ڈاکٹر جب قصائی بنتے ہیں

پچھلے دنوں لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال میں شارٹ سرکٹ سے نو زائیدہ بچوں کے وارڈ میں لگنے والی آگ نے بہت سے گھرانوں کو آہ و زاری کرنے پر مجبور کر دیا۔ خادم اعلیٰ کہلانے والے وزیر اعلیٰ کے شہر میں رونما ہونے والا یہ اندوہناک واقعہ بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں جان و مال کا تحفظ کوئی نہیں ہے، ہسپتال کے اندر مسیحا کے روپ میں عوام کو بے دردی سے لوٹا جاتا ہے۔ ہسپتال میں مسیحا نما ڈاکٹر جس طرح مریضوں کو لوٹتے ہیں اس کی نظیر پوری دنیا میں نہیں ملتی یہ مسئلہ صرف پنجاب میں ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں ہے ۔ مسیحا حضرات اپنے مطالبات کے لئے ہڑتال کرتے ہیں جو ما ن بھی لئے جاتے ہیں کوئی ان سے یہ نہیں پوچھتا کہ آیا آپ سرکاری ڈیوٹی بھی صحیح طریقہ سے انجام دیتے ہیں یا نہیں؟؟

آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی میں چند گھنٹوں کے لئے ہسپتال آتے ہیں کچھ دیر آرام کے بعد ہسپتال میں داخل مریضوں کی وارڈ کا دورہ کیا، پھر یہ جا وہ جا۔ کچھ ڈاکٹر تو اتنی جلدی میں ہوتے ہیں کہ مریض کے سرہانے پڑی فائل کو سرسری سا دیکھا، سٹاف نرس کو کچھ ہدایات دیں اور یوں باری باری ہر مریض کی فائل کا جائزہ لے کر اپنے آفس میں بیٹھ جاتے ہیں ۔ جہاں آئے چند مریضوں کو دیکھ کر اور فارما سیوٹیکل کمپنی کے نمائندگان سے بات چیت میں وقت گزار تے ہیں۔ پھر چائے کا دور چلتا ہے جہاں مریضوں کی ٓامد روک دی جاتی ہے۔پھر ان مسیحا کو اپنے پرائیویٹ کلینک سے فون آتا ہے اور یہ مسیحا اپنی چند گھنٹے ڈیوٹی ادا کر کے اپنے پرائیویٹ کلینک کا رُخ کرتے ہیں۔ سرکاری ہسپتال تو ان کے لئے بکنگ سنٹر ہیں، جہاں آنے والے مریضوں کو اپنے پرائیویٹ کلینک یا ہسپتال میں آنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ سرکاری ہسپتال میں سہولیات کے فقدان کا رونا رو کر اپنے پرائیویٹ کلینک یا ہسپتال آنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔

بہت سے مسیحا وہ ہیں جو فارما سیوٹیکل کمپنی سے مراعات حاصل کر کے بدلہ میں ان کی ادویات مریضوں کو لکھ دیتے ہیں ۔ چاہے وہ ادویات مریضوں کی ضرورت ہے یا نہیں ۔ ا ن ادویات سے معیاری ادویات کم قیمت پر بازار میں مل جاتی ہوں ، مگر انہوں نے اپنا ٹارگٹ پورا کرنا ہے۔پاکستان کے ہر شہرمیں ڈاکٹربرائے فروخت ہیں جس کا جتنا بڑا نام ہوگا اُس کی اتنی بڑی ڈیمانڈ ہو گی ، گاڑی سے لے کر لگژری بنگلوں تک ادویات کی کمپنیز ان کو فراہم کرتی ہیں اور یہ کمپنیز کی مہنگی ادویات لکھتے ہیں چاہے مریض کی جیب اجازت دے نہ دے۔

سرکاری ہسپتال کی ادویات کا وہ معیار نہیں جو بازار میں فروخت ہونے والی ادویات کا ہوتا ہے۔ سرکاری ہسپتال میں اچھے معیار کی ادویات بھی ہوتی ہیں لیکن وہ باہر ہی فروخت ہو جاتی ہیں۔ کروڑوں کی یہ ادویات لاکھوں میں فروخت ہو جاتیں ہیں، جس کے چند حصہ دار ہوتے ہیں اور اکثر ہسپتالوں میں میڈیکل سپریٹنڈنٹ ان ادویات کی چوری میں ملوث ہوتے ہیں۔ اودیات کے سٹور کا انچارج اس طرح ادویات کا حساب رکھتاہے کہ چوری کا شبہ تک نہیں ہوتا۔ معمولی قیمت کی ادویات مریضوں کو دے دی جاتیں ہیں، باقی ادویات بازار کی لکھ دی جاتی ہیں جہاں ان مسیحا کا کمیشن علیحدہ سے طے ہوتا ہے۔

سرکاری ہسپتالوں میں آپریشن کے وقت مریض کے لواحقین کو آپریشن میں استعمال ہونے والی اشیاء کی ایک لمبی چوڑی فہرست تھما دی جاتی ہے، کہ شائد ان کے بغیر آپریشن نہ ہو یہ سوچ کر لواحقین بیچارے بھاگم بھاگ مطلوبہ ادویات وغیرہ لا کر آپریشن تھیٹر میں موجود اسٹاف لودے دیتے ہیں۔ آپریشن ڈے کے دن جتنے ادویات کے لفافے آپریشن تھیٹر میں جمع ہوتے ہیں، وہ سب چھٹی کے بعد ہسپتال کے باہر مخصوص میڈیکل سٹور پر فروخت کر دیئے جاتے ہیں۔اس چوری میں ڈاکٹر اور عملہ دونوں شامل ہوتے ہیں۔

پرائیوئٹ ہسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ جو لوٹ مار کا بازار گرم ہوتا ہے سو ہے ، لیکن ان ہسپتالوں میں موجود فارمیسی بھی لوٹنے میں اپنا ثانی نہیں نہیں رکھتی ، زائد المیعاد اور اصل قیمت سے زیادہ پر ادویات فروخت ہوتی ہیں۔ یہاں پر بھی ادویات کمپنیز کے ساتھ مک مکاؤ کی پالیسی پر عمل کیا جاتاہے۔ یہ ڈاکٹر اپنی ادویات سستے داموں فرنچائز کر لیتے ہیں اور پھر وہی ادویات خود دھڑا دھڑ مریضوں کو لکھ کر لوٹ مارپروگرام میں شامل ہوکر اول پوزیشن حاصل کرنے کی کو شش کرتے ہیں۔

(ان مسیحا نما قصائی ڈاکٹرز کو کوئی پوچھنے والا نہیں ، یہ روزانہ لاکھوں کمانے والے ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں یا نہیں؟؟ کون ان سے پوچھے ؟ہمارا پورا نظام ہی کرپٹ عناصر کے ہاتھوں میں ہے۔ غریب مریض بغیر علاج کے مرتے رہتے ہیں گے اور کوئی ان مسیحاؤں کو پوچھنے والا نہیں کہ تم نے اپنا فرض پورا کیا کہ نہیں!!!)

کچھ عرصہ سے ہر شہر میں بڑے بڑے میٹرنٹی ہوم کھل گئے ہیں جہاں پر نارمل ڈلیوری کی بجائے آپریشن کا مشورہ دیا جاتا ہے۔لوگ کچھ نئے آنے والے مہمان کے آنے کی خوشی میں اور کچھ اپنی کم علمی کی وجہ سے ان کے’’ ہتھے‘‘چڑھ جاتے ہیں۔ یوں نارمل ڈلیوری آپریشن میں تبدیل ہو کر ان لیڈی ڈاکٹرز کی کمائی کا ذریعہ بنتی ہے۔ ہمارے ایک دوست نے کہا کہ اس کی بیوی حمل سے تھی ، شہر کے مشہور پرائیویٹ ہسپتال کی معروف لیڈی ڈاکٹر کا چیک اپ ہوتا رہا۔ ایک دن صبح صبح درد ہونے لگا بھاگم بھاگ اسی ہسپتا ل چلے گئے ، ابھی ہسپتال کا عملہ بھی نہیں پہنچا تھا۔ ڈاکٹر سے رابطہ کیا تو اس نے مختلف ٹیسٹ اور ایکسرے کرنے کا کہہ دیا، یہ سب کچھ کرنے کے بعد پھر ڈاکٹر کو کال کی لیکن وہ اپنے وقت پر 10 بجے کے بعد آئی۔ رپورٹ اور ایکسرے دیکھنے کے بعد کہا کہ یہ ڈیلیوری نارمل نہیں ہو گی ، کچھ پیچدگیاں ہیں آپریشن کرنا پڑے گا، اتنی فیس جمع کروا دیں آج ہی آپریشن ہو جائے گا۔ آپریشن سے ہم بھی خوفزدہ تھے ہم نے ہسپتال کے واجبات ادا کئے اور دوبارہ آنے کا کہہ کر آگئے۔ یہاں میرے ایک دوست کی جاننے والی بوڑھی اماں دائی تھی، جن کی زیادہ عمر سعودی عرب کے کسی ہسپتال میں دوران ملازمت گزری تھی، سے رابطہ کر کے زچہ کا معائنہ کروایا۔ معائنہ کرنے کے بعد اماں دائی نے کہا کہ ابھی بچے کی پیدائش کے دن پورے نہیں ہوئے۔ چھ دن بعد بچہ کی پیدائش نارمل طریقہ سے ہو گی۔ اور ٹھیک ساتویں دن انہی اماں دائی کے ہاتھوں نارمل طریقہ سے بیٹا پیدا ہوا۔

حکومت عطائیت کو ختم کرنے کے بڑے دعوے کرتی نظرآتی ہے لیکن ختم نہیں کر سکتی۔ ان عطائیوں کے کلینک کے باہر کوالیفائڈ ڈاکٹر کے نام کا بورڈ لگا ہوتا ہے ، جس کی ڈاکٹر باقاعدہ ماہانہ فیس وصول کرتا ہے۔ اور تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔ ایک ہی ڈاکٹر کے نام کے کئی جگہ پر بورڈ لگے دکھائی دیتے ہیں۔گویا عطائیت کے فروغ میں ان ڈاکٹرز کے کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

اپنے مطالبات کے لئے ڈاکٹر ہڑتال پر چلے جاتے ہیں، ان ڈاکٹرز کے ڈسے ہوئے مریض کہاں اور کیسے ہڑتال کریں؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے