مصلحت کوشی ہمیں لےڈوبےگی

کہا جا تا ہے کہ بدلتے ہوئے حالات اور بدلتے وقت کے ساتھ جو انسان ، قوم اورملک اپنے آپ کو بدلنا نہیں سیکھتا گردش ایام اس کو سنگین خطرات میں مبتلا کر دیتی ہے اور ان خطرات سے بچ کر نکلنا ناممکن ہو تا ہے ۔روشن مستقبل کے خواب تعبیر کو پہنچنے سے پہلے ہی ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں ۔مستقبل کو بدلنے یا روشن مستقبل کے خواب آنکھوں میں بسانے کے لیئے ضروری ہوتا ہے کہ حال میں خود کو بدلنے کا ہنر آتا ہواور حال میں خود کو بدلنے کا ہنر ماضی کے بدل جانے کی کسی نا کسی حد تک ضمانت دیتا ہے۔

نئی دستاویزات،نئی تشریحات اور نئے علوم و فنون کسی نہ کسی حد تک گزرے ہوئے مناظر کو تبدیل کر سکتے ہیں ۔حکمران بھی اپنی ضرورت کے مطابق کسی نئے نظریے کو ماضی کا عنوان بناتے رہتے ہیں اور کہا جاتاہے کہ حکمرانوں کی سب سے خوفناک طاقت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماضی کو تبدیل کر دیں ۔اب اگر موجودہ حالات کو مدنظر رکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو ہم دہشت گردی،انتہا پسندی اور رعدم برداشت کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ،اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ ہم نے اپنے ماضی کو تبدیل کر دیا ہو۔

آئیڈیالوجی کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والے ملک کو ہم نے ”روشن خیالی” کے نرغے میں ڈال دیا ہے ۔ہمارے معاشرے میں برسوں سے انتہا پسندی کی جو باضابطہ ترویج کی جاتی ہے اس کا پاکستان کی تحریک کے تناظر میں تو کوئی جواز نظر نہیں آتا اور نہ ہی پاکستان کی تحریک کے تناظر میں آئیڈیالوجی سے مراد انتہاپسندی اور دہشت گردی ہے ۔مگر آج دہشت گردی تو پاکستان میں عام سی بات معلوم ہوتی ہے ،دہشت گردجب چاہتے ہیں جہاں چاہتے ہیں اپنی سفاکیت کے نشان چھوڑ جاتے ہیں ۔

موجودہ دور میں اس بات کا صحیح اندازہ لگاناتو بہت مشکل ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا آغاز کب اور کیسے ہوا ؟مگر یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ دہشت گردی نے پاکستان کے تاریخی سفر کو بری طرح متاثر کیاہے۔گزشتہ دس سالوں کی بات کی جائے تو 2006سے اب تک کم و بیش 1952دہشت گردی کے چھوٹے ،بڑے واقعات ہر سال پاکستان میں ہوتے ہیں،جن میں 2495لوگ ہر سال شہید ہوتے ہیں اور 3967لوگ ہر سال زخمی ہوتے ہیں۔ہر واقع کے بعد سننے کو یہی ملتا ہے کہ دہشت گردوں سے آئینی ہاتھوں سے نمٹاجائے گا ،پاکستانیوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا ،کسی صورت دہشت گردی کوبرداشت نہیں کیاجائے گا ان بیانات کے بعد حکمران گھوڑے بیچ کر سو جاتے ہیں اور اگلے سانحے کا انتظار کرتے ہیں۔پاکستانیوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب کب لیا جائے گا ؟اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ۔

اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ دہشت گرد ہیں کون؟ دہشت گردوں کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کا لیبل لگا ہوتا ہے ،مگر دین فطرت تو امن کا دین ہے ،دین فطرت تو کسی قسم کی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا درس نہیں دیتا تو پھر یہ کونسے درجے کے مسلمان ہیں اور یہ کس دین کا پرچار کر رہے ہیں ؟۔اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جب کوئی نوجوان دہشت گرد زخمی حالت میں پکڑا جا تا ہے تو ہوش میں آنے کے بعد وہ سوال کرتا ہے کہ وہ جنت کہاں ہے جس کا مجھ سے وعدہ کیاگیا تھا،جس کے لیئے میں نے اپنے جان کی بازی لگائی ۔

جہاں تک میری ناقص عقل کام کرتی ہے یہ دہشت گرد جنت اور حوروں کے متلاشی حسن بن صباح کی روحانی اولاد ہیں ،جنہیں یہ بتایا جاتا ہے خودکش حملے کے بعد تم سیدھے جنت میں جاؤ گے وہاں حوریں تمہارے انتظار میں ہیں۔حسن بن صباح نظام الملک ، امام غزالی اور عمر خیام کا ہم عصر تھا لیکن بعد میں گمراہ ہو کر دہشت گرد اور یہودیت کا پیروکار بنا،اس نے اپنی ایک جنت بنا رکھی تھی ، وہ نوجوانوں کو جنت کا لالچ دے کر انہیں جان لیوا کاموں پر آمادہ کرتاتھا،حشیش کے نشے میں نوجوانوں کو اس جنت اور اس میں موجود دوشیزاؤں کی ایک جھلک دکھائی جاتی تھی ،جنت اور دوزخ سے ناواقف نوجوان ان کی جستجو میں جان کی بازی لگا دیا کرتے تھے۔

موجودہ دور میں حسن بن صباح کی جنت تو موجود نہیں مگر اس کی روحانی اولاد یں موجود ہیں جو جنت اور دوزخ کے تصور بھی نہیں رکھتے ان نوجوانوں کی برین واشنگ کرتے ہیں انہیں جنت اور حوروں کا لالچ دے کر جان لیوا کاموں پر امادہ کرتے ہیں اور حوروں کی یہ جستجو یہاں پورے کے پورے گھر اجاڑ دیتی ہے ،ماں باپ سے ان کے بڑھاپے کے سہارے چھن جاتے ہیں ،بھائیوں سے ان کے بازوں چھن جاتے ہیں ،بہنوں سے ان کے سروں کی چادریں چھن جاتی ہیں اور کئی سہاگنیں جوانی میں ہی بیوہ ہوجاتی ہیں ۔حسن بن صباح کی روحانی اولاد کی اس جستجو نے لوگوں کی زندگیاں جہنم بنادی ہیں ۔

حوروں کے یہ متلاشی حوروں کو پانے کے لیئے حرام موت بھی مرتے ہیں اور مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث بھی بنتے ہیں،حقیقت میں ان کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ،یہ لوگ صرف مسلمانوں کی تباہی کے لیئے یہودی ایجنڈے پر عمل پیراہیں اور اسلام کے خلاف یہودیوں کی یہ سازش صدیوں سے چلی آرہی ہے،جنگ کے میدانوں میں یہودی مسلمانوں پر غلبہ نہ پاسکے تو انہوں نے مسلمانو ں کو برباد کرنے کے لیئے دیگر ہتھنکڈوں کا استعمال شروع کیا،کبھی پورن گرافی اور کبھی دنیاوی جنت کا بیہودہ ہتھکنڈہ اپنایا گیا ،دنیاوی جنت کا ہتھکنٖڈہ تو زیادہ دیر نہ چل سکا مگر پورن گرافی تو عصر حاضر کا بھی بہت بڑا ناسور ہے ۔یہ وہ زہر ہے جسکا کوئی تریاق دریافت نہ ہوسکا ،لوگوں کے رویے اور انداز زندگی اسکی بدولت جنسی خود غرضی کی بھینٹ چڑھے۔

پورنو گرافی کو سب سے پہلے صلاح الدین ایوبی (۷۳۱۱۔۳۹۱۱) کے دور میں مسلمانوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا گیا ،صلیبیوں کو جب ہر میدان میں مسلمانوں سے شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا تو پریشانی کے عالم میں متحدہ صلیبی فوج کی سالاروں کی میٹنگ کا انعقاد ہوا۔میٹنگ میں جب مسلمانوں اور صلیبیوں کا موازنہ کیا گیا تو معلوم یہ ہوا کہ مسلمان رات بھر سجدوں میں روتے ہیں اور دن بھر میدانوں میں للکار تے ہیں اور ان کے اندر ایک دنیا آباد ہے جسے ایمان کہتے ہیں ،یہی ایمان انہیں ہر میدان میں کامیاب کراتا ہے ،اس لیئے مسلمانوں کو شکست دینا ناممکن ہے ۔اس میٹنگ میں اینٹلی جنس افیسر ہرمن بھی موجود تھا اس نے کہا مسلمانوں کو شکست دینے کے لیئے ضروری ہے کہ ان کے ایمان کو کمزور کیا جائے اور ایمان کمزور کرنے کے لیئے ضروری ہے کہ ان کے اندر جنسیات اور عورت کی روح داخل کی جائے ،ان کے اندر جنسی دنیا کا تصور پیدا کیا جائے ایسا تصور جو ان کی سوچ کی راہداریوں میں برہنہ عورتوں کو حسین اداؤں کے ساتھ گردش کرتا دکھائے ،اسکے بعد وہ خود کو ہماری ثقافت کے حوالے کردیں گئے۔

میٹنگ میں اتفاق ہوا کہ ہرمن کی تجویز کو عملی شکل دی جائے ،اس تجویز کو آرٹ پورن گرافی کے نام سے سامنے لایا گیا ،منصوبے کے ایک سال بعد صلاح الدین کو اطلاع ملی کہ فوج کے کچھ جوان رات کو غائب پائے جاتے ہیں اور جوانوں میں اکثر جنسی گفتگو سنی گئی ہے ،صلاح الدین نے رات کو ان جوانوں کا پیچھاکیا تو معلوم یہ ہوا کہ جوان رات کو فحش تصوریں دیکھتے ہیں اور شراب پیتے ہیں ،ہرمن کا منصوبہ کامیاب ہو چکا تھا ،یوں تو یہ ہسٹری بہت لمبی ہے کہ پورنو گرافی نے اس کے بعد مسلمانوں کو کیسے تباہ کیا اس میں جدت کیا آئی ۔مختصراََ یہ کہ ہرمن کے منصوبے سے ہی مسلمانوں کی گمراہی کا سفر شروع ہوچکا تھا جو اب تک جاری ہے اب تو پورن انڈسٹری ایک بزنس ہے اور اس کے خطرناک اثرات آج بھی مسلمانوں میں موجود ہیں ۔

ہمارے اپنے کچھ لوگ ہیں پیسا جن کی کمزوری ہے اور وہ دوسری قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ،یہ کالی بھیڑیں ہماری صفوں میں موجود ہیں جو ملک دشمن سر گرمیوں میں ملوث ہیں ۔انہیں پہچاننے کی ضرورت ہے ،ارباب اقتدار بہت کچھ جاننے کے باوجود بھی مصلحت سے کام لے رہے ہیں جو ملک کے لیئے خطرناک ثابت ہو سکتاہے ۔ضروری ہے کہ اقوام عالم میں پاکستان کا سربلند کرنے کے لیئے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے