سندھ ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے پروگرام "ایسے نہیں چلے گا” پر فی الفور پابندی عائد کر دی

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے متنازع پروگرام ‘ایسے نہیں چلے گا’ پر جاری حکم امتناع واپس لیتے ہوئے بول نیوز اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو 22 فروری کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ پر مبنی سنگل بنچ نے پیمرا کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے واضح کیا 8 فروری کو سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیا گیا فیصلہ سندھ ہائیکورٹ کے علم میں نہیں تھا، سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہے اور پروگرام ‘ایسے نہیں چلے گا’ پر فی الفور پابندی عائد کی جاتی ہے۔

چیف جسٹس نے اپنے مختصر فیصلے میں درخواست گزار اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو 22 فروری کو اپنے جوابات جمع کرانے کے نوٹس بھی جاری کر دیئے۔

سندھ ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت میں پیمرا کے وکیل کاشف حنیف نے عدالت کو بتایا کہ بول نیوز نے حکم امتناع حاصل کرنے کے لیے حقائق کو چھپایا تھا۔

پیمرا کی جانب سے سینئر قانون دان زاہد ایف ابراہیم سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تھے جبکہ ان کی معاونٹ ایڈووکیٹ کاشف حنیف کررہے تھے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل (8 فروری کو) سپریم کورٹ نے بول نیوز کے پروگرام ‘ایسے نہیں چلے گا’ پر پیمرا کی جانب سے عائد پابندی کو برقرار رکھتے ہوئے بول ٹی وی کی انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ پیمرا کے اظہارِ وجوہ نوٹس کا جواب جمع کرائے۔

جس کی کچھ دیر بعد ہی سندھ ہائی کورٹ نے دوسری بار حکم امتناع جاری کرتے ہوئے عامر لیاقت حسین کی میزبانی میں نشر ہونے والے بول نیوز کے متنازع پروگرام ‘ایسے نہیں چلے گا’ پر پیمرا پابندی کو معطل کردیا تھا۔

یاد رہے کہ پیمرا اور بول نیوز کے درمیان اس معاملے کا آغاز 26 جنوری کو اس وقت ہوا تھا, جب میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے بول ٹی وی کے اینکر عامر لیاقت اور پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا‘ پر فوری اور مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔

تاہم پیمرا احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بول ٹی وی پر نہ صرف مذکورہ اینکر کا پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا‘ دکھایا گیا بلکہ اس کے اشتہارات بھی نشر کیے، جس پر پیمرا نے 27 جنوری کو بول نیوز کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔

بول نیوز انتظامیہ کی جانب سے ہی اظہار وجوہ کے نوٹس کا جواب جمع نہیں کروایا گیا جبکہ 27 جنوری کو ہی پروگرام ‘ایسے نہیں چلے گا’ پر پابندی کی خلاف سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناع بھی حاصل کرلیا۔

سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے حکم امتناع سامنے آنے کے بعد پیمرا نے اسے چیلنج کرنے کے لیے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

8 فروری کو سپریم کورٹ میں پیمرا کی اپیل پر ہونے والی سماعت میں عدالت کا کہنا تھا کہ بول نیوز کی انتظامیہ پیمرا کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرسکتی ہے جبکہ ہائی کورٹ تمام فریقین کو سن کر کوئی بھی فیصلہ دے گی۔

سپریم کورٹ کی اس ہدایت کے بعد بول نیوز کی انتظامیہ نے سندھ ہائی کورٹ کا رخ کیا جہاں ایک بار پھر پیمرا کے 26 جنوری کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے عامر لیاقت کے پروگرام ‘ایسے نہیں چلے گا’ کو نشر کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

تاہم آج سندھ ہائی کورٹ نے دونوں فریقین کو سنتے ہوئے اپنا حکم امتناع واپس لیا اور کیس کی آئندہ سماعت کو 22 فروری تک کے لیے ملتوی کردیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے