کوئی شوق سے ریپ کرواتا ہے کیا؟‘

اتر پردیش کے مظفر نگر اور شاملی اضلاع میں سنہ 2014 کے عام انتخابات سے تقریباً نو ماہ پہلے فسادات شروع ہوئے جن میں 60 لوگ ہلاک ہوئے اور ہزاروں کو گھر چھوڑ کر جانا پڑا۔ اسی دہشت بھرے ماحول میں سات مسلمان خواتین سامنے آئیں اور فسادات کے دوران اپنے ساتھ ہونے والے اجتماعی ریپ کا مقدمہ درج کروایا۔ ’نربھیا‘ کے اجتماعی ریپ کے واقعے کے بعد قانون سخت کیا گیا تھا اور ریپ کے معاملات کے لیے ایک نیا قانون لایا گیا تھا۔

ان خواتین کے ریپ کے کیس وہ پہلے کیس تھے جن کی سماعت اس قانون کے تحت ہونی تھی۔ بے گھر، بے روزگار اور خوفزدہ ہونے کے باوجود یہ خواتین اور ان کے شوہر انصاف کی لڑائی لڑنے کو تیار تھے۔ساڑھے تین سال گزر گئے، اب اتر پردیش اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ سنیچر کو مظفر نگر اور شاملی اضلاع میں یہ لوگ ووٹ ڈالیں گے۔سزا تو دور، سات میں سے بعض خواتین کے معاملے میں تو مقدمہ تک شروع نہیں ہوا ہے۔ میں جب ان میں سے ایک خاتون روبینہ سے ملی تو ان کا کہنا تھا کہ ’انصاف تو اب بھی چاہیے لیکن نہ پیسے ہیں، نہ نظام پر یقین رکھتے ہیں۔ تھک گئی ہوں، اب نہیں لڑا جاتا۔‘

جب فسادات بھڑکے تو لوگوں کو سب چھوڑ چھاڑ کر بھاگنا پڑا۔ روبینہ بھی واپس اپنے اپنے گھر کبھی نہیں گئیں۔انہوں نے دوسری عورتوں کی طرح کئی ماہ امدادی کیمپ میں گزارے۔ فسادات کے ختم ہونے کے بعد بھی ڈر اتنا تھا کہ ان کی ہمت ٹوٹ جاتی تھی۔وہ کہتی ہیں ’شروع کے دنوں میں میں بہت گھبرائی ہوئی تھی، بچوں کو جان کی دھمکی دی گئی تھی تو ایک بار اپنا بیان تک بدل دیا لیکن پھر میرے شوہر اور وکیل نے ہمت دی اور میں نے جج کے سامنے سب سچ کہہ دیا۔‘ پولیس میں شکایت، میڈیکل جانچ پڑتال، صحیح بیان اور عدالت کے کئی چکر لگانے کے بعد بھی روبینہ کے کیس میں گرفتاری اور مقدمہ تو دور، چارج شیٹ تک فائل نہیں ہوئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اپنے پڑوس میں وہ ’گری ہوئی عورت‘ کے طور پر ’بدنام‘ ہو گئی ہیں۔وی بتاتی ہیں کہ ’کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ مجھ پر کیا گزری ہے، کوئی شوق سے ریپ کرواتا ہے کیا؟‘

جب ان خواتین نے اجتماعی ریپ کی شکایت کی تو انہوں نے صرف ’نربھیا‘ کے کیس کے بارے میں سنا ہوا تھا۔ان خواتین میں سے ایک نفيسہ ہیں جنہوں نے مجھے بتایا کہ ’ہم ساتوں تو ان پڑھ ہیں، کیا معلوم تھا کتنا وقت لگے گا، بس یہ سمجھ تھی کہ صاف اور سچے بیان دیے تو ان کو (ملزموں) پکڑا جائے گا اور سزا ہو گی۔‘ان خواتین کے ریپ کے کیس میں 29 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی، لیکن پہلی تین گرفتاریاں ہونے میں چھ ماہ لگ گئے۔اس کے بعد بھی سپریم کورٹ میں درخواست دی تو باقی گرفتاریاں کی گئیں لیکن آہستہ آہستہ تمام لوگ ضمانت پر چھوٹ گئے۔نفيسہ کہتی ہیں کہ ’کبھی کبھی افسوس ہوتا ہے کہ کیس کیوں کیا، انصاف ملا نہیں بلکہ ہمیں دھمکیاں ملنے لگیں اور جان کا خطرہ اب بھی ہے۔‘

Rape Victim AJK India house

یہ خواتین ایسے مکانوں میں رہتی ہیں جسے گھر کہنا مشکل ہے، نہ ان پر رنگ ہے، نہ اندر کوئی الماری، فریج، ٹی وی جیسے وسائل، کئی میں تو دروازہ تک نہیں ہے۔یہ مکان بھی اس وقت تعمیر کیِ گئے جب سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی رٹ کی سماعت کے بعد عدالت نے اترپردیش کی حکومت کو فسادات کے متاثرین کو معاوضے دینے کا حکم دیا۔خواتین کو ذاتی تحفظ دیے جانے کا حکم بھی دیا گیا اور ریپ سے متاثرہ خواتین کو معاوضے میں پانچ لاکھ روپے دیے گئے۔

کپڑے، برتن، چھت ایک ایک کر کے سب دوبارہ بنایا گیا۔ اور ان کے پاس عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے پیسے ناکافی تھے۔نفيسہ کا غصے میں کہنا تھا کہ ’ہم نے گھر اور عزت دونوں گنوا دی، اُن کا کیا ہے؟ وہ تو ضمانت پر کھلے گھوم رہے ہیں۔‘فسادات سے لے کر اب تک سات خواتین میں سے ایک کا دورانِ زچگی انتقال ہو گیا اور ایک نے بیان بدل دیا جس کے بعد تمام ملزم بری ہو گئے۔ روبینہ اور نفيسہ سمیت باقی پانچ خواتین میں اب خوف، سمجھوتہ اور انصاف کی خواہش کے درمیان جنگ چل رہی ہے۔ ان تمام خواتین کی قانونی جنگ پر رپورٹ تیار کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کی ماریہ شکیل کے مطابق ان خواتین کی مدد ملے تو وہ اب بھی ہمت کر سکتی ہیں۔

ماریہ شکیل کہتی ہیں کہ ’ایک تحقیق کے مطابق تقسیم کے بعد ہونے والے تمام فسادات میں اب تک ریپ کے تین معاملات میں سزا ہوئی ہے، افسوس کی بات یہ ہے کہ ریپ پر حکومت کے سخت موقف کے باوجود تحقیقات اور انصاف کے عمل میں اب بھی کمی ہے۔‘ریپ کے معاملات کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ میںہوتی ہے جہاں انہیں دو ماہ میں نمٹایا جانا چاہیے لیکن ماریہ شکیل کی رپورٹ کے مطابق تاریخوں پر تاریخیں دی جا رہی ہیں اور کیس طویل ہوتے جا رہے ہیں۔

ان ٹوٹتے ہوئے حوصلوں کے درمیان ایک متاثرہ خاتون نڈر کھڑی ہیں۔ دھمکیوں سے تنگ آکر خالدہ نے اپنے کیس کو مظفر نگر سے منتقل کر کے اس کی سماعت دلی کے نزدیک غازی آباد یا نوئیڈا میں کروائےجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے شوہر کے ذریعے ان سے فون پر بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا ’میں ہمت نہیں ہاری ہوں، کچھ نہیں بھولی ہوں، کیس واپس کبھی نہیں لوں گی، بلکہ جب تک ان کو سزا نہیں ہوتی چین سے نہیں بیٹھوں گی۔‘ وہ اب خود اپنے ضلعے میں نہیں رہ رہیں، میں نے پوچھا کہ ووٹ ڈالنے کے لیے واپس آئیں گی تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایک ووٹ سے کیا فرق پڑے گا، میرے شوہر اپنا ڈال دیں گے، اتنا کافی ہے۔‘

[pullquote]’اس جنگ میں شوہر کا ساتھ ہی سب سے ضروری رہا۔‘[/pullquote]

میں فون رکھنے لگی تو بولیں، ’بہت محبت کرتے ہیں مجھے، کبھی احساس نہیں ہونے دیا کہ میرے ساتھ یہ سب ہو گیا ہے، انہی کی ہمت سے لڑتی رہوں گی۔‘

[pullquote]نوٹ : ان انٹرویوز میں متاثرہ خواتین کے فرضی نام استعمال کیے گئے ہیں
[/pullquote]

بشکریہ بی بی سی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے