امریکہ ضداسلام وانسانیت کانام ہے

راقم نے متعدد بار اپنی تحریروں میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ موجودہ دور میں روئے زمین پر امریکہ ضد انسانیت کا مصداق اتم اور اسلام ومسلمانوں کا حقیقی دشمن ہے، اس کا ہم وغم کرہ ارض سے مسلمانوں کے وجود کا خاتمہ کرنا ہے، جس کا کھلا اظہار تازہ برسراقتدار آئے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی مسلم ممالک شام، عراق، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن کو ویزے دینے پر پابندی لگا کر کیا ہے، اس پابندی کا اصل ہدف تو صرف ایران تها دوسرے ممالک پر ایران کے ہمفکر ہونے کی وجہ سے پابندی لگائی گئی تھی، اس لئے کہ آج پوری دنیا کے مسلم ریاستوں میں ایران وہ واحد ملک ہے جو امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرات کرتا ہے اور امریکہ جتنا ایران سے خوفزدہ ہے کسی اور ملک سے نہیں

یوں تو روز ازل سے ہی الہی اور شیطانی طاقتیں برسرپیکار رہی ہیں، ہر زمانے میں الہی طاقت کا ہدف انسانیت کی خدمت ، تربیت نیز انسانیت کے لئے امن و سکون کی نعمت سے مالامال معاشرے کا قیام ، مادی چیزوں سے استفادہ کرنے کے جائز طریقے ، معنویات اور اخلاقیات کی تعلیم دینا رہا ہے اور شیطانی طاقت کے مقاصد ہمیشہ انسانیت کی نابودی، مادیات کو زندگی کا ہدف اصلی قرار دینا ، فطرت کے مخالف اصول کو اپنانے کی ترغیب دلانا ، اسلامی تعلیمات کے منافی کرداروں کو حسین عناوین سے معنون کرکے مسلم معاشرے میں پهیلانا ، قرآنی زرین اصول وقوانين پر فرسودگی کی چھاپ لگا کر قرآن سے دور رہنے والوں کو روشن فکر وخیال جیسے عنوان سے نوازنا رہے ہیں-

شیطانی طاقت کرہ ارض پر کھبی فرعون ونمرود کی شکل میں نمودار ہوکر انسانیت پر ظلم وستم کرتی رہی ہے ، تو کھبی ابوجہل وابولہب کی صورت میں؛ اور ہمارے دور میں شیطانی طاقت کے خارجی وجود کا نام امریکہ ہے، جو روئے زمین سے اسلام اور مسلمانوں کے وجود کو مٹانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہا ہے- امریکہ اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ پوری دنیا پر ہماری حکمرانی ہونی چائیے ، مسلمانان جہاں کو صرف ہماری غلامی میں رہ کر جینے کا حق ملنا چاہئے ، مسلمانوں کے وسائل پر ہمارا قبضہ ہو، مسلمانوں کی زندگی کے سارے امور تعلیم ، سیاست ، معیشت ، ثقافت ، معاشرت ، امنیت اور نظام حکومت ومدیریت کی زمام ہمارے پاس ہو ، اس طویل الامل نے امریکہ کو مجنون بنایا ہوا ہے اور سامراجی طاقتوں کے سرخیل امریکہ اپنے اس آرزو یا خواب کو پورا کرنے کے لئے پوری منصوبہ بندی کے ساتهہ میدان میں آیا اور کهبی مال ودولت کی لالچ دے کر مسلمانوں کو خریدنے کی کوشش کی گئی، تو کھبی مسلمانوں کو دہشتگردی کی آگ میں جلانے کا خوف دلاکر اپنی سلطنت مطلقہ کے زیر سایہ آنے کا حکم دیا، جب دیکھا کہ مسلمان آسانی سے ہماری حکمرانی قبول کرنے والے نہیں ہے بلکہ مسلمانان عالم روز بروز ہمارے اہداف کو خاک میں ملانے کے لئے متحرک ہورہے ہیں

تو اب امریکہ نے مسلمانوں کی اصل طاقت تلاش کرنا شروع کردیا، بڑی تحقیق اور جستجو کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ مسلمانوں کی طاقت نہ ہماری طرح مال ودولت ہے اور نہ ہی سائنس وٹیکنالوجی ،بلکہ ان کی اصل طاقت ان کا اتحاد واتفاق اور ایمان ہے، چنانچہ امریکہ نے مسلمانوں کے اتحاد پر کاری ضرب لگائی اور انہیں اکٹھے ہونے نہ دیا، مسلمانوں کو مختلف جغرافیائی سرحدوں میں اس طرح محصور کردیا کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے بے گانہ وناآشنا ہوگئے-

امریکہ نے مسلمانوں میں قومی ولسانی اور نسلی عصبیت کو اس طرح ہوا دی کہ ان میں امت واحدہ کا تصور کمزور پڑ گیا ، مسلمانوں کی قومی ریاستوں میں اپنے مطلق العنان حکمران مسلط کردیے جو اپنے عوام کے بجائے بیرونی آقاؤں کے وفادار تھے – ان مطلق العنان حکمرانوں نے اپنے آقاؤں کے چشم آبرو پر اپنی ملکی عوام کے حقوق تلف کئے، ان کی آذادی سلب کی اور انہیں بے قیمت وبے وقعت بنارکها، عوام کو اپنے آقاؤں کا خدمتگار بنا رکھا آج اگرچہ اکثر مسلمان ریاستیں امریکہ کی دست نگر ہیں لیکن اس کے باوجود امریکہ اسلام کے مقابل میں خود کو کمزور محسوس کرتا ہے عصر حاضر کے نمرود وفرعون کو ہر لمحہ ایک ہی خدشہ لگا رہتا ہے کہ اسلام کی بازگشت اس کے جمہور تک نہ پہنچنے پائے وگرنہ اس کی نام نہاد انسان دوستی اور جعلی انسانی حقوق کا سارا طلسم بکھر کررہ جائیگا اور خود اس کے عوام اس کے مغرور سینے پر سے سپر اسٹار نوچ کر پھینک دیں گے

خصوصا انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد امریکہ کے خوف وہراس میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، اطراف واکناف عالم میں مسلمان مایوس تھے، غافل تھے ،امریکہ کی غلامی میں زندگی بسر کرنا اپنا مقدر سمجھتے ہوئے خاموش تھے مگر امام خمینی کی بصیرت اور دور اندیشی وایمانی طاقت سے لیس قیادت کی بدولت اسلامی ایران میں انقلاب کامیاب ہوا تو پوری دنیا کے مسلمان فرط مسرت سے محو حیرت رہے، یقینا انقلاب اسلامی کی کامیابی مستضعفین عالم ومسلمانان جہاں کی بیداری کے لئے منارہ نور ثابت ہوا، مسلمانوں کو انقلاب اسلامی ایران نے ایک بار پھر اس قرآنی حقیقت پر باور قلبی پیدا کرنے کا موقع فراہم کیا کہ بالآخر جیت اور فتح حق کا مقدر بن کے رہے گی اور کامیابی حاصل کرنے کا معیار افرادی قوت کا ذیادہ ہونا نہیں بلکہ اللہ تعالی کی ذات اس کے فرامین واحکامات پر دل وجان سے ایمان لاکر عمل کرنا ہے-

امام خمینی کا انقلاب وہ واحد انقلاب ہے جس نے پوری دنیا میں ایک تہلکہ وہلچل مچادی ہے چونکہ یہ انقلاب خالص اسلامی وعوامی انقلاب ہے جس کی راہنمائی شہید مرتضی مطهری جیسے عظیم دانشوروں نے کی اس عظیم جدوجہد کی صف اول میں مسلمان دینی طبقے طلباء مزدور عام چھوٹے ملازم اور کسان وکارگر تھے جس کی قیادت ایک الہی وخدائی شخصیت کر رہی تھی شاہ ایران نے سیاسی طور پر مجبور ہوجانے اور شکست کو واضح طور پر اپنے سامنے دیکھنے کے بعد امام خمینی سے ہر قسم کا سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی اپنے بڑے بڑے عہدیداروں کو ان کے پاس بھیجا مگر سب کو امام کا ایک ہی جواب تھا ملوکیت کا خاتمہ، ایرانی عوام کی حکمرانی، اسلامی تصور حیات اور انقلاب- بالآخر یہ جدوجہد جو 1964 میں امام کی جلاوطنی سے شروع ہوئی فروری میں اپنے انجام کو پہنچی امام جب اپنے وطن واپس لوٹے تو فی الواقع سارا ایران ہی ان کے استقبال کے لئے موجود تھا انسانی تاریخ میں اس سے بڑا استقبال آج تک کسی راہنما کا ہوا ہی نہ ہوگا

امام خمینی کا کردار امت مسلمہ کے لئے مشعل راہ ہے انہوں نے اپنے قول وعمل سے اس انقلاب کو محض ایک مسلکی یاعلاقائی سیاسی تبدیلی سے بڑهہ کر خالصتا اتحاد بین المسلمین کا مظہر بنادیا ایران میں رہنے والے تمام مسلکی فرقے مزہبی اقلیتیں علاقائی قومتیں سب ایک وحدت اسلامی کے آفاق گیر نظام کے تحت موانست وموافقت سے بھر پور زندگیاں گزاررہی ہیں آج تک انقلاب کے بعد کسی قسم کے جہاد, خانہ جنگی یا مسلکی منافرت کی تشدد آمیز یا نفرت انگیز خبر کہیں سے نہیں سنائی دی ہے

آج پاکستان سمیت پوری دنیا کے اسلامی ریاستوں میں غدار وضمیر فروش حکمرانوں کی زیر حکمرانی زندگی بسر کرنے والے مسلمان انقلاب ایران سے درس حاصل کرتے ہوئے ظالم حکمرانوں کا تخت الٹ سکتے ہیں شرط یہ ہے کہ انقلاب اسلامی ایران کو صحیح معنوں میں درک کریں, اس انقلاب کے اسباب وعوامل کا عمیق مطالعہ کریں اور اس کی پوری خصوصیات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی پوری کوشش کریں اور اپنے حقیقی دشمن امریکہ کی سازشوں اور پریپیگنڈوں کو سمجھیں اور مذہبی لسانی قومی عصبیت کو پاؤوں تلے رونڈ ڈال کر اپنے صفوں میں اتحاد واتفاق کی طاقت کو مضبوط کریں، مسلمانان عالم کو یہ بات ہمیشہ کے لئے ذہن نشین کرلینا ضروری ہے کہ امریکہ کھبی بھی مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں بن سکتا چونکہ امریکہ ضد اسلام و انسانیت کا نام ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے