یہ تیسری جنس بھی ایک عذاب ہے؟

پاکستان میں خواجہ سراوں کی معلوم تعداد تقریبا5 لاکھ ہے ۔ یہ ہمارے معاشرے کا وہ حصہ ہیں جنہیں کبھی ان کا وہ حق نہیں دیا جس کے بحثیت انسان وہ مستحق ہیں ۔ خواجہ سراوں کو ذہنی طور پر ٹارچر کیا جانا، جبری جنسی تعلقات رکھنے پر مجبور کرنا، بھتہ لینا ، بھتہ نہ دینے پر اور جنسی تعلق نہ رکھنے پرقتل کر دینا اب ایک عام سی بات ہے ۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس مخلوق کا واحد مقصد یہی رہ گیا ہے کہ وہ لوگوں کو تفریح مہیا کرے چاہے اس کیلئے خود اسے اپنی خواہشات کا خون ہی کیوں نہ کرنا پڑے ۔ لوگوں کی خوشیوں میں چار چاند لگانے والے خواجہ سراوں کی اپنی زندگی دیکھ کر انسانیت شرما جاتی ہے۔

پیٹ کی آگ مٹانے کیلئے یہ خواجہ سرا سر شام چاہتے نہ چاہتے ہوئے ناچتے گاتے ہیں ۔ اپنے گھر اور معاشرے سے بری طرح ٹھکرایا جانے والا یہ طبقہ اپنی پیدائش کو کسی جرم سے کم نہیں سمجھتا ۔

اپنے بیگانوں کے طعنوں اور تمسخر نے خواجہ سراوں کی حساس روح کو بری طرح مسخ کر دیا ۔ گھر والے گھر سے نکال دیتے ہیں ، باہر والے اتنا برا سمجھتے ہیں کہ کرایے پر رہائش نہیں دیتے، عبادت گاہوں میں داخلہ بند ہے ۔ اب تو عمرے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تعلیم کے دروازے بند ہیں ، اگر کوئی پڑھ لکھ جائے تو ملازمتوں میں کوٹے کے باوجود نوکری نہیں دی جاتی ۔ مر جائیں تو قبرستان میں تدفین کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے ۔ انہیں کسی نے انسان سمجھا ہی نہیں . جس نے جیسے ، جب اور جہاں چاہا ، تنگ کرنا شروع کر دیا اور اس بے بس مخلوق نے کبھی مسکرا کر جان چھڑائی اور کبھی رو دھو کر جان بچائی .

خواجہ سراوں کے ساتھ شادی کرنے کیلئے بھی کوئی تیار نہیں ہوتا کہ لوگ کیا کہیں گے ؟ لاہور کے 50 علماء کے فتوے کے باوجود بھی معاشرے میں اس رویے کےخلاف کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی .

طعنے ، بیگانوں کا تمسخر ان حساس دلوں کو بری طرح مسخ کر دیتا ہے ۔ اپنے ہی جیسے انسانوں کے ٹھکرانے کی وجہ سے یہ طبقہ اپنوں سے دور اپنی بستی بسا لیتا ہے ، کبھی خود سے ہی کٹ جاتا ہے یا پھر انسانوں میں رہتے ہوئے بھی انسانوں سے دور چلا جاتا ہے۔

معاشرے نے پہلے خواجہ سراوں کو خود سے جدا کیا ، پھر انہیں شرپسند اور بد فطرت لوگوں کے ہجوم میں تنہا چھوڑ دیا ۔ ان پر جتنا ظلم کیا جائے ، انہیں قتل کر دیا جائے ۔ ان پر ہونے والے ظلم کے خلاف نہ کوئی احتجاج ہوتا ہے اور نا ہی ان کیلئے کوئی قانون سازی ہوتی ہے ۔ جب انہیں پیدا کرنے والے ہی ان سے کوئی تعلق نہیں رکھتے تو باقی کیوں خیال رکھیں گے .

یہ خواجہ سرا ووٹ دیتے ہیں لیکن ان سے ووٹ لینے والے کبھی پارلیمان میں ان کے‌حق کیلئے نہیں بولتے . ٹی وی چینلز پراور اخبارات میں بھی ان کے بارے میں کوئی موثر آواز نہیں اٹھائی جاتی . سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کیلئے بولنے والے بھی اس مسئلے پر نہیں بولے . شاید خواجہ سراوں کے حمایت میں بولنے سے لوگوں کو شرم آتی ہے ، شاید لوگ انہیں انسان نہیں سمجھتے یا ان کے حق میں لکھنے سے اپنی توہین محسوس کرتے ہیں .

پارلیمان میں آج تک خواجہ سراوں کے مسائل پر اتنی گفتگو بھی نہیں ہوئی جتنی ٹریکٹر ٹرالی اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کے پش اپس لگانے پر کی گئی . اس بے حس معاشرے میں بے حسی کا راج ہے .

خواجہ سرا ظلم سہتے ہیں ۔ قتل ہو جاتے ہیں لیکن ان کی مظلومیت بھی معاشرے کیلئے کسی مذاق یا تفریح سے کم نہیں ہوتی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے ہی جیسے انسانوں کے بارے میں ہمارا رویہ کب بدلے گا ؟؟؟

ہمیں اس مسئلے پر بات کرنی ہے . کوشش کریں اور اپنے اراکین پارلیمان کو اس موضوع پر بات کر نے کا کہیں . اپنی مسجد کے امام صاحب سے درخواست کریں کہ وہ جمعے کے روز اس مسئلے پر بات کریں . اپنے اسکولز ، کالجز اور مدارس میں بھی اس موضوع پر گفتگو کیجئے . سوشل میڈیا پر اس حوالے سے لکھیں . بلاگ لکھ کر مختلف ویب گاہوں پر بھیجئے . ان مسئلوں کے خاتمے کیلئے آسمان سے فرشتے نہیں آنے ، ہم نے ہی مل جل کر ان کا حل نکالنا ہے . اور حل خاموشی اور بے حسی سے نہیں ، بولنے سے نکلے گا . تو آئیے اس موضوع پر بات کرتے ہیں .

خواجہ سرا وہ مخلوق ہے جو کسی سے خوش ہوتی ہے یہ دعا دیتی ہے ” اللہ تیرے گھر کوئی ہم جیسا نہ پیدا کرے ” لیکن میری دعا ہے کہ ” اللہ کرے ہمارے حکمرانوں کے گھروں میں کوئی ان جیسا پیدا ہو تاکہ انہیں کم از کم انسان تو سمجھا جائے”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے