آل آباؤٹ چاکلیٹ

آپ چاکلیٹ کے دیوانے ہیں ؟

ہاں ! تو یہ آپ کے لیے خوشخبری ہے

نہیں ! تو اپنی چاکلیٹ ہمیں دے دیں

کیونکہ چاکلیٹ ہے آپ کی جسمانی ،روحانی اور ذہنی صحت کے لیے انتہائی مفید

ایک دلچسپ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ چاکلیٹ کے روزانہ استعمال سے آپ کی یاداشت بہتر ہوتی ہے۔ آپ دن بھر ہشاش بشاش رہتے ہیں اور ہر کام بخوبی انجام دیتے ہیں۔

تو پھر!صبح ناشتے کے ساتھ چاکلیٹ کا ٹکڑا ضرور کھائیں تاکہ آپ سارا دن فریش اور ایکٹو رہیں۔

ہالینڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی عمر کے وہ افراد جو چاکلیٹ کھاتے ہیں ان کا بلڈ پریشر کم رہتا ہے اور اس طرح سے دل کی شریانیں بند ہوکر دورے پڑنے کا
امکان بھی کافی کم ہوجاتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کو کو میں ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جن سے دوران خون صحت مند رہتا ہے۔

کوکو (وہ پھل جس سے چاکلیٹ بنتا ہے) میں فلیون تھری آئل نامی کیمیائی جز پایا جاتا ہے جو بلڈ پریشر کم کرنے میں معاون ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کاکہنا ہے کہ اگر ڈارک چاکلیٹ تھوڑی مقدار میں کھائی جائے تو اس سے دوران خون پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں
چاکلیٹ کے شائقین کے لیے اس قدر فوائد یقینا حیران کن ہوں گے ،

لیکن کیا آپ جانتے ہیں ۔چاکلیٹ کہاں سے آئی اور یہ کیسے تیار کی جاتی ہے؟

کوکو کے درخت ہزاروں سال پہلے جنوبی امریکہ میں ایمیزون اور رینوکو کی وادیوں میں اُگتے تھے۔‏ غالباً مایا قبیلے کے لوگوں نے اسے سب سے پہلے کاشت کِیا جسے وہ ہجرت کرتے وقت یوکاٹین لے گئے تھے۔‏ آزٹک کا شاہی خاندان کوکو کے دانوں،‏ مکئی یا شراب سے تیارکردہ چاکلیٹ کے مشروب بہت شوق سے پیتا تھا جسے اُس وقت سنہری پیالوں میں ڈال کر پیش کِیا جاتا تھا۔‏ آزٹک شہنشاہ مونٹی‌زوما کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ ایک دن میں چاکلیٹ کے 50 سے زیادہ پیالے پیتا تھا۔

کیسے تیار کی جاتی ہے چاکلیٹ ،یہ بھی بتائے دیتے ہیں ۔

کوکو کے درختوں کیلئے 20 ڈگری درجۂ‌حرارت بہترین ہوتا ہے۔‏ یہ درخت سایہ‌دار جگہ اور نمی والی آب‌وہوا میں خوب پھل لاتے ہیں۔‏ ان درختوں پر سارا سال پھل اور پھول لگتے ہیں۔‏ کوکو کا پھل سردے کے خول جیسا ہوتا ہے

‏(‏1)‏،‏ یہ تنے اور نچلی شاخوں سے براہِ‌راست اُگتا ہے۔‏ بانس پر تیز چھریاں لگا کر پکی ہوئی پھلیوں کو درختوں سے کاٹ لیا جاتا ہے۔‏ پھلیوں کے مُنہ کھلے ہوتے ہیں۔

‏(2)‏ ان میں سفید گودے کے اندر 20 سے 50 دانے ہوتے ہیں۔‏ ہاتھوں سے ان دانوں کو نکا‌ل لیا جاتا ہے۔‏ کٹائی کے موسم میں مزدور صبح سے شام تک پھلیوں سے دانے نکا‌لنے کا کام کرتے ہیں۔‏ اسکے بعد کئی دنوں تک دانوں کو ڈھانک کر رکھ دیا جاتا ہے۔‏ اس دوران یہ بھورے رنگ کے ہو جاتے ہیں۔‏ اسکے بعد دانوں کو خشک کِیا جاتا ہے ‏

(‏3)‏،‏ خواہ انہیں دھوپ میں رکھا جائے یا گرم ہوا والی مشینوں سے گزارا جائے۔‏ خشک کرنے کا عمل انہیں فروخت کرنے اور ذخیرہ کرنے کیلئے ضروری ہوتا ہے۔کوکو کے دانوں کی دو بنیادی اقسام ہیں،‏ فارایسٹرو اور کراولو۔‏ فارایسٹرو معیاری یا بنیادی دانے ہوتے ہیں جن سے دُنیابھر میں استعمال ہونے والی چاکلیٹ کی بڑی مقدار تیار ہوتی ہے۔‏ اسکی کاشت کے اہم علا‌قے مغربی افریقہ،‏ برازیل اور جنوبی ایشیا ہیں۔‏ کراولو ذائقہ پیدا کرنے والے دانے ہیں۔‏ اسے وسطی امریکہ،‏ ایکواڈور اور وینزویلا میں چھوٹے پیمانے پر کاشت کِیا جاتا ہے۔کوکو کے دانوں کو خشک کرنے کے بعد بوریوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔

‏(‏4)‏ یہ دانے پوری دُنیا میں چاکلیٹ تیار کرنے والے ممالک میں اور خاص طور پر یورپ اور شمالی امریکہ بھیجے جاتے ہیں۔‏ کوکو کے خشک دانوں کی دو مٹھیاں

‏(‏5)‏ ایک پونڈ چاکلیٹ بناتی ہیں۔‏ اس بات کا تصور کرنا بہت مشکل ہے کہ کوکو کے کڑوے بیج چاکلیٹ کی شکل میں شیریں ذائقے میں کیسے تبدیل ہو جاتے ہیں،‏ مگر اسکا طریقۂ‌کار صدیوں سے نہیں بدلا۔کوکو کے دانے کارخانے میں آنے کے بعد صاف کئے اور چھانٹے جاتے ہیں۔‏ جسطرح کافی کے دانوں کو بھون کر ذائقہ‌دار بنایا جاتا ہے اُسی طرح کوکو کے دانوں کو بھون کر چاکلیٹ کی خوشبو نکا‌لی جاتی ہے۔‏ اس کے بعد دانوں کو کھولا جاتا ہے

(‏6)‏‏۔‏ اس میں موجود بھورے رنگ کے اجزا ہی کوکو اور چاکلیٹ کی بنیاد ہوتے ہیں۔‏ انکو پیس کر بھورے رنگ کا چاکلیٹ آمیزہ بنایا جاتا ہے

‏(‏7)‏‏۔‏ جب یہ سخت ہو جاتا ہے تو اسے کھانے کی چیزوں میں استعمال کِیا جاتا ہے۔‏ اسکے بعد اسے تیز درجۂ‌حرارت پر رکھ کر دو اجزا میں تقسیم کِیا جاتا ہے ایک کوکو بٹر اور دوسرا کوکو پاؤڈر۔‏ اگر چاکلیٹ والے مشروب میں اضافی کوکو بٹر شامل کر دیا جائے تو لذیذ چاکلیٹ‌بار بن جاتی ہے جو ہم کھاتے ہیں۔

اب آپ کو بتاتے ہیں ایک آزمودہ نسخہ اورانتہائی تروتازہ کردینے والی شے ۔۔۔

لیکن ٹھہریں !!! اگر پسند نہ آئے تو ہمیں دے جائیں ،

دودھ میں تھوڑی سی چاکلیٹ ملائیں اور ڈرنک تیار ہے ، جو لذیذ بھی ہے اور توانائی سے بھرپور بھی ۔ دودھ میں موجود کیلشئم آپ کو تازگی اور فرحت بخشتا ہے ساتھ ہی چاکلیٹ آپ کے موڈ کوخوشگوار بنا دیتی ہے۔

اسٹرابری پر چاکلیٹ لگا کر کھانے سےانسانی صحت بہتر اور قوت ِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔

ڈارک چاکلیٹ کے طبی فوائد دیکھ کر تو آپ حیران رہ جائیں گے جو کہ خون کے گردشی نظام میں معاونت کے ساتھ دماغ کو متحرک کرنے، دماغی کمزوریوں سے خلاف جدوجہد، آپ کو زیادہ چوکس اور بہتر طرز فکر کے ساتھ ساتھ کھانسی کی روک تھام اور تناﺅ سے بھی نجات دلاتی ہے۔

مزاج خوشگوار بنائے

جب آپ مایوسی کا شکار ہو ں تو چاکلیٹ کا استعمال بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اس کا ذائقہ ذہن کو تحریک دیتا ہے اور آپ کو خوش باش بناتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ چاکلیٹ کا ذائقہ، خوشبو یا بناوٹ بھی لوگوں کو خوش باش بنادیتی ہے، چاکلیٹ سے دماغ میں اچھا محسوس ہونے والے کیمیکل ڈوپامائن کی مقدار بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔

آپ کے دانتوں کو صحت مند رکھتی ہے

اگرچہ دندان ساز تو چاکلیٹ کو دانتوں کے لیے مضر قرار دیتے ہیں مگر ایک نئی تحقیق کے مطابق چاکلیٹ میں شامل کوکا پاﺅڈر درحقیقت آپ کے دانتوں کو صحت مند رکھنے والے ٹوتھ پیسٹ اور فلورائیڈ کا موثر متبادل ثابت ہوتی ہے۔

آپ کی جلد کو بہترین رکھے

کوکا سے بنا مکھن ایسی منفرد چیز ہے جس کا استعمال آپ کی جلد کی کشش کے لیے حیرت انگیز اثر رکھتا ہے۔ جی ہاں چاکلیٹ کا استعمال جلد کو خوش اور ہموار رکھتا ہے بس نرم چاکلیٹ کو جلد پر پندرہ منٹ تک لگا رہنے دیں یہ آپ کی جلد کو نرم و ملائم کردیتا ہے۔

اس کو نہانے کے دوران بھی آزمایا جاسکتا ہے بس دو کپ چاکلیٹ ملک، دو چائے کے چمچ سیال صابن اور ایک چائے کا چم شہد پانی میں ملا کر نہالیں، چاکلیٹ ملک میں شامل اینٹی آکسائیڈنٹس اور تیزابی اثر جلد کو ملائم اور ہموار کردے گا، جبکہ ڈارک چاکلیٹ میں پایا جانے والا فلیوونائڈ سورج کی شعاعوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

ان فوائد کے بعد انسانی تاریخ میں چاکلیٹ کو استعمال کے چند عجیب و غریب طریقے بھی جانے جو واقعی حیرت انگیز ہیں۔

کرنسی کے طور پر استعمال

کہا تو جاتا ہے کہ دولت پیڑوں پر اگتی مگر ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایسا واقعی ہوتا تھا۔ مایا تہذیب کے باسیوں کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے چاکلیٹ کو دریافت کیا تھا اور وہ کوکا بیج بطور رقم استعمال کرتے تھے۔ آزٹیک تہذیب میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا بلکہ وہ تو قیمتی کوکا پر بھاری ٹیکس بھی عائد کرتے تھے۔

بطور ایندھن
چاکلیٹ سے چلنے والی گاڑی جی ہاں سائنس دانوں نے چاکلیٹ ایک بیکٹریا ای کولی کو کھلا کر اسے ہائیڈروجن کی پیداوار حاصل کی جسے گاڑی چلانے کے لیے بطور ایندھن استعمال کیا گیا۔

یہ ماحول دوست ایندھن فی الحال دستیاب نہیں مگر آنے والے کل میں ایسا ضرور ہوسکتا ہے تاہم ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ اپنی گاڑیوں کے لیے چاکلیٹ کا بٹوارہ پسند نہ کریں۔

چاکلیٹ سے بنے ملبوسات
دنیا بھر میں چاکلیٹ فیشن شوز اب عام ہوتے جارہے ہیں جس میں چاکلیٹ کے پرستاروں کے لیے ڈیزائنرز اس میٹھی سوغات کو استعمال کرکے بنائے گئے مختلف ملبوسات کی نمائش کرتے ہیں۔

فرضی خون
بوسکو چاکلیٹ سیرپ کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسے الفریڈ ہچکاک کی 1960 کی کلاسیک ہارر فلم سائیکو میں بطور خون کے استعمال کیا گیا تھا۔

سب سے بڑا مجسمہ
بیلجئیم کے ایک چاکلیٹ کے شوقین شخص نے اس سوغات کی مدد سے 111 فٹ لمبی ٹرین کا چاکلیٹ ماڈل تیار کرکے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ بنالی تھی۔

انتباہ
اگرچہ چاکلیٹ کے متعدد طبی فوائد ہیں اور اسے کئی طریقوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے مگر یہ مضر اثرات سے پاک بھی نہیں ۔

اس کی بہت زیادہ مقدار کا استعمال موٹاپے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے جبکہ کچھ شواہد ایسے بھی سامنے آئے ہیں کہ چاکلیٹ منشیات کی طرح لوگوں کو اپنا عادی بنادیتی ہے جبکہ اس میں کچھ ایسے ایسڈ شامل ہوتے ہیں جو طبی نقصانات کا باعث بن سکتے ہیں خاص طور پر گردوں میں پتھری کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
بڑی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں چاکلیٹ کی پیداوار کم ہوتی جارہی ہے اور بہت زیادہ طلب کے باعث 2020 تک ہوسکتا ہے کہ یہ میٹھی سوغات ہماری پہنچ سے باہر ہوجائے یہی وجہ ہے کہ کوکا بیجوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

درحقیقت چاکلیٹ بنانے والا اہم جز کوکا کے کاشتکار کو اس فصل کی کاشت میں زیادہ دلچسپی نہیں رہی اور وہ ربڑ کاشت کرنے کو اپنے لیے زیادہ منافع بخش سمجھ رہے ہیں جبکہ دنیا میں کوکا کی مجموعی عالمی پیداوار کا ستر فیصد حصہ فراہم کرنے والے ممالک آئیوری کوسٹ اور گھانا میں موسمیاتی تبدیلیوں اور خشک موسم نے پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

آخرمیں ایک زبردست سی ریسپی تو شئیر کرنا بنتی ہی ہے ۔۔۔

چاکلیٹ لاوا کیک

ایک دیگچی میں 110 گرام مکھن ، 170 گرام ڈارک کوکنگ چاکلیٹ، ایک چوتھائی چائے کا چمچ دار چینی پاؤڈر اور ایک چُٹکی نمک ڈال کر ہلکی آنچ پر مکس کریں ، چمچ سے مسلسل چلاتے رہیں، حتیٰ کہ بہت نرم و ملائم نظر آنے لگے ، اب مکسنگ باؤل میں آدھا کپ میدہ لیں، ایک کپ آئسنگ شوگر کو اچھی طرح مکس کریں۔آمیزے میں ایک دائرہ سےسا بنالیں، اب اس میں 3 انڈے اور 3 انڈوں کی زردی شامل کریں ، تین چوتھائی کپ ونیلا ایسنس ڈال کر اچھی طرح مکس کریں ، اب اس آمیزے میں چاکلیٹ آمیزہ شامل کریں اور خوب پھینٹیں۔ سانچے میں اچھی طرح مکھن لگائیں اور چینی چھڑک دیں، اب اس میں آمیزہ ڈال دیں ،180 ڈگری پر 15 سے 16 منٹ بیک کریں ۔ مزیدار چاکلیٹ لاوا کیک تیار ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے