جس نے مان لیا،سب اسکا

غوث کے لغوی معنی ہیں”دادرس”یعنی مدد کرنیوالا۔غوثیت بزرگی کا ایک اعلٰی درجہ ہے۔حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رح غریبوں،مسکینوں اور بے کسوں کی مدد کرنیوالے تھے. انہیں”غوث اعظم” کا لقب دیا گیا ۔پھر لوگ ان کا اصل نام بھول گئے بس ”غوث اعظم”یاد رہ گیا۔

آپ رح سرکار کے ایک فرزند کا نام حضرت عبدالوہاب رح ہے اور وہ علم و دانش کا منبع تھے 33سال علم حاصل کیا اور بہت سے ممالک کی سیاحت بھی کی۔ پھر غوث پاک رح نے یہ کہتے ہوئے کہ’بیٹے جو علم تم نے حاصل کیا ہے اسے مخلوق خدا میں تقسیم کرو’منبر پر تقریر کی اجازت دی۔

انہوں نے غوث پاک رح کی اجازت ملتے ہی مجمع عام سے خطاب کیا اور الفاظ کی فصاحت وبلاغت کے دریا بہا دیے لیکن لوگوں پر کوئی اثر نہ ہوا ، لاکھوں کا مجمع اپنی باتوں میں مصروف ہو گیا . حضرت عبدالوہاب رح مایوس اور دلبرداشتہ ہو کر نیچے اتر آئے پھر شیخ عبدالقادر گیلانی نے خطاب فرمایا۔

غوث پاک رح منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا”کل میں روزے سے تھا اُمِ یٰحییٰ نے انڈے بھون کر مٹی کے سکورے میں ڈال کر طاق پر رکھے بلی آئی سکورا زمین پر گرا دیا سکورا ٹوٹ گیا اور انڈے خاک میں مل گئے”۔یہ کہنا تھا کہ مجمع میں سے”حق”،”‘حق”کے نعرے لگنے لگے اور لوگ بیہوش ہو کر گرنے لگے۔

حضرت عبدالوہاب رح والدِ محترم سے پوچھتے ہیں کہ یہ کیا ماجرا ہے میری فصاحت وبلاغت کا اثر کیوں نہ ہوا اور آپ کے ایک جملے نے طوفان کیسے برپا کر دیا؟آپ رح نے فرمایا کہ جان ِپدر بات بہت آسان ہے انڈے زندگی بھر کی ریاضت،سکورا زندگی اور بلی نفس(شیطان)ہے لیکن یہ بات پُر اثر اور سمجھانے میں آسان اِس لئے ہوئ کہ میری نظر باطنی خودی پر تھی یعنی حقیقت پر اور تمھیں ظاہری خودی کا غرور تھا۔

خودی عام اصطلاح میں غرور و تکبر کو کہتے ہیں لیکن خودی خود کو پہچان لینا ہے اور خود کو پہچاننے کا مطلب ہے کہ
ہم کیا چاہتے ہیں؟
ہماری خواہشات کیا ہیں؟
پھر یہ جانچنا کے میرا اللہ کیا چاہتا ہے؟
کیا میری چاہت اللہ کی چاہت ہے؟
اُس کے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی چاہت ہے؟

یہیں سے خیر و شر کی جنگ شروع ہوتی ہے. اِسی جواب سے خود کی پہچان ہوتی ہے کیوں کہ ارشاد ِربانی ہے کہ”جس نے خود کو پہچان لیا اُس نے گویا اپنے رب کو پہچان لیا”اگر جواب نفی میں آئے اِس کا مطلب ہے ابھی ہم کچے ہیں ہمیں ریاضت و مجاہدے کی سخت ضرورت ہے .

ابھی ہمارے اندر شر موجود ہے لیکن اگر جواب اثبات میں آۓ تو اسکا مطلب یہ ہےکہ ہم پکے ہو گئے ہیں. عشق ہماری رگ و پے میں سرایت کر گیا ہے . عشق ہی بندگی سکھاتا ہے چاہے عقل روکتی ہی کیوں نہ رہے کیوں کہ عشق عمل کے میدان کا کھلاڑی ہے اورعقل مصلحت کے تانےبانے میں اُلجھی ہو ئی اِک ڈور۔

ایسا نہیں کہ عقل غلط ہے بلکہ مقصد جتنا بڑا ہو منزل بھی اُتنی ہی اونچی ہوتی ہے اور عشق کی طغیانی ہی بحر پار کروا سکتی ہے. یہ عشق ہی کی مہربانیاں ہیں۔اب یقین کر لینا چاہیے کہ خیر ہی خیر ہے، ہم خیر لے رہے ہیں ، خیر میں جی رہے ہیں اور خیر ہی بانٹ رہے ہیں۔

ہاں میں جواب صرف اُسے ہی ملتا ہے جو اندر سے قلندر ہو، دل کا مسلمان ہو ، مَن کا مومن ہو، عشق اُسے ہی عطا ہوتا ہے جس پر نظرِکرم ہو ، یہ توفیق ہے جو نصیب والوں کا مقدر بنتی ہے اور نصیب والے وہ ہیں جو ماننے والے ہیں۔ کیوں کہ جو مان جاتے ہیں وہ مان رکھتے ہیں اُن سے امیدیں بھی اونچی باندھی جاتی ہیں، جو امیدیں پوری کرنے والے ہوں اُن کو بدلے میں حیات ِجاودانی ملتی ہے اُن کا ستارہ اُونچا،روشن اور تابندا ہو جاتا ہے۔

علامہ محمد اقبال رح کی پوری زندگی بھی انھی پانچ فلسفوں خودی،خیر و شر،عقل و عشق،مرد ِمومن یا مردِقلندر اور حیات ِجاودانی کی ترجمانی کرتے گزری ہے اور یہی اُن کی حیات کا محور ہیں۔ سوچا جائے ٹو زندگی میں اِن پانچ چیزوں کے سوا اور کچھ ہے بھی نہیں خودی کے ادراک سے خیروشر کا تعین عشق میں ڈوب کر ایک مرد ِقلندر ایک مردِمومن ہی کر سکتا ہے اور حیات ِجاودانی کا لطف اٹھا سکتا ہے۔

کر پہلے مجھ کو زندگی ءجاوداں عطا
پھر ذوق و شوق دیکھ دلِ بے قرار کا

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے