ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں!

اس وقت ہمارے معاشرے میں مختلف طبقات فکر رہتے ہیں۔ اس کی مجموعی آبادی کا نصف سے زائد احصہ خواتین پر مشتمل ہے۔ جبکہ عمر کے لحاظ سے نصف سے زائد آبادی جوانوں پر مبنی ہے۔

بعض پہاڑوں پر زندگی گزارتے ہیں تو بعض زرعی علاقوں میں، بعض صحرائی علاقوں میں بستے ہیں تو بعض ساحلی علاقوں میں، بعض گرم علاقوں میں تو بعض سرد علاقوں میں،کچھ میدانی علاقوں میں تو کچھ پہاڑی علاقوں ۔ اسی طرح دیہی علاقوں کے باشندے بھی ہیں اور شہروں کے باسی بھی۔

پیشہ کے اعتبار سے یہاں ادب، تعلیم ، تحقیق، صحت، ملازمت ، نظامت، معیشت، زراعت، صنعت، تجارت، سیاست، صحافت، نشرو اشاعت، سیاحت ، ٹیکنالوجی، مزدوری اور افسرشاہی کے پیشوں سے تعلق رکھنے والے موجود ہیں۔ یہاں غریب سے غریب تر اور امیر سے امیر تر طبقات کے لوگ زندگی گزارتے ہیں۔

یہاں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے، مختلف زبان بولنے والے، مختلف ثقافتی و سماجی پس منظر سے وابستہ لوگ رہتے ہیں۔ یہاں مختلف مسالک، مکاتب فکر اور مذاہب کے پیروکار بستے ہیں۔ ایک ہی ملک کے باشندے ہونے کے باوجود مختلف قومیں آباد ہیں جن کی سماجی روایات، رسوم، تاریخ اور ثقافت ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ لوگوں کے کھانے، پینے اور پہنے کی چیزوں سے لے کر آرائش و زیبائش کی چیزوں تک مختلف اور متنوع ہے۔ لوگوں کے تجربات ، رجحانات، مفادات، نظریات اور مسائل و وسائل مختلف ہیں ۔ بعض لوگ مغربی ثقافت سے متاثر ہیں تو بعض عرب ثقافت سے، بعض فارس کی ثقافت سے متاثر تو بعض ہند کی ثقافت کے دلدادہ۔

سندھ سے لے کر کشمیر، بلوچستان سے پنجاب تک، کراچی سے لے کر خیبر اور گوادر سے لے گلگت بلتستان تک نظر دوڑائیں تو جس طرح آب و ہوا، زمین کی زرخیزی، اجناس، فصلیں، پھل، سبزیاں، پودے، جانور اور معدنی وسائل بھی مختلف علاقوں کے مختلف ہیں اسی طرح ہر صوبے، علاقے، ضلع، برادری کے لوگ بھی مزاج، کام کاج، زبان، روایات اور ثقافتی رنگا رنگی کے اعتبار سے مختلف ہیں۔

نظریاتی طور پر پاکستان میں اس وقت مجموعی طور پر مسلمان ، غیر مسلم اور سیکولر (جدت پسند مسلم اور غیر مسلم دونوں) تین بڑے طبقات ہیں۔ یہاں اکثریت کے طور پر مسلمان بستے ہیں ۔مسلمانوں کے چار بڑے مکاتب فکر ہیں ؛ بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث ، شیعہ اثنا عشری ، مودودی فکر سے وابستہ افراد عام طور پر اپنے آپ کو دیوبندی یا بریلوی کے بجائے صرف سنی حنفی مسلمان کہلاتے ہیں۔ اسی طرح شیعہ اسماعیلی، بوہری، نوربخشی، ذکری وغیرہ جیسے قلیل تعداد میں موجود مکاتب فکر بھی موجود ہیں۔ جبکہ بعض مسلمان ایسے بھی ہیں جو اپنے آپ کو صرف مسلمان کہلانا پسند کرتے ہیں۔ غیر مسلم طبقات میں مسیحی، ہندو، سکھ اور آئین پاکستان کے تحت قادیانی شامل ہیں۔ مذہبی جماعتیں پاکستان کو اسلامی ریاست کے طور پر چلانا چاہتی ہیں، تاہم ریاست کے خدو خال پر مذہبی جماعتوں کا بھی کوئی متفقہ منزل اور طریقہ کار نہیں ہے۔ جبکہ دوسری طرف سیکولر طبقہ فکر ایسا طبقہ ہے جو ریاستی امور میں مذہب کے کردار کی نفی کرتا ہے ۔ مسلم اور غیر مسلم اور لبرل شہریوں کی مزید ذیلی درجنوں مذہبی و سماجی اور سیاسی تعبیریں اور تنظیمیں ہیں۔
تمام طبقات میں بعض شدت پسند اور زیادہ تر معتدل لوگ ہیں۔ یوں یہاں ہر طبقہ فکر و عمل موجود ہے۔ یوں پاکستان مذہبی، لسانی، نسلی، علاقائی، ثقافتی، سماجی، سیاسی لحاظ سے ایک متنوع معاشرہ ہے۔ مقامی سطح پر فطری، مذہبی، سیاسی اور سماجی تنوع جتنا پاکستان میں ہے شاید کسی اور ملک میں اتنا تنوع نہیں ہوگا۔ ہمیں اس بات پر فخر کرنا چاہیے، شکر کرنا چاہیے اوار اس عظیم تنوع کو اپنی طاقت بنانا چاہیے۔

ہمارے پاس صرف دو ہی راستے ہیں کہ یا تو اس رنگا رنگی کی نفی کریں اور بزور گولی و گالی سب کو یک رنگ بنائیں جہاں صرف ایک سوچ، نظریہ، قوم کی بالادستی قائم ہو ۔ یہ راستہ منافرت سے شروع ہوتا ہے اور تعصبات کی دیواروں سے گزرتاہوا تشدد، قتل و غارت اور خانہ جنگی و تباہی پر ختم ہوتا ہے۔ جبکہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ اس فطری، سماجی، ثقافتی اور سیاسی تنوع اور رنگارنگی کو تسلیم کریں اس کی تحسین کریں ، معاملات کو مکالمے اور افہام و تفہیم کے ذریعے سمجھنے اور سلجھانے کی تربیت دی جائے۔ یہ راستہ روح عصر کا تقاضا بھی اور ہماری تعمیر و ترقی، استحکام و سالمیت کا کلید بھی۔ یہ فطری آفاقیت اور عصری عالمگیریت کے زمینی حقائق کا ادراک بھی۔

ہمیں مذہبی، سیاسی اور سماجی تنوع کو ایک دوسرے کی کمزوری، شکست اور لڑائی جھگڑے کا باعث بنانے کے بجائے ایک دوسرے کی ضرورت و قوت، باہمی تعاون، ترقی و خوشحالی، امن اور طاقت بنانا چاہیے!!! تاکہ شروع ہو نے والا سال ، گزرتے ہوئے سال سے بہتر ، پُرامن، خوشحال اور ترقی کی طرف گامزن سال بنے!!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے