سوشل میڈیا پر شرانگیزی

چھوٹی سی خبر ایک بڑے طوفان کی آمد کی خبر دے رہی ہے ۔روزنامہ جنگ راولپنڈی کے صفحہ تین پر ایک سنگل کالم خبر کے مطابق بھارتی مسلمانوں کی ایک تنظیم آل انڈیا فیضان مدینہ کونسل نے پاکستانی نژاد کینیڈین ٹی وی اینکر طارق فتح کا سر قلم کرنے والے کیلئے دس لاکھ سات سو چھیاسی روپے انعام کا اعلان کر دیا ہے ۔طارق فتح پر الزام ہے کہ وہ کچھ عرصے سے بھارتی ٹی وی چینل زی نیوز پر اپنے پروگرام ’’فتح کا فتویٰ‘‘ میں اسلامی شعائر کا مذاق اڑا رہا ہے ۔یہ آدمی کسی زمانے میں پاکستانی ٹیلی ویژن پر کام کیا کرتا تھا ۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں موصوف سعودی عرب اور پھر کینیڈا چلے گئے۔ پچھلے چند سالوں میں طارق فتح سوشل میڈیا پر سیکولر اور لبرل نظریات کا حامی بن کر سامنے آیا لیکن اس نے برداشت اور رواداری کو فروغ دینے کی بجائے لبرل ازم کے نام پر مسلمانوں کی کردار کشی شروع کر دی ۔اس نے ایک طرف ہم جنس پرستی کی حمایت کی تو دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے امریکہ میں مسلمانوں کا داخلہ بند کرنے کے اعلان کو بھی مستحسن قرار دیا۔طارق فتح نے براک اوباما کے مخالفین کے اس الزام کوبھی درست قرار دیا کہ امریکی سی آئی اے کے کچھ اہم افسران خاموشی سے اسلام قبول کر چکے ہیں ۔بلوچستان اور کشمیر پر طارق فتح کا موقف وہی ہے جو نریندر مودی کا ہے لہٰذا سوشل میڈیا پر اسے ہندو جنونیوں کی طرف سے بھرپور حمایت ملی اور پھر جنوری 2017ء میں زی نیوز پر اس کا پروگرام شروع کرادیا گیا جس میں طلاق، نکاح، متعہ، حلالہ اور آزادی اظہار جیسے حساس موضوعات پر طارق فتح نے ایسی گفتگو شروع کی جس پر بھارتی مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے اور انہوں نے بھارتی عدالتوں میں ’’فتح کا فتویٰ‘‘ بند کرنے کیلئے درخواستیں دائر کر دیں۔ شنوائی نہ ہوئی تو ایک تنظیم نے طارق فتح کا سر قلم کرنے والے کیلئے انعام کا اعلان کر دیا ۔

طارق فتح خود کو ماڈرن اسلام کا ترجمان کہتا ہے لیکن حقیقت میں اسے صرف اور صرف مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔پچھلے دنوں اس نے بھارتی فلم ایکٹر سیف علی خان کی ہندو بیوی کرینہ کپور کے بطن سے جنم لینے والے بچے کا نام تیمور رکھنے پر اعتراض کیا کیونکہ پرانے زمانے میں ایک تیمور نے ہندوستان پر حملہ کیا تھا ۔جب موصوف سے پوچھا گیا کہ آپ کا اپنا نام بھی جبر الٹر فتح کرنے والے طارق بن زیاد سے مماثلث رکھتا ہے تو طارق فتح نے جواب دیا کہ اس میں میرا نہیں میرے ماں باپ کا قصور ہے۔بھارت میں بہت سے لبرل اور سیکولر لوگ بھی طارق فتح پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ ہندوئوں اور مسلمانوں میں نفرت کی آگ بھڑکا رہا ہے اور اگر اسے واقعی کوئی نقصان پہنچ گیا تو بھارت میں ایک نیا ہندو مسلم فساد شروع ہوسکتا ہے ۔

طارق فتح کے متعلق چھوٹی سی خبر میں پوشیدہ طوفان کے آثار اس ناچیز کو پاکستان میں بھی نظر آ رہے ہیں ۔چند دن پہلے ایک عالم دین نے مجھے فون پر کہا کہ کوئی صحافی کسی وزیر کی دوسرے وزیر سے سرگوشی کا ویڈیو کلپ بنانے کی کوشش کرے تو وزیر کی طرف سے صحافی کا فون چھین لیا جاتا ہے اور اسے سائبر کرائمز لاء کے تحت 14سال قید کرانے کی دھمکی دی جاتی ہے، کوئی سیاسی مخالف وزیراعظم نواز شریف کوکرپٹ کہہ دے تو وزیروں کی فوج ظفر موج الزام لگانے والے پر چڑھ دوڑتی ہے لیکن سوشل میڈیا پر کھلم کھلا توہین رسالت ؐ اور توہین اسلام کی جا رہی ہے لیکن کسی وزیر کو توفیق نہیں ہوتی کہ توہین کرنے والوں کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے ۔

عالم دین کا اشارہ ’’بھینسا ‘‘ یا ’’موچی ‘‘ بن کر توہین اسلام کرنےوالوں کی طرف نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی طرف تھا جس نے سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیو بیان میں سرور کائنات حضرت محمدﷺ اور حضرت علی ؓ کے علاوہ کچھ دیگر صحابہ کرامؓ کی شان میں بھی گستاخیاں کیں۔پھر اس قابل احترام عالم دین نے مجھے وہ ویڈیو کلپ بھیجا جس میں ایک خبیث شخص کسی حدیث کا سیاق وسباق بتائے بغیر مسلمانوں کی انتہائی قابل احترام شخصیات کے بارے میں گستاخیاں کر رہا ہے اور قرآن پاک کے بارے میں بھی انتہائی نفرت انگیز الفاظ استعمال کرتا ہے ۔عالم دین نے مجھے دوبارہ فون کیا اور میرا ایک پرانا کالم یاد کرایا جس میں لاس ویگاس میں ہونے والے ایک سیمینار کے دوران کچھ گستاخان اسلام کے ساتھ ہونے والے مکالمے کی روداد لکھی گئی تھی ۔2006ء میں لکھا گیا یہ کالم میری کتاب ’’قلم کمان‘‘ میں موجود ہے۔ اس سیمینار میں شام سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر وفا سلطان نے کہا تھا کہ دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو روشن خیال بنانے کیلئے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے نبی ؐ کی شان میں بار بار گستاخی کی جائے اور جب مسلمان اس گستاخی پر احتجاج چھوڑ دیں گے تو تب ہمیں یقین آئے گا کہ وہ ماڈرن ہو چکے ہیں ۔اسی سیمینار میں رابرٹ سپنسرنے کہا تھا کہ(خاکم بدہن) جب تک قرآن تبدیل نہیں ہو گا مسلمان کبھی روشن خیال نہ بن سکیں گے اور اس خاکسار نے ان دونوں سے کہا تھا کہ نبی ؐ سے محبت ہمیں قرآن نے سکھائی ہے نہ تو یہ محبت ختم ہو سکتی ہے نہ قرآن تبدیل ہو سکتا ہے۔اس سیمینار سے پہلے میں ڈاکٹر وفا سلطان کو نہیں جانتا تھا۔اس نے مجھ جیسے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا لیکن امریکی صحافی ڈینیل پرل کے والد جیوڈی پرل نے ایک موقع پر کہا کہ ڈاکٹر وفا سلطان جیسے لوگ بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرنے کی بجائے مذاہب میں نفرتیں بڑھا رہے ہیں۔اب یہ عورت خود کو مسلمان نہیں کہتی اس کے خاوند مفید سلطان نے اپنا نام ڈیوڈ رکھ لیا ہے۔

ہالینڈ میں اسلام کے خلاف بننے والی فلم ’’فتنہ‘‘ کے حق میں عدالت میں گواہی دینے کے بعد وفا سلطان دولت سے بھی مالا مال ہو چکی ہے ۔افسوس کہ نفرتوں کے ان سوداگروں کو آزادی اظہار کے نام پر تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ آزادی اظہار کا مطلب کسی کی دل آزاری اور کسی کے خلاف نفرت پھیلانانہیں ہے ۔مغرب میں سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین اور وفا سلطان جیسے گستاخان اسلام کو تحفظ ملنے سے مسلمانوں اور مغرب میں نفرت بڑھی اب بھارت میں طارق فتح کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرکے نفرتوں کا نیا طوفان کھڑا کیا جارہا ہے ۔طارق فتح جیسے لوگوں کا سرقلم کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ مسلمانوں کو کہیں بھی گستاخان اسلام کے خلاف قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے بلکہ ان فتنہ پروروں کے خلاف قانون کا سہارا لینا چاہئے ۔پاکستان میں توہین رسالتؐ کا قانون موجود ہے لیکن کچھ مفاد پرست اس قانون کو اپنے ذاتی ،کاروباری اور سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرکے دراصل سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین، وفا سلطان اور طارق فتح جیسے گستاخوں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں ۔پاکستان میں اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے علماء اپنا کردار ادا کریں اور حکومت اس قانون کا صحیح استعمال کرتے ہوئے ان گستاخان اسلام کے خلاف کارروائی کرے جو سوشل میڈیا پر اپنی لبرل فاشزم کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہے ہیں ۔مسلمان نوجوانوں سے گزارش ہے کہ ان گستاخوں کو انکی زبان میں جواب دینے کی بجائے وہ سوشل میڈیا پر باکسر محمد علی اور مائیک ٹائی سن ، گلوکار یوسف اسلام (کیٹ سٹوین) کرکٹر محمد یوسف اور برطانوی صحافی یو ان ریڈلی کا ذکر کریں جنہوں نے کسی دبائو اور لالچ کے بغیر اسلام کا مطالعہ کیا اور مسلمان ہو گئے ۔مسلمان اپنا کردار ٹھیک کر لیں تو اسلام کے دشمن خودبخود تباہ ہو جائیں گے ۔آخر میں ان سیکولر اور لبرل لوگوں سے گزارش ہے جو آزادی اظہار کی حمایت کرتے ہیں کہ وہ بھی کچھ بولیں۔ سوشل میڈیا پر اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کے محاسبے کیلئے آواز اٹھائیں ورنہ نفرتوں کا طوفان اظہار کی چھوٹی چھوٹی آزادیاں بھی چھین لے گا آئو سب مل کر بولیں ۔آزادی کے نام پر گستاخی نامنظور،

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے