دہشت گردی کا حل کیا ہوگا؟

اسلام کے نام پر پاکستان بنا، اس اسلامی ریاست کی تشکیل کا ہدف اس ملک کے باسیوں کو عزت امن وسکون سے بھرپور زندگی کی فراہمی تھا، مگر نااہل حکمران اور سکیورٹی اداروں کی غفلت سے دہشتگردوں نے وطن عزیز میں باشندوں کا جینا حرام کر دیا، پاکستان کو جائے سکون کے بجائے جہنم بنادیا- آئے روز پیش آنے والے دہشتگردی کے واقعے اور سانحے نے اس ملک میں رہنے والوں کا ذہن مفلوج کردیا- پاکستان میں تواتر سے ہونے والے دہشتگردی کے واقعات کے سبب پاکستان دہشتگرستان بن گیا-

اب تو پاکستان کا نام سنتے ہی دہشتگردی کے خوفناک مناظر ذہن میں تبادر ہوجاتے ہیں، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستان کا نام لیتے یاسنتے ہی اس ملک کی علمی، فنی، ترقی یا کوئی سی خوبی آدمی کے ذہن میں مجسم ہوجاتی، مگر افسوس ؛ایسا نہ ہوا، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی وپیشرفت اور کارنامہ ہائے نمایاں ایک طرف اور نظام امنیت کا استحکام دوسری جانب ہوتا ہے- اہمیت کے اعتبار سے یہ دونوں ہرگز یکساں اور مساوی نہیں، نظام امنیت کے استحکام کو دوسرے پر فوقیت اور برتری حاصل ہے، نظام امنیت کی مضبوطی کو ملکی ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت حاصل ہے-

اگر کوئی ملک ترقی کا نعرہ بلند کرے، مگر اس میں نظام امنیت کا فقدان ہو، تو نہ صرف شعور کا شدبد رکھنے والے قبول نہیں کرتے ہیں، بلکہ اس کے جھوٹے ہونے پر یقین پیدا کرنے میں انہیں کوئی دیر نہیں لگتی، جس کی نمایاں مثال پاکستان ہے- اس ملک پر قابض اسلام کی تعلیمات سے بیگانہ ،مغربی افکار کے خمیر حکمران ترقی وپیشرفت کے بلندوبانگ دعوے کرتے نہیں تھکتے، مگر اس ملک میں نظام امنیت کھوکھلا ہونے کی وجہ سے ان کے دعوے جھوٹ پر مبنی ہونا اظہر من الشمس ہے، اس لئے کہ ملکی ترقی جڑی ہوئی ہے نظام امنیت کے استحکام سے، اگر امن ہوگا ،لوگوں کی جان محفوظ ہوگی ،تو ترقی آئے گی ،

پاکستان میں حالیہ ہونے والے مسلسل دہشتگردی کے واقعات نے ایک بار پھر پوری دنیا پر یہ ثابت کردیا کہ نواز حکومت کے نذدیک انسانی جانوں کی کوئی اہمیت نہیں، وہ غریبوں کو اس ملک پر بوجهہ سمجھتی ہے، نظام امنیت کو مستحکم کرکے غریب عوام کو تعلیم روٹی اور مکان فراہم کرنے پر خرچ کرنے کو وہ اپنے بیرونی بینک بیلنس میں شدید خسارہ کرنے کا مترادف جانتی ہے، جس سے بچنے کا واحد حل اس کے نذدیک یہ ہے کہ عوام صفحہ پاکستان سے مٹ جائے، غریب لوگ مرجائیں، تاکہ اس کا شانہ ہلکا ہوجائے اور مختلف ممالک میں اس کی مارکیٹ، کمپنی، ثروت اور بینک بیلنس روز بروز بڑهہ جائے، چمکے اور اس میں رونق آجائے- اس ہدف کو مدنظر رکھتے ہوئے نواز حکومت نے پاکستان کے اندر نظام امنیت کو کھوکھلا بنا رکھا ہے، دہشتگردوں کو دہشتگردی کرنے کی کھلی اجازت دے رکھی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ جب چاہیں جہاں چاہیں اور جیسے چاہیں دھماکہ کرکے غریب عوام کو خون ناحق کی ندی میں نہلاتے اور سلاتے ہیں، مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا- پوری دنیا پر یہ حقیقت عیاں ہوگئی ہے کہ نواز حکومت پاکستانی عوام کے ساتھ مخلص ہرگز نہیں، وہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے دوست غریبوں کا دشمن ہے، وہ تکفیری اور سلفی خشک انسانیت سوز افکار کو ملک میں خوب پروان چڑهارہی ہے، اس غلط فکر کی اشاعت اور ترویج دینے والوں کی وسیع پیمانے پر مدد اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، داعش اور طالبان کی پشت پناہی کرتی ہے،آل سعود کے اشاروں کا سر مواختلاف نہیں کرتی-

نواز حکومت اپنے عمل کے ذریعے یہ ثابت کررہی ہے کہ پاکستان میں غریب طبقے بھوک وافلاس میں رہ کرمرجانا چاہئے، خط غربت سے کھبی وہ اوپر نہ آجائے، اگر وہ پاکستان میں زندہ رہے تو بھی غربت کی حالت میں ہی رہے تا کہ نواز حکومت کی چهتری تلے پھلنے پھولنے والے چوروں کی لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ چلتا رہے۔ اگر غریبوں کو ریاستی وسائل میں سے مناسب حصہ ملنے لگے تو ان وسائل پر قابض طبقات کی لوٹ کھسوٹ کا نظام دم توڑنے لگتا ہے اور وہ اچانک آسمانوں کی بلندی سے گرکر عام آدمیوں کی سطح پر اترنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جو انہیں قبول نہیں۔ نواز حکومت نے غریب عوام کو قعر مذلت کی اتھاہ گہرائی میں پہنچادیا ہے،

موجودہ حکمرانوں نے ریاست کے وسائل پر قابض رہنے کے لیے تمام شعبہ ہائے زندگی میں کالے نظام بنا رکھے ہیں، جن میں عدل ،انصاف، مساوات، اخلاقیات اور میرٹ کی بو تک موجود نہیں، جس شعبے میں بھی دیکھو قابلیت، ذہانت، استعداد وصلاحیتوں کے بجائے منافقت ،جهوٹ، رشوت، چاپلوسی، رشتہ داری ،دوستی اور آشنائی معیار دکھائی دیتی ہے، سکیورٹی ادارے بھی اس سے مستثنی نہیں- شعبہ امن عامہ میں موجود نوے در صد افراد مذکورہ معیاروں کے بل بوتے پر بهرتی ہوئے ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے اندر احساس مسئولیت مرچکی ہوتی ہے- اپنی ذمہ داری انجام دینے سے وہ قاصر دکھائی دیتے ہیں، لوگوں کی حفاظت کرنے کے بجائے وہ دہشتگردوں کو خوش آمدید کہتے ہیں، معمولی رقم لے کر انسانیت دشمن عناصر کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں – پاکستان کے لئے افغانستان اور بھارت کا باڈر بہت اہم ہے- دہشتگرد دہشتگردی کی کاروائی کرکے کچهہ مدت کے لئے افغانستان چلے جاتے ہیں ،پھر جب دل چاہئے واپس آجاتے ہیں بغیر کسی مشکلات کے- باڈر پر کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، یہ سب سرحد پر فرض شناس افراد مامور نہ ہونے کا نتیجہ ہے-

سوال یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ کیا پاکستان سے دہشتگردوں کا قلع قمع کرنا ممکن ہے اگر جواب ہاں ہے تو یہ کیسے ممکن ہے ؟اس سوال کا جواب بہت آسان ہے، پاکستان کی سرزمین کو دہشتگردوں کے نجس وجود سے پاک کرنا ممکن ہے زیلی امور پر عمل کرکے
1- وزیراعظم جناب نواز شریف صاحب قوم سے معافی مانگیں اور واقعی پشیمانی سے خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوکر توبہ کریں ،دنیوی زندگی کی حقیقت کو سمجهیں اوراقتدار سے ناجائز استفادہ کرنے سے آئندہ کے لئے پرہیز کریں –

2- جناب وزیراعظم سمیت ایوان بالا اور قانون نافذ والے افراد اس حقیقت پر باور قلبی پیدا کریں کہ دہشتگردی کسی مخصوص طبقے کے ساتهہ مختص نہیں، بلکہ یہ ایک بڑی بیماری ہے جو بلا تفریق رنگ ،مذہب، زبان اور علاقے کے انسانیت کا دشمن ہے –

3- دہشتگردوں کے سہولت کاروں، مربیوں اور معلموں کی شناخت حاصل کریں اور انہیں عبرت ناک سزا دلوائیں بدون تردید پاکستان کے بہت سارے مدارس میں دہشتگردوں کو باقاعدہ منظم طور پر تربیت دی جاتی ہے اور یہ حکومت کے علم میں بھی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مدارس کو بند کروادیا جائے اور ان میں دہشتگردی کی تعلیم وتربیت دینے والوں کو پکڑ کر عوام کے سامنے پھانسی دلوادیں

4-پاکستان کے سکیورٹی اداروں سے غیر ذمہ دار افراد کو نکال باہر کریں اور ان کی جگہ فرض شناس ذمہ دار افراد کو متعین کردیاجائے، خصوصا افغانستان کے باڈر پر سکیورٹی سخت کریں ،اس سرحد پر امین ،ایماندار اور محب وطن افراد کو حفاظتی ذمہ داریاں سونپ دئیے جائیں، ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہیں –

5- پاکستان کے تمام مقامات پر بالخصوص خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں دہستگردوں کے ٹھکانوں پر مکمل طور پر آپریشن کروائیں، یہ بات اب کسی پر ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پاکستان دہشتگردوں کا اڈہ ہے پورے پاکستان میں آپریشن کرکے ان انسان نما درندوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ضرورت ہے

6- پاکستان کے تمام باشندے جن کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو اس بات کو پلے باندھیں کہ دہشتگردی سب کا مشترکہ مسئلہ ہے اور دہشتگرد ہم سب کا دشمن ہے بنابراین سب کے سب وطن عزیز سے دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے میں بیدار ہوکر بھرپور کردار ادا کریں- خدا سے دعا ہے کہ وہ ہماری قوم کو بیدار کرے اور اپنے نفع نقصان دوست ودشمن کو درک کرنے کی توفیق دے دہشتگردوں کو اپنے ناپاک عزائم میں ناکام فرمائے جنہوں نے ہمارے ملک میں غریب عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے مسلسل دہشتگردی کے واقعات نے پاکستان کو دہشتگرستان بنا دیا ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے