اسٹیل ملز کی زمین سی پیک کے تحت صنعتی پارک کیلئے مختص

اسلام آباد: نجکاری سے متعلق فیصلے میں تاخیر کے باعث پاکستان اسٹیل ملز مسلسل اپنی زمین سے محروم ہوتی جا رہی ہے، اس مرتبہ اس کی زمین پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے لیے انڈسٹریل پارک کی تعمیر کے لیے مختص کردی گئی۔

ایک حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف نے اسٹیل ملز کی 1500 ایکڑ زمین کو سی پیک انڈسٹریل پارک کے لیے مختص کرنے کی منظوری دے دی۔

وزارت صعنت و پیداوار کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس معاملے پراسٹیل ملز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور نجکاری کمیشن کے ساتھ بات کی جا سکتی ہے۔

وزارت کے مطابق اسٹیل ملز کے بک آف اکاؤنٹ کے تحت یہ زمین اصل میں سرمایہ کاری کے مقصد کے لیے تھی اور اسے سی پیک کے انڈسٹریل پارک کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جاسکتاہے۔

مزید کہا گیا کہ ‘انڈسٹریل پارک کی تعمیر کو حتمی شکل دینے کے لیے اس معاملے کو اسٹیل ملز بورڈ کے سامنے حمایت حاصل کرنے کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے‘۔

دوسری جانب نجکاری کمیشن کو کہا گیا ہے کہ مختص کی گئی زمین کو انڈسٹریل پارک کی تعمیر کے لیے الگ کرکے پارک کی تعمیر کے لیے راہ ہموار کی جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹیل ملز کا بورڈ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 2013 میں حکومت میں آنے کے بعد سے نامکمل ہے اور چیئرمین کے بغیر کام کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 19 اگست 2013 کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ حکومت جلد ہی نجی شعبے کی شمولیت کے ساتھ بورڈ کے ممبران کا تقرر کرے گی۔

مگر تاحال اسٹیل ملز کا 12 رکنی بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا، بورڈ میں تاحال وزارت صنعت و پیداوار کے 2، نجکاری کمیشن اور وزارت خزانہ کا ایک ایک، جب کہ نجی شعبے سے صرف ایک ہی رکن ہے جو اسٹیل ملز کے سابق افسر ہیں۔

جزوی طور پر نامکمل ہونے کی بناء پر نہ تو پاکستان اسٹیل ملز کے بورڈ اور نہ ہی وزارت صنعت و پیداوار نے ابھی تک ملک کے سب سے بڑے صنعتی یونٹ کی نجکاری تجویز پیش کی ہے، جو 2007 سے بحران کا شکار ہے، 30 جون 2008 تک اس کا منافع 10 ارب 40 کروڑ تھا، جو ایک سال کے عرصے یعنی 30 جون 2009 تک 26 ارب کے خسارے میں تبدیل ہوگیا۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کرپشن کے الزامات پر اسٹیل ملز کے سربراہ کو برطرف کرنے کا حکم دیا تھا، جب کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

بہرحال پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے پانچ سالہ دورِ حکومت کے اختتام یعنی 2013 تک اسٹیل ملز کا خسارہ بڑھ کر 200 ارب روپے تک بڑھ گیا۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے آتے ہی بورڈ کو تحلیل کردیا اور اسٹیل ملز کی تشکیل نو کرنے سمیت اس کی نجکاری کا وعدہ کیا، جو آج تک پورا نہیں ہوسکا، مگر گزشتہ دسمبر تک مل کا خسارہ اور واجبات بڑھ کر 4 کهرب 15 ارب روپے تک پہنچ گئے اور ان میں مزید اضافہ جاری ہے۔

نجکاری نہ ہونے کی وجہ سے اسٹیل ملز مختلف اداروں، نجی سرمایہ کاروں اور سیاسی پشت پناہی رکھنے والے قبضہ مافیا کی وجہ سے مسلسل اپنی زمین سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔

سندھ بورڈ آف ریوینیو (ایس بی آر) کے مطابق انہوں نے پیپلز پارٹی کے دور میں ہتھیائی گئی 1770 ایکڑ زمین قبضہ مافیا سے دوبارہ حاصل کی، مگر اب بھی اسٹیل ملز کی بہت بڑی زمین مارکیٹ ریٹ کے مقابلے میں ایک روپیہ فی اسکوائر کے انتہائی کم ریٹ پر 99 سال تک لیز پر دی گئی، دوسری جانب اسٹیل ملز کی زمین پر لینڈ مافیا نے دوبارہ قبضہ کرکے اسےمختلف افراد کو فروخت کرنا شروع کردیا ہے۔

اسٹیل ملز کی 157 ایکڑ زمین پورٹ قاسم ٹرسٹ (پی کیو ٹی) کو فی ایکڑ 90 لاکھ 30 ہزار کے حساب سے لیز پر دی گئی ہے، جب کہ نجکاری کمیشن نے اس زمین کو لیز پر دینے کا کم سے کم اندازہ 3 کروڑ فی ایکڑ لگایا تھا۔

پورٹ قاسم انتظامیہ زمین کے اس ٹکڑے کو ساہیوال پاور پروجیکٹ کے لیے درآمد کیے جانے والے کوئلے کی ترسیل کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

2006-2005 میں سپریم کورٹ کی مداخلت کے باعث وزیراعظم شوکت عزیز کی حکومت بھی اسٹیل ملز کی نجکاری نہیں کر پائی تھی، تاہم شوکت عزیز نے بھی اسٹیل ملز کی 930 ایکڑ زمین کو نیشنل انڈسٹریل پارک کی تعمیر کے لیے لیز پر دینے کی منظوری دی تھی، مگر اسٹیل ملز کو اس لیز کی رقم نہیں ملی تھی۔

اسٹیل ملز کی 220 ایکڑ زمین نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کی ضمانت پر التوارکی اسٹیل ملز کو بھی فراہم کی گئی، جو بعد ازاں اس معاملے سے الگ ہوگئی۔

سپریم کورٹ نے مئی 2012 میں ایف آئی اے کی تحقیقات کو مسترد کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کرتے ہوئے 3 ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس حوالے سے اب تک کسی پیش رفت کا کچھ پتہ نہیں۔

پارلیمانی کمیٹیاں، حکومتی شراکت دار اور تحقیقاتی ادارے اسٹیل ملز میں بدانتظامی اور تمام ادوار میں کرپشن کیے جانے کے معاملات اٹھاتے رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹیل ملز کی دوبارہ بحالی کے لیے 18 ارب 50 کروڑ کا ہدف دیا گیا تھا جس میں سے ایک سال کے اندر اسٹیل ملز نے 70 فیصد پیداواری صلاحیت کا ہدف حاصل کرلیا تھا، مگر مکمل پریشر کے ساتھ گیس کی عدم فراہمی کے باعث اسٹیل ملز کی پیداواری صلاحیت کم ہوکر 65 فیصد ہوگئی، جب کہ کچھ ماہ بعد یعنی جون 2015 سے اس کی پیداور مکمل طور پر بند ہوگئی جو اب تک بند ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے