پشاور زلمئے

روایات، ثقافت اور کھیل کا حسین امتزاج، میدان میں پشتو مو سیقی، زلمئے کے نعروں سے گونجتے ہوئے پشاور زلمئے کے سٹینڈسر پر قبائلی پشتون ثقافت کی نشان،شملہ ( پگڑی) لئے ایک زلمئے( نوجوان) نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ کراتے ہوئے اور اپنے مخصوص شلوار قمیص میں ملبوس پشاور زلمئے کے چئیرمین جاوید آفریدی اور دوسرے کئی جوان ۔۔۔دبئی کے خوبصورت میدان میں پشتون ثقافت اور روایات کا ایک دلکش نظارہ پیش کرتے ہوئے اپنی ٹیم کے حوصلے بڑھانے میں سرگرم اور پُرجوش زلمئے کی انتظامیہ اور سپورٹرلا محالہ آپکی توجہ اور سوچ کو اپنی طرف کھینچ لے ہی آتے ہیں.
ہم سنتے آرہے ہیں کہ کھلاڑی اپنے ملک کی ثقافت اور روایات کے سفیر ہوتے ہیں. پی۔ ایس۔ ایل کی رونقیں اپنی عروج پر ہیں۔ دبئی کے دلکش میدان میں پشاور زلمئے کے سٹینڈز پرخوب نظر آتا ہے ۔ کرکٹ کا یہ میلہ جو پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوششوں سے گذشتہ سال سے متحدہ عرب امارات میں خوش اسلوبی سے منعقد ہوتا آرہاہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں کی نمائندگی بشمول اسلام آباد کے رکھتا ہے ۔ پنجاب کی نمائندگی لاہور قلندرز کر رہے ہیں۔ جبکہ سندھ سے کراچی ٹائیگرز اہلِ کراچی اور سندھ کے لہو کو گرمانے میں مگن ہیں۔ بلوچستان سے کوئٹہ گلیڈ ئیٹر نمائندگی کا علم لئے میدان میں اُتری ہے۔ جبکہ پشاور زلمئے نے صوبہ سرحد کے پشتون علاقے کی نمائندگی کا بیڑہ اُٹھایا ہے۔
پاکستان کے چاروں صوبوں کی ثقافت اور روایات اپنی جگہ بہت شاندار اور قابلِ رشک ہیں۔ پنجاب کی ثقافت اور تہذیب بذاتِ خود ایک دنیا اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ جبکہ سندھ کی سرزمین تو جیسے برسوں اور صدیوں سے تہذیب و ثقافت کا مرکز رہا ہے۔ یہی حال کوئٹہ کا ہے۔ پشتون تہذیب اور ثقافت بھی ہزاروں سال پُرانی اور اپنے مخصوص انداز اور طرز کی وجہ سے ایک الگ مقام رکھتی ہے۔
لیکن پی۔ ایس ۔ایل کے اس میلے میں صرف پشاور زلمئے کے طرز اور اسلوب اپنے روایات اور ثقافت کی عکاسی کرنے اور یہاں پر اور دنیا میں دیکھنے والے ہزاروں شائقینِ کرکٹ کو پشتون قوم کی ثقافت اور روایات سے آگاہ کرنے میں کوشاں نظر آتے ہیں۔

بظاہر تو یہ کھیل کا میدان ہے۔ یار دوستوں کا یہ بھی کہنا ہے۔ کہ یہ خالصتا ایک کمرشل اور تفریحی ایونٹ ہے ۔ سو اس میں ثقافت اور روایات کا کیا کام۔۔۔۔ میرے خیال میں یہ بھلے ایک تفریحی اور کمرشل ایونٹ ہو۔ بھلے اس کا مقصد ثقافت اور تہذیب کو فروغ دینا نہیں ہو۔ لیکن اگر کھیل کے میدان میں نہایت ہلکے اور خوبصورت انداز میں ہم دنیا کے سامنے اپنے علاقے اور صوبے کی روایات اور ثقافت کو بھی اُجاگر کر لیں تو اس سے زیادہ اچھی کونسی بات ہوگی۔

ہم پاکستان کے چار صوبوں کے چار خوبصورت رنگ اور اسلام آباد جو سلسہء پھوٹوہار کی خوبصورت تہذیب و ثقافت کا عکاس ہے ۔ کی تہذیب و ثقافت کی جھلک بھی اگر کھیلوں کے اس بڑے میلے میں اپنے لوگوں اور دنیا کے دوسرے ناظرین تک کھیل کے ساتھ پُہنچادیں تو میرے خیال میں اس سے قابلِ قدر او ر قابلِ تحسین بات اور کوئی نہ ہوگی۔ .

اور اپنے تہذیب و ثقافت کی یہ خدمت اس وقت میرے خیال میں صرف پشاور زلمئے ہی بطریقہ احسن انجام داے رہی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ پشاور زلمئے میرے خیال میں متحدہ عرب امارات میں بسنے والے لاکھوں پشتونوں کے دلوں میں اپنا گھر بنا چکی ہے۔ جسکی وجہ میری نظر میں صرف یہی ہے کہ اسکو ہر پشتون اپنے اصل اور اپنے تہذیب کے بہت قریب پاتا ہے۔ یہی جوش و جذبہ میں پاکستان کے دوسرے ٹیموں کے لئے قدرِ کم دیکھتا ہوں۔ حالانکہ امارات میں پنجاب اور بلوچستان یا پھر سندھ سے آنے والے ہمارے پاکستانی بھائیوں کی کمی نہیں ہے۔

پشاور زلمئے نے اس حوالے سے جو اپنی انفرادیت قائم کی ہے۔ اسکے لئے اسکے چئیرمین جناب جاوید آفریدی اور اسکا پورا عملہ بجا طور پر تحسین و آفرین کامستحق ہے۔ کہ انہوں نے بڑی فراخدلی اور محبت کے ساتھ اس کمرشل ایونٹ میں بھی اپنی تہذیب اور ثقافت کو بھر پور جگہ دی۔ بلکہ ایک ملاقات میں جاوید آفریدی نے تو پشاور زلمئے کی پی۔ایس۔ایل میں شمولیت کا ایک اہم مقصد یہی بتایا۔ تاکہ ہم اپنے لوگوں ، اپنے علاقے اور اپنی روایات کو دنیا کے سامنے بہتر انداز میں پیش کر سکیں۔ اور اس کوشش کی تحسین و آفرین پورے امارات میں بسنے والے لاکھوں پشتونوں کا پشاور زلمئے کے لئے محبت اور جوش ہے جو کہ میدان میں دوسری ٹیموں سے کہیں زیادہ ہمیں نظر آتا ہے۔ پشاور زلمئے نے بجا طور پر روایات ۔۔ ثقافت اور کھیل کے حسین امتزاج کا ایک نہایت خوبصورت اور قابلِ تقلید نمونہ ہمارے سامنے رکھ کرجو پیغام اپنے ترانوں کی زبانی دیا وہ بھی ہماری دوسری ٹیموں سے مختلف اور منفرد ہے۔

یہی پیغام زلمئے کا وطن کی لاج رکھنا تم۔۔۔۔۔۔۔ یہ سُونے کھیل کے میدان اب آباد رکھنا تم
میں اُمید کرتاہوں کہ پشاور زلمئے کی طرح ہماری دوسری ٹیمیں بھی اپنے روایات اور ثقافت کی عکاسی اپنے موسیقی ، اپنے انداز اور اپنے لباس سے کرتی ہوئی پی۔ ایس۔ ایل کے اس خوبصورت میلے کو اور بھی دلکش اور خوبصورت بنا سکتی ہیں۔ اور کھیل کے میدانوں سے ہم دنیا کو بہتر طور پر اپنی ثقافت اور خوبصورت روایات سے روشناس کراسکتے ہیں۔کیونکہ اگر کھیل میں شاہد آفریدی ڈیرن سمی اور ویاب ریاض کاجذبہ ہو۔ اور میدان سے باہر پشاور زلمئے کے طرز پر ایک خوبصورت ثقافتی اور روایتی منظر کشی ہو۔ تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ ہم واقعی کھیل کے میدانوں کے ذریعے دنیا کو اپنی امن و محبت کا وہ پیغام دے سکتے ہیں۔جو ہمارے مزاج اور تہذیب کا حصہ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے