‘اب سپریم کورٹ پر حملے کی کوشش نہ کی جائے’

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے شریف خاندان کو ایک مرتبہ پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘یہ جب ہارنے لگتے ہیں تو ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھالیتے ہیں’۔

بنی گالہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے مخالفین کو خبردار کیا کہ ‘وقت بدل چکا ہے اب سپریم کورٹ پر حملے کی کوشش نہ کی جائے’۔

پاناما کیس کی سماعت کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وزراء کی پریس کانفرنسوں پر اعتراض کرتے ہوئے پی ٹی آئی سربراہ نے کہا ‘ان کے وزراء نے سپریم کورٹ کے خلاف جس طرح کی زبان استعمال کی ہے مجھے شک ہے کہ یہ لوگ کچھ کریں گے، ان لوگوں نے (ماضی میں) سپریم کورٹ پر ڈنڈوں سے حملہ کیا ہوا ہے’۔

چارسدہ حملے کی مذمت اور حملے میں پولیس کی جرات کو سراہتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پولیس نے بہادری سے دہشت گردوں کے حملے کو پسپا کیا اور انہیں خیبرپختونخوا پولیس کی کارکردگی پر فخر ہے۔

پاناما کیس پر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کے وکلاء کی بات سے ایسا لگتا ہے جیسے وزیراعظم قانون سے بالاتر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کرپٹ وزیراعظم نہ صرف ملک کا پیسہ لوٹتا ہے بلکہ ادارے بھی تباہ کردیتا ہے، حکمرانوں نے پنجاب پولیس کی طرح تمام اداروں کو تباہ کردیا ہے اور اس قوم کے ٹیکس کے پیسوں پر چلنے والے ادارے شریف خاندان کی نوکری کررہے ہیں۔

انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ ‘اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا جہاں وزیر خزانہ خود منی لانڈنگ کا معترف ہے اور اس نے وزیراعظم کے لیے منی لانڈرنگ کی’۔

پاناما کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) کی پیشی اور تحقیق کے حوالے سے برتی جانے والی غفلت پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘سپریم کورٹ کے سامنے چیئرمین نیب کے جوابات سے قوم کو سمجھ جانا چاہیئے کہ ہم کیوں تباہی کے دہانے پہ کھڑے ہیں اور آج ثابت ہوگیا کہ ایف بی آر کے چیئرمین کرپٹ ہیں’۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نیب اور ایف بی آر وزیراعظم کی چوری چھپانے کے لیے بہانے بنارہے ہیں۔

انہوں نے اداروں سمیت اسپیکر قومی اسمبلی کی حالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘اسپیکر ان کے گھر کے ملازم ہیں اور ان حالات میں انصاف کے لیے سپریم کورٹ کے علاوہ کوئی جگہ نہیں بچتی’۔

پولیس اصلاحات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کے اثرات خیبرپختونخوا میں جا کر دیکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پولیس کو جب تک غیر سیاسی نہیں کیا جائے گا پولیس فرنٹ لائن نہیں بن سکتی، سندھ اور پنجاب میں پولیس اس قابل نہیں رہی کہ دہشت گردوں سے لڑ سکے’۔

عمران خان کے مطابق رینجرز کی ضرورت اس لیے ہے کیونکہ پنجاب پولیس جب چھوٹو گینگ سے نہیں لڑ سکتی تو ‘موٹو گینگ’ سے کیسے لڑے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے