محمد زبیر نے گورنر سندھ کے عہدے کا حلف اٹھالیا

گورنر سندھ محمد زبیر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا، وہ سندھ کے 32ویں گورنر ہیں۔

انھیں سابق گورنر جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کے انتقال کے بعد صدر مملکت ممنون حسین کی جانب سے گورنر سندھ نامزد کیا گیا تھا۔

حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس کراچی میں ہوئی، جہاں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس سجاد علی شاہ نے محمد زبیر سے حلف لیا۔

تقریب حلف برداری میں وفاقی و صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی اور دیگر اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت موجود تھی، اس موقع پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔

محمد زبیر حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھتے ہیں اور گورنر نامزد ہونے سے قبل نجکاری کمیشن کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی اسد عمر کے بھائی ہیں۔

سابق گورنر سندھ جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی گذشتہ ماہ 11 جنوری کو علالت کے باعث انتقال کرگئے تھے۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی سندھ کے 31ویں گورنر تھے اور انہیں 14 سال سے زائد عرصے تک گورنر کے عہدے پر فائز رہنے والے ڈاکٹر عشرت العباد کی جگہ اس عہدے پر مقرر کیا گیا تھا۔

سعیدالزمان صدیقی نے 11 نومبر 2016 کو گورنر کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا، اس طرح وہ صرف 2 ماہ 2 دن گورنر کے عہدے پر فائز رہے۔

[pullquote]محمد زبیر کون ہیں؟
[/pullquote]

محمد زبیر وزیر مملکت اور نجکاری کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے 18 دسمبر کو تعینات ہوئے اور گورنر کا عہدہ سنبھالنے تک اس عہدے پر کام کر رہے تھے۔

نجکاری کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق محمد زبیر 12 جولائی 2013 سے 17 دسمبر 2013 تک سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین رہے۔

2012 اور 2013 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اقتصادی، ٹیکس اصلاحات اور میڈیا کمیٹیوں کا حصہ رہے۔

1981 سے2007 تک انھوں نے امریکا کی بڑی آئی ٹی کمپنی آئی بی ایم میں کام کیا اور یہاں اپنے 26 سال کیئریر کے دوران پیرس، روم، میلان اور دبئی میں اہم بین الاقوامی ذمہ داریاں ادا کیں۔

محمد زبیر نے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔

1980 میں طالب علم نمائندے کے طور پر وہ آئی بی اے کراچی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے لیے منتخب ہوئے۔

انھوں نے 1980 سے 1986 تک آئی بی اے کراچی کے شام کے کیمپس میں فنانشل مینجمنٹ کا مضمون بھی پڑھایا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے