چارسدہ میں ضلع کچہری پر حملہ، 3 دہشتگرد ہلاک

چارسدہ: خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میں ضلع کچہری کے قریب 3 دھماکوں کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 15 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ 3 حملہ آوروں کو بھی ہلاک کردیا گیا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) مردان اعجاز خان نے ابتداء میں بتایا کہ چارسدہ کے علاقے تنگی میں ایک خودکش حملہ آور نے ضلع کچہری میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس کی فائرنگ پر اس نے خود کو اڑا لیا، جبکہ دوسرا حملہ آور کچہری کے اندر داخل ہوگیا، جسے بعد میں پولیس نے ہلاک کردیا۔

حملے سے قبل حملہ آوروں نے فائرنگ کی اور دستی بم بھی پھینکے۔

بعدازاں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سہیل خالد اور ضلعی ناظم چارسدہ فہد خان نے بتایا کہ حملہ آور 3 تھے، جنھیں ہلاک کردیا گیا، 2 حملہ آور پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے، جبکہ تیسرے نے خود کو دھماکے سے اڑایا۔

ابتدائی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ تینوں حملہ آوروں نے خودکش جیکٹس پہن رکھی تھیں تاہم ڈی آئی جی مردان نے ایک خودکش دھماکے کی تصدیق کی۔

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) چارسدہ فیاض خان کے مطابق حملے میں ایک وکیل سمیت 5 افراد جاں بحق ہوئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں اور سیکیورٹی فورسز جائے وقوع پر پہنچیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ہلاک اور زخمی افراد کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

دوسری جانب پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور چارسدہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

[pullquote]عینی شاہدین کے تاثرات
[/pullquote]

عینی شاہدین نے بتایا کہ انھوں نے حملہ آوروں کی لاشیں، بارودی مواد اور اسلحہ سڑک کنارے پڑا دیکھا۔

محمد شاہ باز نامی ایک علاقہ مکین نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ وہ کچہری کے اندر موجود تھے، جب انھوں نے خودکش بمباروں کو اندر داخل ہوتے دیکھا۔

انھوں نے بتایا کہ ‘میں کینٹین کی طرف بھاگا اور اپنی جان بچانے کے لیے دیوار سے چھلانگ لگا دی’۔

اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم گروپ جماعت الاحرار نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

اس سے قبل بھی چارسدہ میں دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں، مارچ 2016 میں بھی چارسدہ کی تحصیل شبقدر کے سیشن کورٹ میں خودکش حملے میں 2 پولیس اہلکاروں اور خاتون سمیت 17 افراد ہلاک اور خواتین و بچوں سمیت 30 زخمی ہوگئے تھے، جس کی ذمہ داری کالعدم گروپ جماعت الاحرار نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

جنوری 2016 میں ہی چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر بھی حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں طلبہ، اساتذہ اور عملے سمیت 21 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ آپریشن کے دوران 4 حملہ آوروں کو بھی ہلاک کردیا گیا تھا۔

چارسدہ میں حالیہ دھماکا ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب رواں ماہ پاکستان کے مختلف شہروں میں متعدد دھماکوں کے نتیجے میں اب تک 100 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔

[pullquote]دہشت گردی کی نئی لہر
[/pullquote]

رواں ماہ 13 فروری کو لاہور کے مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے دہشت گردوں نے خودکش حملہ کیا، جس کے نتیجے میں پولیس افسران سمیت 13 افراد ہلاک اور 85 زخمی ہوئے، جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ ‘جماعت الاحرار’ نے قبول کی تھی۔

13 فروری کو ہی کوئٹہ میں سریاب روڈ میں واقع ایک پل پر نصب دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بناتے ہوئے بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ایس) کمانڈر سمیت 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

15 فروری کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا کی مہمند ایجنسی میں خودکش حملے کے نتیجے میں خاصہ دار فورس کے 3 اہلکاروں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری بھی’جماعت الاحرار’ نے قبول کی تھی۔

15 فروری کو ہی پشاور میں ایک خود کش حملہ آور نے ججز کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا، جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

16 فروری کو صوبہ سندھ کے شہر سیہون میں درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطے میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت 80 سے زائد افراد جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

خود کش دھماکوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے قافلوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے، جمعرات 16 فروری کو ہی بلوچستان کے علاقے آواران میں سڑک کنارے نصف دیسی ساختہ بم پھٹنے سے پاک فوج کے ایک کیپٹن سمیت 3 اہلکار جاں بحق ہوگئے تھے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے