سوشل میڈیا کے دوست

سوشل میڈیا نے جہاں فاصلوں کو سمیٹ دیاہے ایسے ہی لوگوں کو اپنوں سے بہت دور بھی کردیا ہے۔۔۔بچے ہوں یا بڑے ۔۔ بیٹھے گھر ہوتے ہیں ۔۔۔ مصروف کہیں اور۔۔جسمانی طور پر اہل خانہ کے ساتھ بیٹھے لوگ ذہنی طورپر کہیں اور ہوتے ہیں۔۔معاشرتی اقدار بہت تیزی سے انحطاط پذیر ہیں۔۔ہماری سوچ ۔۔ ہماری زندگی پر کس رحجان کا راج ہے ۔۔ ہم نے یہ سوچنا چھوڑ دیاہے۔۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم اور ڈگریاں زیادہ ہورہی ہیں ۔۔ عقل کی کمی واقعہ ہو رہی ہے۔۔آئی ٹی کی دنیا میں انقلاب ا ٓرہاہے۔۔ اخلاقیات اتنی پستی کی طرف گامزن ہیں کہ بیٹے کو باپ کا لحاظ نہیں۔۔۔ بیٹی ماں سے دور ہے۔۔ بھائیوں میں محبت کے معیار بدل گئے ہیں۔۔مادہ پرستی نے اپنائیت کے نئے میزان متعارف کرا دیئے ہیں۔۔۔پسندیدہ وہ ہی ہے جس کے پاس پیسے ہیں۔۔۔ انسان چاند تک پہنچ گیا۔۔۔ مریخ کی رسائی کا خواہاں ہے ۔۔۔ مگر اپنے پڑوسیوں سے بے خبر ہے۔۔۔ فائیو سٹار ہوٹلوں میں دکھاوے کے کھانے کھانے والوں کو علم نہیں ان کے پڑوس میں بھوک کاراج ہے۔۔۔یتیم بچے ہیں ۔۔ یا پڑوس میں فاقوں کی نوبت آ چکی ہے۔۔۔

انسانوں کی دنیا میں انسانیت کی کمی کا احساس ہونے لگا ہے۔۔۔کمائی میں اضافہ کی دوڑ اور شہرت کے حصول نے سکون غارت کرکے رکھ دیاہے۔۔۔ذہنی سکون دولت سے کم نہیں لیکن ہم سکون سے نا آشنا ہوگئے ہیں۔۔۔ دولت کے حصول کیلئے سکون ہی نہیں صحت بھی برباد کر دیتے ہیں اور پھر صحت کیلئے پیسہ پانی کی طرح بہا کر بھی وہ صحت واپس نہیں لا سکتے جو خود اپنی لا پرواہی سے ضائع کردیتے ہیں۔۔۔ہم معلومات حاصل کرنے میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں۔۔۔ ہر بات ہر خبر سے باخبر رہنا چاہتے ہیں۔۔ مگر سمجھ بوجھ حقائق جاننے کے متلاشی نہیں رہے۔۔۔سوشل میڈیا پر بیٹھے ہوئے ہم ماں باپ ، بہن بھائیوں اور قریبی رشتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔۔۔ مگر یہ سمجھ نہیں آتی کہ جن سے رابطے بڑھا رہے ہیں یا جن کیلئے وقت ضائع کررہے ہیں مشکل وقت میں یہ سوشل میڈیا کے دوست جنازہ تک میں شرکت کیلئے نہیں آتے۔۔ موت کی خبر پر زیادہ سے زیادہ ۔۔۔۔ ویر ی سیڈ نیوز لکھ دیں گے یا ۔۔۔ انا للہ وانا علیہ راجعون پڑھ دیں گے۔۔۔۔اور جوجیتے مرتے ساتھ ہیں۔۔ دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔۔ ان کیلئے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا۔۔
میڈیا ۔۔ آئی ٹی کی لہر نے معلومات میں تو اضافہ کرلیا ہے ذہانت کے مقابلے کم ہو گئے ہیں۔۔۔ ہم لوگ احساسات سے عاری ہوتے جارہے ہیں۔۔معاشرے میں چلتے پھرتے یا سوشل میڈیا پر کئی رشتے اور دوستیاں تو بنا لیتے ہیں۔۔مگر ان دوستیوں سے سچی محبت اور اخلاص نہیں ملتا ۔۔۔ وہ اس لئے کہ ہم نے اصل رشتوں کو اہمیت دینا چھوڑ دیاہے۔۔۔ سچی محبت وہاں ڈھونڈ رہے ہیں جہاں مفادات کے بیو پاری الفاظ کاکھیل کھیلتے ہیں ۔۔ ۔۔عہدوں کا منجن بیچتے ہیں۔ ۔۔۔ مٹھاس کے لہجوں میں خواہشات گھٹڑیاں بھری ہوتی ہیں۔۔ پہلے تعلیمی اداروں او ر یونیورسٹیوں میں تعلیم کے ساتھ اخلاقیات سکھائی جاتی تھیں۔۔۔ اب تو یونیورسٹیز کے اساتذہ کے شاگردوں کے ساتھ سکینڈلز سامنے آ رہے ہیں۔۔۔۔

یونیورسٹیز کے اساتذہ میں ایک حلقہ یاراں ایسا بھی ہے ۔۔۔ جو دن کو کلاس لیتا ہے ۔۔ بعد میں سوشل میڈیا کی کلاس کاحصہ بن کر اپنی ہی شاگردوں کے دوست بن جاتے ہیں۔۔۔ یہی دوست رات گئے تک سوشل میڈیا پر اخلاقیات کو پاوں تلے روندتے ہیں۔۔۔ ایسے اساتذہ کے موبائل فونز کا ریکارڈ چیک کیا جائے تو یہ رات گئے صرف پیغام رسانی ہی نہیں لائیوویڈیوز کالز کے زریعے فاصلاتی تعلیم دیتے ہوئے پائے جائیں گے۔۔۔ بچوں نے اب کافی حد تک والدین سے پوچھ گچھ کا حق بھی چھین لیاہے۔۔۔ مجال ہے جو کوئی والد ، بھائی یاوالدہ اپنے بچے یا بچی سے پوچھ سکے کہ یہ رات گئے آپ کا سوشل میڈیا آن کیوں رہتاہے ؟

سوشل میڈیا کے دوستوں کا پلس پوائنٹ تو یہ ہے کہ بہت پرانے اصل دوست ۔۔ سکول و کالج دور کے کلاس فیلوز۔۔ دیار غیر میں بسے فرینڈز یا اپنے لوگ بھی اس بہانے ٹچ رہتے ہیں۔۔۔ حالات و واقعات سے آگاہی ہوتی رہتی ہے ۔۔ تازہ ترین خبریں اور صورتحال پیش نظر رہتی ہے۔۔کہیں فوتگی کی اطلاع مل جاتی ہے۔۔ کہیں حادثے ، بیماری کی خبر مل جاتی ہے ۔۔ شادی میں شرکت نہ کرنے والے بھی شادی کی تصاویر دیکھ لیتے ہیں۔۔۔ واقعات شیئر ہو جاتے ہیں۔۔۔ مگر کیا کیجئے صاحب ۔۔۔من چلے رات گئے ٹائم لائن پر ناپسندیدہ ویڈیوز بھی شیئر کر دیتے ہیں ۔۔۔ پیچھے سے رات پیغا م بھی آ جاتاہے کہ وائرس ہے میرے آئی ڈی سے کوئی ویڈیو ملے تو ڈیلیٹ کردیں۔۔ایک تیر سے دو شکار۔۔۔اشتہارات تو ایسے ۔۔۔ الامان الاحفیظ۔۔۔سوشل میڈیا ایسا چمکتا سہراب ہے جس کے قریب پہنچ کر کچھ نہیں ملتا سوائے وقت کے ضیاع کے۔۔

سوشل میڈیا پر چمٹے رہنے والے لوگ سردرد کے دائمی مرض کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔۔ پل پل میں دوست بنتے اور دوست بدلتے ۔۔ جھگڑے ۔ ٹینشن ۔۔ نہ سمجھ آنے والے روگ ۔۔ گھروں میں تخلیہ ڈھونڈتی نوجوان نسل ۔۔ ۔ بعض لوگوں میں یہ غلط فہمی ہے کہ ایسے بچے بچیوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے ۔۔۔سوشل میڈیا پر صرف نوجوان نسل نہیں ۔۔۔ ہر عمر کے لوگ چوکے چھکے مارتے نظر آتے ہیں۔۔پروفائل میں عمر کم لکھنا بھی واردات ہے ۔۔ سوشل میڈیا کی دوستیوں کا کوئی ریڈ سگنل ہے ہی نہیں۔۔۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کو متاثر کرنے کی دوڑ لگی ہے۔۔ ہر تیسرا آدمی مدبر، شاعر، ماہر، تجزیہ نگار اور دانشور ہے۔۔ ۔سوشل میڈیا کی دوستیاں محبت میں بدلنے کی داستانیں تو عام ہیں۔۔۔دوستیاں کرنے والوں کیلئے سوشل میڈیا ایک ایسا اندھا کنواں ہے جو نظر نہیں آتا۔۔۔۔مہذب لیجے اور خوبصورت الفاظ سے آغاز کرنے والے اجنبی دوست ملنے کے بعد پچھتاوے اور روگ بن جاتے ہیں۔۔۔

سوشل میڈیا کیلئے بھی ٹائم ٹیبل رکھ دیا جائے تو شاید سوشل میڈیا کو مثبت استعمال ممکن ہے۔۔ موبائل پر سوشل میڈیا کا یہ حال ہو گیا ہے کہ ایک ہی گھر میں بیٹھے لوگ آپس میں باتیں کرنے کی بجائے۔۔۔ اپنے اپنے موبائل پر گم ہو تے ہیں۔۔۔کوئی بات بھی کریں تو ایک دوسرے سے فیس بک ۔۔ ٹوئٹراور دیگر سوشل میڈیا کی پوسٹ کا تبادلہ کرتے اور تبصرے کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔حالیہ ایک رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ نئی نسل نے تو سوشل میڈیا پر دوستیوں کیلئے الگ سے سمز رکھی ہوتی ہیں جن کے نمبر خود ان کے گھر والوں کو بھی پتہ نہیں ہوتے ۔۔ مگر جب کوئی مشکل پڑتی ہے۔۔ دوستوں کی ضرورت ہوتی ہے سوشل میڈیا کے دوست آف لائن ۔۔ فیملیوں کے معاملات اور دکھ سکھ میں شامل نہیں ہوسکتے۔۔ خواہ وہ برے نہ بھی ہوں مگر پس منظر میں ہی پڑے رہتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے