امریکا 7 مسلم ملکوں کیلئے بند، مہاجروں کے داخلے پر پابندی، میکسیکو سرحد پر دیوار بنے گی، صدارتی حکم جاری

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے انتخابی وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے 7مسلم ممالک کے شہریوں کے لئے امریکی ویزے پر عارضی پابندی عائد کردی ، ان ممالک میںشام، عراق، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں، ٹرمپ نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے ، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کرتے ہوئے زیادہ تر مہاجرین کے ملک میں داخلے اور7مسلم ممالک کے شہریوں کو ویزا دینے پر عارضی پابندی عائد کر دی ، ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے فون پر بات چیت کے دوران بھارت کو حقیقی دوست قرار دیا ،

اس موقع پر دونوں رہنمائوں نے دہشتگردی کیخلاف مل کر لڑنے پر اتفاق کیا ۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں بدھ 25 جنوری کو امریکا کی قومی سلامتی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے ایک ’بڑا دن‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کا بھی اعلان کیا ۔ انہوں نے زیادہ تر مہاجرین کے کئی ماہ تک امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دیں گے۔

یہ پابندی صرف ان مذہبی اقلیتی باشندوں پر لاگو نہیں ہو گی، جو ظلم و ستم سے فرار ہو کر امریکا پہنچیں گے۔ٹرمپ نے ایک دوسرے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت افریقا اور مشرق وسطیٰ کے 7مسلم ممالک کے شہریوں کو امریکا کے ویزے دینے پر بھی فوری پابندی عائد کر دی۔ جن میں شام، عراق، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔ نیوز ایجنسی رائٹرز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ بدھ کے روز ٹرمپ سرحدی سکیورٹی کو سخت کرنے کے احکامات جاری کریں گے اور پھر رواں ہفتے کے دوران ہی مہاجرین پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

صدر اوباما کے دور میں امریکی شہریت اور امیگریشن سروس کے چیف کونسل کے عہدے پر فائز رہنے والے ماہر قانون اسٹیفن لیگومسکی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ صدر کے پاس یہ اختیارات ہوتے ہیں کہ وہ عوامی مفاد کو بنیاد بنا کر مہاجرین کی تعداد کو محدود اور مخصوص ممالک میں ویزوں کے جاری کیے جانے پر پابندی عائد کر سکتا ہے۔اپنی انتخابی مہم کے دوران ابتدائی طور پر ٹرمپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ تمام مسلمانوں کے امریکا میں داخل ہونے پر عارضی پابندی عائد کر دیں گے تاکہ کوئی جہادی ملک میں نہ آ سکے۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ملک میں شامی مہاجرین کو زیادہ بڑی تعداد میں پناہ دینےکا اعلان کیا تھا لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہو سکے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت امریکا کا سچا دوست ہے، وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے ، دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کو اپنے ملک کے دارالحکومت کے دورے کی دعوت دی،دونوں رہنمائوں نے گرمجوشی کے ساتھ گفتگو کی اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی، معیشت، دفاع اور جنوبی اور وسطی ایشیا میں سکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر غور کیاگیا۔ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں دونوں قومیںکندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہیں۔ ٹرمپ کے امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ دونوں راہنماؤں کے مابین یہ پہلا رابطہ تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا دنیا کو لاحق چیلنجوں سے مقابلہ کرنے میں بھارت کو ایک سچا دوست اور شراکت کار تصور کرتا ہے۔انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے نئے امریکی صدر کے ساتھ پرجوش گفتگو کی اور دونوں نے باہمی رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آنے والے دنوں میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ انہوں نے بدھ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ انہوں نے امریکی صدر کو بھارت دورے کی دعوت دی۔

واضح رہے کہ نریندر مودی وہ پانچویں غیر ملکی رہنما ہیں جن سے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے بات کی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے کینیڈا، میکسیکو اور اسرائیل کے وزرائےاعظم اور مصر کے صدر سے گفتگو کی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ریاست بغیر کسی حدود کے تعین کے ریاست نہیں کہلا سکتی، ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ میں ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے اپنی سرحدوں کا کنٹرول واپس لے لیا ہے، دریں اثناء میکسیکو میں اپوزیشن رہنمائوں نے اپنے صدر پر زور دیا ہے کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے ان کے ملک کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کی لاگت میکسیکو سے وصول کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقات منسوخ کردیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے