یونیورسٹیاں منشیات فروشوں کی جنت!

وفاقی دارا لحکومت اسلام آباد کے سکولوں اور نویورسٹیوں کے %53 طلبا و طالبات منشیات کے عادی ہیں۔ معصوم بچوں اور نوجوانوں کو نشہ فروخت کرنے والوں میں کچھ اساتذہ پولیس اور پہلے سے نشے کے عادی طلباء اور طالبات بھی شامل ہیں .

وفاقی دارالحکومت میں پولیس کی ایماء پر منشیات فروشی کی جاتی ہے جسے کوئی روکنے والا نہیں وفاقی دارلحکومت کے تعلیم کے اداروں کی صورت حال یہ ہے تو باقی ملک کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ طلبا و طالبات اس ملک کا مسقبل ہیں لیکن ہمارے ملک کا مستقبل گھر سے تو پڑھنے نکلتے ہے لیکن یونیورسٹیوں اور کالجز میں وہ کیا تعلیم حاصل کرتے ہیں ، کسی کو کچھ نہیں پتا وفاقی دارالحکومت کی یونیورسٹیوں میں ایک بڑی تعداد ان طلبا کی ہے جس کا تعلق دور دارز علاقوں سے ہے جو یا تو یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رپتے ہیں یا تو پرائیویٹ .

ایک محتاط اندازے کے مطابق دور دارز سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والے طلبا و طالبات کی بڑی تعدادمنشیات کی عادی ہے اور وہ ہی دیگر طلبا کو بھی منشیات کا عادی بنا دیتے ہیں . ایک دفعہ اتفاق سے وفاقی دارالحکومت کی نجی پارٹی میں جانے کا موقع ملا جب میں پارٹی میں پہنچا تو پتہ چلا کہ یہاں تو لڑکی کو بھی ساتھ لانا بہت ضروری ہے لیکن لڑکی نہ ہونے پر مجھے باہر ہی رکنا پڑا .

کچھ ہی دیر میں کچھ پولیس والے دوست دکھائی دیے جن سے ملاقات کے بعد میں نے پوچھا کہ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ پارٹی پر آئے ہے اور ساتھ ہی مجھے بھی اپنے ساتھ اندر لے گئے، جب میں اس جگہ پہنچا جہاں پروگرام ہو رہا تھا وہ کم عمر بچوں کو دیکھ کر میرے ذہن میں سب سے پہلے یہ سوال آیا کہ یہ بچے اپنے گھروں میں والدین کو کیا بتا کر آئے ہوں گئے .

اسی دوران ایک لڑکے سے بھی ملاقات ہوئی تو میں‌نے کہا کہ کیا میں آپ سے کچھ جان سکتا ہوں ، اس کا کہنا تھا کہ جی بھائی پوچھیے . تب میں نے اس سے سوال کیا کہ کیا کرتے ہو ؟ اس نے جواب دیا کہ وہ بی بی اے کا سٹوڈنٹ ہے اور اس کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے ، دو سال سے اسلام آباد کی ایک نجی یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ ہے ، کافی عرصے سے اسلام آباد میں ہونے والی ہر پارٹی میں جاتا ہے اور ساتھ میں یونیورسٹی کی ہی ایک لڑکی کو ساتھ لے جاتا ہے.

اسی طرح کے بے شمار بچے اور بچیاں میں نے دیکھیں جو نہ صرف پارٹی میں آئے ہوئے تھے بلکہ وہاں پر موجود تمام منشیات کی وہ چیزیں استعمال کرتے ہیں جس میں ڈانسنگ پلز ، شراب اور آئس کے ساتھ ساتھ کوکین کا بھی استعمال کیا جاتا ہے ، نوجوان نسل کو یہ سب چیزیں پارٹیز میں ہی مہیا کی جاتی ہیں لیکن یہاں سوال تو یہ بنتا ہے کہ یہ تمام چیزیں اس پارٹی تک پہنچتی کیسے ہیں ؟

جب میں نے یہ جاننے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ جو منشیات فروش پارٹی میں آتے ہیں ، ان کے پولیس کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں کوئی نہیں روکتا اور آسانی سے وہ تمام ناکے کراس کرتے ہوئے پارٹیز تک پہنچ جاتے ہیں ، پولیس والوں سے پوچھا کہ اسلام آباد میں ہونے والی پارٹیز کو آپ بند کیوں نہیں کرتے تو پتہ چلا کہ پولیس اہلکار اگر ان پارٹیز کو بند کروا دیں گے تو خود کہاں جا کر رنگ رلیاں منائیں گے.

ایک دفعہ ایک جگہ پولیس اہلکار آئے تو پارٹی بند کرنے کا کہا گیا لیکن کچھ ہی دیر میں دوبارہ پارٹی شروع ہو گئی تو پتہ چلا کہ ایک پولیس اہلکار اس پارٹی میں ایسا ہے جو سینئیر پولیس آفیسر کے ساتھ ہوتا ہے . اس کے کہنے پر پولیس واپس چلی گئی ہے . پولیس اہلکار منشیات فروشوں سے بھی اپنا حصہ لیتے ہیں

ایک منشیات فروش کے پاس جب میں بیٹھا تو اس نے ایک ریکارڈنگ سنائی جس میں پولیس اہلکار یہ کہہ رہا تھا کہ میرے کچھ مہمانوں نے آنا ہے ، ان کے لیے منشیات دے کر جاو ، اگر خود نہیں آسکتے تو میں اپنا ایک بندہ بھیج دیتا ہوں ،

وفاقی دارالحکومت کے طلباء و طالبات کو منشیات سے بچانے کے لیے پہلے منشیات فروشوں کا خاتمہ کرنا ہو گا اورجو دور دارز علاقوں سے آنے والے طلبا و طالبات پر بھی ان کے والدین کو نظر رکھنا ہو گئی اور یونیورسٹی اور کالجز کو بھی ایسا نظام وضع کرنا ہو گا کہ اگر کوئی لڑکی یا لڑکا کالج کے ہاسٹل یا یونیورسٹی سے کہیں جائے تو یویورسٹی کی اجازت اور صرف اپنے والدین کے ساتھ یا قریبی رشتہ داروں کے ساتھ ہی جانے کی اجازت دی جائے.

یہاں تو ایک لڑکی کو اس کی ہی بہن یا کزن بن کر ہاسٹل سے نکال لیتی ہے اور پوری رات منشیات کا استعال کراتی ہیں ، وفاقی دارالحکومت کے اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے %53 بچے منشیات کے عادی ہیں۔کیا بحیثیت ایک قوم ہم %100 بچوں کے عادی نشئی ہونے کے منتظر ہیں؟۔

یقینا اگر دردِ دل رکھنے والے انسانوں کا معاشرہ ہے تو پھر آج دہشت گردی سے سنگین مسئلہ تعلیمی اداروں میں خوفناک حد تک بڑھتا ہوا منشیات کا استعمال ہے،اس پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دینی ہو گی۔

محترم وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بہت مخلص ،محب وطن اور ایماندار انسان ہیں،ماشاء اللہ صاحب اولاد بھی ہیں،اولاد کے درد کو بھی سمجھتے ہوں گے۔ انہیں چاہیے کہ ایسے تعلیمی اداروں کی تفتیش کریں جہاں ایسا کام ہو رہا ہے،جو بھی اورجس حیثیت کے لوگ ملوث ہیں ان کو الٹا لٹکایا جائے. خدا کے لئے اس دیس کے نونہالوں کو محفوظ کریں،پاکستان کا مستقبل محفوظ کریں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے