نکاح مسیار کا پس منظر

عرب معاشرے میں خواتین کے بھاری مہر اور نکاح سے قبل اس کی لازمی ادائیگی کی شرط کی وجہ سے شادی بہت مشکل ہے. نوجوان سالہا سال دن رات کام کر کے بمشکل مہر کی رقم جمع کرتے ہیں. اس رسم کی وجہ سے خواتین کی شادیاں بھی بہت لیٹ ہو جاتیں.

دوسری طرف عربوں نے تعلیم نسواں پر بہت توجہ دی اور خواتین کی بڑی تعداد اعلی تعلیم یافتہ ہو گئ. خواتین نے بلند شرح مہر کے خلاف آواز اٹھائی لیکن شیوخ قبائل جواصل پارلیمنٹ ہے نہ مانے. اس کے متبادل کے طور پر کچھ جرات مند اور مالدار خواتین نے اخبارات میں اشتہارات دئیے کہ ہمیں شوہر چاہئیے اور ہم نان نفقہ، مہر جو ہمارا حق ہے معاف کرتی ہیں بلکہ شوہر کے اخراجات بھی اٹھائیں گی.

شرعا اس میں کوئی قباحت نہیں تھی. یہی رسم آگے بڑھی کہ حقوق معاف کر کے بیوی یا شوہر حاصل کرنا جائز ہے تو نادار خواتین اپنے مستقل ساتھ کے حقوق معاف کر کے پارٹ ٹائم شوہر اور دولت مند مرد مالی خدمت کر کے پارٹ ٹائم بیویاں حاصل کرنے لگے.

معاہداتی طور پر ایسا کرنا جائز تھا اس لیے کئی علماء نے اس کے جواز کا فتوی دے دیا لیکن اگر کسی جائز کام کے نتائج خراب ہوں تو اسے سد ذرائع کے طور پر منع کیا جا سکتا ہے.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے