئے مگر ذوالفقار علی بھٹو وفد کے ساتھ جانے کے بجائے کابل چلے گئے ، کابل سے فرینکفرٹ اور فرینکفرٹ سے روم گئے ، روم سے لندن اور لندن سے نیویارک پہنچے ۔ جب بھٹو نیویارک پہنچے تو اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن چکا تھا ، فوج اور مسٹر بھٹو عوامی لیگ کو اقتدار دینے پر رضامند ہو جاتے تو یہ سانحہ نہ ہوتا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے