قائداعظم محمد علی جناح رحمہ علیہ اور سیکولرازم

سیکولرازم انگریزی کے ایک لفظ سیکو لیریٹی کے بھی قریب ہے ، اکسفورڈ ڈکشنری میں اسکا مطلب کچھ یوں بیان کیا گیا ہے

یعنی، دنیاداری،مذہبی اصولوں یا جذبات کا معدوم ہونا ۔ ڈکشنری آف ماڈرن ورلڈ میں سیکولر کی تعریف یوں ہے۔’’دینوی روح یا دینوی رجحانات وغیرہ بالخصوص اصول و عمل کا ایسا نظام جس میں ایمان اور عبادت کی ہر صورت کو رد کر دیا گیا ہو‘‘ ۔ عام مفہوم یہ کہ سیکولرازم لادینیت ہے یعنی دنیاوی اصولوں اور طریقوں کو مذہب پر اس طرح ترجیح دینا کہ مذہب کا نام ہی نا رہے ۔

سیکولر کے اخلاقی معانی ہیں لادین،لامذہب،دنیاوی ۔ سیکولر ایسے شخص کو سمجھا جاتا ہے جو دین اور دنیا کو الگ الگ تصور کرتا ہو یعنی مذہب کو
محض ذاتی معاملہ سمجھتا ہو اور قومی سیاست کو اپنے مذہب یا دین سے بالکل پاک اور علیحدہ رکھنے کا قائل ہو ۔

ظاہر ہے ایسے شخص کو سیکولر کہا جا سکتا ہے جو دین اور دنیا کو الگ الگ سمجھنے کہ ساتھ دنیا کے اصولوں،طور طریقوں ،رواجوں حتٰکہ دنیا کے تمام معاملات کو دین سے الگ سمجھتا ہو ۔ جس کے سامنے مذہب صرف ذاتی معاملہ سمجھا جائے ایسے شخص کو سیکو لر کہا جا سکتا ہے۔اب اگر ایک ایسے شخص پہ یہ الزام عائد کیا جائے کہ وہ سیکولر ہے بلا کسی دلیل کے تو یہ صریحاًً غلط ہو گا ۔

قائداعظم کی ذاتی زندگی کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ کوئی شخص اتنا راست باز،اس قدر بے باک اور اتنا دیانت دار بھی ہو سکتا ہے ۔ علامہ اقبال فرماتےہیں ،

سبق پڑھ پھر صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

صداقت ،عدالت اور شجاعت یعنی سچائی ،انصاف ،جرات و دلیر ی قائداظم کی شخصیت و کردار میں یہ تینوں خوبیاں موجود تھیں ۔ان کے قول و فعل میں جو مطابقت اور ظاہر و باطن میں جو ہم آہنگی اور یک رنگی تھی جس خلوص اور صدق دل سے انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی قیادت کا حق ادا کیا وہ حق و صداقت کے اعلیٰ ترین معیار پر پورا اترے بغیر ممکن ہی نا تھا ۔

بندہ مومن کا دل بیم ورجا سے پاک ہے
قوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہے

قائداعظم حسن کردار کا مجسمہ،اخوت و قوت و جرات کے پیکر اور محنت و استقلال کا نشان تھے۔دیانت و امانت ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی ۔ان کی ساری زندگی میں اقربائ پروری اور خویش پروری کا شائبہ تک نہیں ہو سکا اور یہی کردار کی عظمت کی وضحی نشانی ہوتی ہے ۔

چند واقعات کی روشنی میں اس بات کی وضاحت ہو سکے گی کہ قائداعظم محمد علی جناح کو کچھ لوگ سیکولر غلط تصور کرتے ہیں ۔

اس واقع کے راوی قائداعظم کے اے ڈی سی احمد محی الدین ہیں ۔ ۱۹۲۹ کا واقع ہے کہ قائداعظم کے کمرے سے شب کے تین بجے آواز آئی اور جب میں وہاں گیا تو دیکھا کہ قائداعظم مسلح پر رب کے سامنے سربسجود تھے ۔

مولانا حسرت موہانی دہلی میں قائداعظم سے ملنے ان کی رہائش گا پہنچے۔مولانا نے اپنی آمد کی اطلاع کے لیے ملازمین سے کہا مگر ہر ایک نے معذوری ظاہر کی ۔ مولانا اپنی دھن اور ارادے کے پکے تھے ،انہوں نے کہا کہ میں ملے بغیر اب نہیں جاوں گا ۔پھر سوچا کہ قائداعظم کا پتا چلا کے بلا اطلاع کے ان کے پاس چلا جاتا ہوں ، انہوں نے ایک روم سے آواز سنائی دی اور جوکھڑکی سے جھانک کے دیکھا وہ مولانا کے الفاظ میں کچھ اس طرح ہے

اندر کمرے میں فرش پر مصلیٰ بچھا ہوا تھا،قائداعظم گریہ و زاری میں مصروف تھے ۔ زیادہ فاصلے کی وجہ سے ان کے الفاظ سنائی نہیں دیے لیکن اندازہ ہوتا تھا کہ ان پر رقت طاری ہے۔ اور اللہ کے حضور مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور حصول آزادی کے لیے دعا و التجا کر رہے ہیں ۔

قائداعظم نے جون ۱۹۳۸ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’مسلمانوں کو کسی ’’پروگرام‘‘تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ان کے پاس ایک ’’پروگرام‘‘ گزشتہ تیرہ سو سال سے موجود ہے اور وہ ’’قرآن کریم‘‘ ہے۔ قرآن میں ہمارے معاشی ،ثقافتی اور تہذیبی مسائل کا حل موجود ہے ۔

قائداعظم نے اپنے خطاب میں فرمایا:

’’میں نے مسلمانوں اور پاکستان کی جو خدمت کی ہے وہ اسلام کے ادنیٰ سپاہی اور خدمت گزار کی حیثیت سے کی ہے۔ اب پاکستان کو دنیا کی عظیم قوم اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے آپ میرے ساتھ مل کر جدوجہد کریں۔میری آرزو ہے کہ پاکستان صحیح معنوں میں ایک اسلامی مملکت بن جائے تاکہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے فاروق اعظم کے سنہری دور کی تصوریر عملی طور پر کھنچ جائے،اللہ میری اس آرزو کو پورا کرے‘‘

مسلم لیگ کے صدر بیرسٹر محمد جان نے قائداعظم سے پوچھا کہ پاکستان کا دستور کیسا ہوگا ؟ قائداعظم نے جواب دیا ’’یہ تو اس وقت کی دستور ساز اسمبلی کا کام ہو گا البتہ ہمارے پاس قرآن مجید کی صورت میں تیرہ سو سال پہلے کا دستور موجود ہے‘‘۔

اگر قائداعظم کی زندگی کو مکمل تفصیل سے پڑھا جائے تو یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ سیکولر یا سیکولرازم کا کوئی ایک نقطہ بھی قائداعظم کی زندگی میں نہیں ملتا جسکو بنیاد بنا کہ یہ کہا جا سکے کہ قائداعظم سیکولر تھے ۔کیونکہ نا قائداعظم لادین تھے ، نا دین اور دنیا کو الگ الگ تصور کرتے تھے ،نا مذہب کو محض ذاتی معاملہ سمجھتے تھے اور نا ہی قومی سیاست کو اپنے مذہب یا دین سے بالکل علیحدہ رکھنے کے قائل تھے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے