حافظ محمد سعید کا جرم کیا ہے؟

پروفیسرحافظ محمد سعید زیر عتاب آچکے ہیں،وجہ وہی ہے جس کی بنا پر دینی مدارس اور جہادی تنظیمیں ایک عرصے سے زیر عتاب ہیں،یعنی ماضی میں عسکری وجہادی سرگرمیوں میں ملوث رہنا۔تب دینی مدارس اور جہادی تنظیموں کی عسکری تربیت گاہیں معسکر کہلاتی تھیں،جنرل محمد ضیاء الحق شہید مدارس اور جہادی تنظیموں پر فخر کرتے تھے کہ یہاں سے ہمیںخود ناقابل تسخیر سپر پاور سمجھنے والی سوویت یونین کا غرور توڑنے والے جری جاں نثار وجاں سپار افراد مہیا ہوتے ہیں،حافظ محمد سعید بھی ایک جہادی نیٹ ورک کے سربراہ تھے ،وہ بھی اداروں اور حکم رانوں کے منظور نظر تھے ،ان کا نام بھی چوٹی کے محسنین اسلام وپاکستان کی فہرست میں شامل تھا،یہ سلسلہ جنرل کی شہادت کے بعد بھی قائم رہا،یہاں تک کہ نائن الیون کا سانحہ رونما ہوا۔

نائن الیون کے دنوں میں پاکستان میں فوج اور عوام کی باگ ڈور ایک جنرل کے ہاتھ میں تھی،ماضی میں وہ مجاہدین اور جہاد کے حوالے سے نرم گوشہ رکھنے والوں میں شمار ہوتا تھا،لیکن سات سمندر پار سے اس کے پاس انکل سام کی ایک کال آئی کہ ہمارے مطالبات تسلیم کرلو،ورنہ دوبارہ پہاڑوں کے دور میں پہنچا دیے جاؤگے۔جنرل نے اس کال کے جواب میں سپر رکھ دی اور سینہ سپر رہنے کے بجائے سر نگوں ہونے کا فیصلہ کیا۔ہمارے ہوائی اڈے بھی گروی رکھوادیے،ایٹم بم تک بھی انھیں رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کردی ۔وہ انگلی رکھتے گئے اور یہ پابندیاں گاتا رہااورجیش محمد ،لشکر طیبہ ،سپاہ صحابہ اور تحریک جعفریہ عوام میں رسوخ رکھنے اور ایک معتد بہ ووٹ بینک رکھنے کے باوجودیہ جماعتیں کالعدم کی تلوارکی زد میں آگئیں اور ان کے تمام دفاتر سیل ہوگئے،سرگرمیوں پر پابندیاں عاید کردی گئیں،اکاؤنٹس منجمد اور سرکردہ راہ نما پابند سلاسل کردیے گئے ۔

چناں چہ حافظ سعید نے سرگرمیوں کا رخ رفاہ عامہ کے کاموں کی طرف کردیا،ہر اس ادارے اور محکمے کے پاس اپنی صفائی کے ٹھوس دلائل لے کر گئے جہاں انھوں نے ضرورت سمجھی، ان کا کام ایک نئے عزم کے ساتھ جاری رہا،ملک کے طول وعرض میں ہسپتالوں،رفاہی اور تعلیمی اداروں کے نچھے ہوئے جال دیکھ کر ہر شخص ان کی خدمات کا اعتراف کرے گا۔اس دوران وہ انڈیا اور امریکا کی ہٹ لسٹ میں بھی آگئے،اقوام متحدہ نے بھی انھیں ”دہشت گرد”ڈکلیئر کیا،لیکن وہ وہاں سے بھی سرخروہوئے،امریکا کو بھی مطمئن کیا اور اقوام متحدہ کو بھی،رہا انڈیا …تو اس کے ساتھ کشمیر کے تنازعے کے حل کے بغیر کسی اور آپشن پر صلح گویا اپنی جماعت ہی کی نہیں تمام مجاہدین کی قربانیوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہوتا،سو اس کے لیے حافظ صاحب ہی نہیں کوئی بھی غیور اور جری مسلمان ،جسے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم ومقہور مسلمانوں کے اوپر انڈین آرمی کی قہر سامانیوں کا کچھ بھی ادراک واحساس ہو،تیار نہیں ہو سکتا۔

انڈیا نے انھیں بار ہا طلب کیا،اب جب حکومت پاکستان نے ان کو نظر بند کردیا ہے تو ایک بار پھر انڈیا کی رال ٹپک رہی ہے اور وہ بھی اپنے دیرینہ ورپرست امریکا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ”ڈومور”کا مطالبہ کرنے لگا ہے،لیکن یہ شاید اس کی بھول ہے،جمہوری حکم رانوں کی اپنی مجبوریاں ہوں گی،مگر فوج کی کمان اس وقت ماضی کی طرح وطن ودختران وطن فروش طالع آزما ڈکٹیٹر کے ہاتھ میں نہیں،ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جو ہندو بنیے کی رگ رگ سے واقف ہے ،وہ اس کے ناپاک عزائم کو ماضی میں محاذوں پر بھی ناکام بنا تا رہا ہے اور ان شاء اللہ اس کی قیادت میں اب بھی بھارت کی کوئی ناپاک خواہش پوری نہیں ہوگی۔حافظ صاحب کو سرکار نے کیوں نظر بند کیا ؟اس کے اسباب ومحرکات سے قطع نظر، اس فیصلے کو ملک بھر میں اچھی نظر سے بہر حال نہیں دیکھا گیا اور مختصر نوٹس پر ملک کے بڑے بڑے شہروں میں جس طرح عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر امڈ آیا ، ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ حافط سعید کو رہا کیا جائے،اس سے حکومت اوراداروں کو عوامی امنگوں کا اندازہ لگا لینا چاہیے۔

المیہ ہے کہ اب تک ہماری حکومت کی اپنی خارجہ پالیسی واضح نہیں ہے اور ہر طرف سے بیرونی خطرات میں گھری نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آنے والی مملکت وزیر خارجہ کے بغیر چل رہی ہے۔کشمیر کاز اور کشمیر کی آزادی اس ملک کے سرفہرست مسائل میں تو ہمیشہ رہاہے ،لیکن لاکھوں افراد کی قربانیوں کے باوجود منزل ہنوز دور است۔کشمیر کی آزادی کے لیے لڑنے والے مقامی راہ نما ہی ایک فورم پر اب تک متحد نہیں ہو سکے ہیں اور دوسری جماعتوں سے قطع نظر وہاں حریت کانفرنس بھی کئی دھڑوں میں تقسیم ہے۔ان کے خلوص میں شبہ کی گنجایش نہیں ،لیکن ان کا کشمیر کمیٹی ہی پر تمام ملبہ ڈال دینا اور اپنی توپوں کا رخ دشمن کے بجائے مولانا فضل الرحمن کی طرف کرنا اور ان سے کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ چھوڑ دینے کا مطالبہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ہماری خارجہ پالیسی نے پرویز مشرف کے دور میں جو یو ٹرن لیا تھا،اس میں بظاہر کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔

مقام تأسف ہے کہ جس ڈکٹیٹر نے دینی وجہادی جماعتوں کو کالعدم قرار دیا تھا،وہ خود کالعدم ہو چکا ہے،عدالتوں سے اشتہاری مجرم ڈکلیئر کیا جاچکاہے،اس کے باوجود اس کا یہ فیصلہ نہ صرف برقرار ہے ،بلکہ جس کی بھی راہ روکنی ہو اس پر کالعدم کی پھبتی کسی جاتی ہے۔حال ہی میں چوہدری نثار علی خان نے دفاع پاکستان کونسل کے راہ نماؤں سے ملاقات کی تھی ،جن میں کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما مولانا محمد احمد لدھیانوی بھی شامل تھے ،اسے بنیاد بناکر پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے جغادریوں نے جو ہاہاکار مچائی ،وہ کسی سے مخفی نہیں۔

آمدم بر سر مطلب،چیف جسٹس کو سوموٹوایکشن لیتے ہوئے ایک تواس کالعدم والے قضیے کو حل کرنا چاہیے اورہماری حکومتوں کو مل بیٹھ کر یہ بات طے کرلینی چاہیے کہ جہادی تنظیمیں یا مدارس جس دور میں جہادافغانستان وکشمیر میں سرگرم رہے،یہ ان کا ذاتی نہیں ریاست کا فیصلہ تھا،لہٰذا ”دہشت گرد”اور ”مشکوک”کی رٹ ترک کرتے ہوئے ان کی اہمیت وافادیت کو تسلیم کرنا چاہیے،ورنہ یہ حقیقت ارباب اقتدار سے بھی مخفی نہیں کہ یہ پرامن لوگ سراپا احتجاج بن گئے تو انھیں سنبھالنا حکومتوںکے بس کاروگ نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے