نادرا کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے مابین جنگ

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) سالانہ کروڑوں روپے منافع کمانے والا ادارہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے مابین اختیارات کی جنگ میں شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے، دنیا بھر میں نادرا کے زیر اہتمام ڈرائیونگ لائسنس، کارڈز اور دیگر پروجیکٹ کی کامیابی خطرے میں پڑ گئی ، ڈپٹی چیئرمین سید مظفر کے پاس ڈائریکٹر جنرل ایڈمن ، ڈائریکٹر جنرل لیگل ، ڈائریکٹر جنرل ہیومن ریسورس اور ڈائریکٹر جنرل ڈیٹا ویئر ہائوس کے چار بڑے اور اہم عہدے بھی ہیں ، چیئرمین نادرا مضبوط ترین ڈپٹی چیئرمین کے سامنے اختیارات استعمال کرنے میں بے بس ہو گئے ،
Usman-Mobin-NADRA
نادرا ہیڈکوارٹر میں چیئرمین سیکرٹریٹ اور ڈپٹی چیئرمین آفس کے ذرائع نے تصدیق کی کہ چیئرمین سیکرٹریٹ سے دستخط شدہ فائلیں ڈپٹی چیئرمین کے آفس میں جا کر رک جاتی ہیں ، گزشتہ سال وفاقی وزیر خواجہ آصف کے حلقے کی تصدیق کے موقع پر وزارت داخلہ اور چیئرمین نادرا میں اختلافات ہوئے تھے جس کے بعد چیئرمین نادرا عثمان مبین نے وزیر اعظم ہائوس سے تعاون مانگا اور وزیر اعظم سے ملاقات کی ، اس کے بعد وزیر داخلہ چوہدری نثار نے نادرا میں سید مظفر کو ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر لگا دیا ،
flkjlfjflkjflkjr
اس وقت ڈپٹی چیئرمین نادرا وزارت داخلہ کے منظور نظر جبکہ چیئرمین نادرا کو وزیر اعظم ہائوس سے تعاون حاصل ہے ، اس اہم ترین ادارے کے اہم ترین عہدیداروں میں اختیارات کی جنگ نے کئی ملین ڈالر کے بیرون ممالک پروجیکٹ اور ملکی سطحی پر کارکردگی سخت متاثر ہو رہی ہے ، نادرا اس وقت بنگلہ دیش میں ڈرائیونگ لائسنس پروجیکٹ ، کینیا میں پاسپورٹ کی تیاری کے پروجیکٹ ، کینیا میں الیکٹرانک پاسپورٹ سسٹم کی تنصیب ، سوڈان میں شناختی کارڈ کی رجسٹریشن کے پروجیکٹ نائجیریا، فجی میں رجسٹریشن پروجیکٹ میں بھی قومی شناختی کارڈ کی رجسٹریشن اور تیاری کے اہم ترین پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے ، جبکہ ملک بھر میں افغان جعلی شناختی کارڈ سکینڈل کی انکوائریوں ، اسلحہ لائسنس ، شناختی کارڈ، پاسپورٹ بلیک لسٹ ، جعلی شناختی کارڈ ، سموں کی تصدیق ، الیکشن کمیشن کے ہمراہ ووٹر لسٹوں سمیت اہم ترین قومی معاملات میں مصروف ہے جو چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین نادرا کے مابین اختلافات کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے