‘قومی ٹیم کی خراب کارکردگی کی وجہ قوم کی سوچ’

پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے ٹیم کی خراب کارکردگی کی وجہ قوم کی خراب سوچ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب قوم سوچ میں مستقل مزاجی نہیں آئے، اس وقت کارکردگی میں بھی بہتری آ سکتی۔

فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹیم ٹیسٹ کپتان نے عوام کی سوچ میں غیر مستقل مزاجی سے پاکستان کرکٹ کو نقصان پو رہا ہے اور اگر یہ رویہ جاری رہا تو آئندہ کوئی بھی کپتان بننے کو تیار نہیں ہو گا۔

مصباح الحق نے کہا کہ میں ایک سال قبل ریٹائرمنٹ لینے لگا تو سب نے کہا کہ ٹور کرنے چاہئیں لیکن اب قوم کہہ رہی ہے کہ شرم کرنی چاہیے اور چلے جانا چاہیے، اگر ہم اس طریقے سے کریں گے تو آئندہ کوئی بھی کپتان بننے کو تیار نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہم ہر سیریز جیتیں یا ہر سیریز میں پرفارم کریں، ہم کوشش کر سکتے ہیں جس میں اچھا یا برا دونوں ہو سکتا ہے۔

ہم چھ سال اچھا کھیل پیش کرتے رہے البتہ چار میچوں میں خراب کارکردگی پر ہماری قوم کے خیالات بدل جاتے ہیں۔

’ہماری قوم کی سوچ میں مستقل مزاجی چاہیے، تب ہی ہماری ٹیم کی کارکردگی میں بھی تسلسل آئے گا۔ سوچ میں تسلسل نہیں ہے، ایک اننگز کے بعد سوچ بدل جاتی ہے تو ٹیم کی کارکردگی بھی ایسی ہی رہے گی‘۔

قومی ٹیم کے کپتان کے حوالے سے سوال پر مصباح الحق نے کہا کہ جس کو بورڈ سمجھتا ہے کہ پاکستان کرکٹ کیلئے بہتر ہے اسے کپتان مقرر کرے، اتنے لوگ بورڈ کو مشورے دے رہے ہیں جو مجھ سے زیادہ عقلمند اور تجربہ کار ہیں، ان کے مشوروں کو بورڈ کو ضرور سننا چاہیے۔

’میں کارکردگی نہیں دکھا سکا، ڈلیور نہیں کر سکا تو پھر میرے مشورے سے کیا بنتا ہے‘۔

سرفراز احمد کو قیادت سونپنے کی بازگشت کے حوالے سے سوال پر مصباح الحق نے کہا کہ میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا، بورڈ جس کو مرضی کپتان بنائے۔

’جس کو بھی مرضی کپتان لے آئیں لیکن جب ہم اپنے مسائل کو حل اور کھلاڑیوں کو بہتر بنانے پر کام نہیں کریں گے، جو بھی کپتان ہو گا اس کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا پھر چاہے وہ میں ہوں، اظہر علی یا سرفراز‘۔

نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں شکستوں کے بعد ٹیسٹ ٹیم کے کپتان نے کہا کہ دنیا میں ہر جگی جیتنے کیلئے اسی طرح کی تیاری بھی درکار ہوتی ہے۔

ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ تیاری کیے بغیر کہیں بھی جا کر کھیلیں اور جیتنے کا خواب دیکھنے لگیں۔ ایسا آسٹریلیا، ہندوستان اور انگلینڈ سمیت تمام ٹیموں کے ساتھ ہو رہا ہے۔

’دنیا بھر کی صورتحال یہی ہے کہ تمام ٹیمیں ہوم گراؤنڈ میں اچھا کھیل رہی ہیں اور اپنی کنڈیشنز سے باہر نکل کر ساری ٹیمیں جدوجہد کر رہی ہیں، تمام ہی ٹیموں کو اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہم صرف پاکستان کو ہی کیوں کہتے ہیں کہ دبئی میں جیتتا ہے حالانکہ ہم نے انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ جیتا اور جنوبی افریقہ میں ون ڈے سیریز بھی جیتی، انڈیا بھی اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھیل کر عالمی نمبر ایک بنا ہے‘۔

مستقبل کے حوالے سے سوال پر مصباح الحق نے کہا کہ وہ نو فروری سے متحدہ عرب امارات میں شروع ہونے والی پاکستان سپر لیگ کے بعد اس بارے میں فیصلہ کریں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے