سفید پوشی کابھرم اور ہم صحافی!

آج پھر کہانی سناؤں گا ایک صحافی کی اور یقین مانیں یہ کہانی صرف ایک صحافی کی نہیں بلکہ اس ملک کے تقریباً پچانوے فیصد صحافیوں کی ہے۔ وہ صحافی جنہیں لوگ لفافہ صحافی کہتے ہیں، زرد صحافی کہتے ہیں جبکہ وہ واقف نہیں کہ جنہیں وہ کرپشن کرنے والا کہتے ہیں وہ غریب کس طرح اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھتا ہے۔

یہ ایک انتہائی سینئر صحافی کی کہانی ہے جس نے اپنی تمام زندگی اس دشت کی سیاحی میں گزار دی، وہ جو میرے سینئر تھے اور 1980 کی دہائی سے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز کرنے والے اس صحافی نے صحافیوں کی یونین میں بھی ایک ورکر کی طرح کام کیا، وہ جسے ہم نے کبھی پریشان نہیں دیکھا، کبھی بھی ان کی بات چیت سے یہ اندازہ نہیں ہوا کہ ان کی زندگی کتنی مشکل اور دشوار تھی۔

کتنا ہمت والا شخص تھا، میڈیا ٹاؤن میں پلاٹ ملا تو مکان بنانے کی لیے پیسے نہ ہونے پر اس کا حل یہ نکالا کہ اپنااچھا مہنگا پلاٹ بیچ کر اسی سوسائٹی میں ایک ایسا سستا پلاٹ خرید لیا جسے بدگونیا پلاٹ(Deshaped) کہتے ہیں۔ چاروں جانب سے پلاٹ برابر نہیں تھا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مکان بنانے کے لیے زیادہ مصیبت نہیں اٹھائی بس کچھ قرض لیا ۔یہ ہوتی ہے خودداری۔

ہم سمجھتے تھے ایک سینئر صحافی ہیں اس لیے تنخواہ بھی بہت اچھی ہو گی۔ ابھی ابھی ان کی اس ترقی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو ا جس کا اعلان کافی پہلے ہو چکا تھا، اب وہ ایک ایسے انگریزی اخبار کے سٹی ایڈیٹر تھے جسے ملک کا نمبر ون انگریزی اخبار ہونے کا دعویٰ ہے۔

یہ نوٹیفکیشن ملنے کے بعد انہوں نے پورے دفتر کو مٹھائی کھلائی، گھر میں بھی خوشیاں منائی گئی ہوں گی، میں نے تو فیس بک پر مبارکباد دے دی تھی، مگر ٹھیک تیسرے ہی روز ان کا انتقال ہو گیا۔ یعنی اپنے زیر تعمیر مکان میں رہائش اختیار کیے انہیں چند ماہ ہوئے تھے اور وہ کمیٹیوں کے انتظار میں تھے کہ کمیٹی نکلنے پر وہ ادھار بھی چکائیں گے اور مکان مکمل بھی کر لیں گے مگر قسمت پر کس کا زور ہے۔

ترقی کا پروانہ ملنے کے تیسرے روز ہی روح نے جسم کا ساتھ چھوڑ دیا، میں جنازہ میں شرکت کے لیے پہنچا تو افسردہ تو بہرحال تھا کہ ایک سینئر ساتھی تھے جن کے ساتھ بے تکلفی بھی تھی، ابھی تو ان سے مکان بننے کی پارٹی بھی کھانی تھی لیکن جب ان کے گھر کے باہر پہنچا تو پہلے سے موجود ساتھیوں کی گفتگو سے جو صورتحال مجھ پر کھلی اس کے بعد میرا دل بے حد رنجیدہ ہو گیا۔

یہ معلوم ہوا کہ کافی عرصے کے بعد جب وہ اس ترقی کا نوٹیفکیشن پا چکے تو قریبی دوستوں سے کہا اب میرے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ میں یہ سن کر دنگ رہ گیا تقریباً چار دہائیوں سے اخباری صنعت میں کام کرنے والے اس سینئر صحافی کی تنخواہ ایک مستری کے برابر تھی یعنی سینتیس ہزار روپے اور اب ترقی کا نوٹیفکیشن ملنے کے بعد سترہ ہزار روپے کا اضافہ ہونے کے بعد بھی کل تنخواہ چوون ہزار ہو تی۔ یہ سن کر سچ مانئے میرے سر پہ لگا آسمان گر گیا۔ پھر بھی رو نہیں پایا حالانکہ دل چاہتا تھا کہ چیخ چیخ کر روؤں۔نماز جنازہ جہاں پڑھائی گئی وہاں روشنی نہیں تھی اس لیے میں نے اپنے بہتے آنسو صاف نہیں کیے۔ وہاں موجود ایک دوست نے مجھے کہا کہ یہ تمہاری اور میری ذمہ داری ہے کہ ہمیں معلوم ہو کہ ایک بڑے اخبار میں کسی کو کتنی تنخواہ ملتی ہے؟۔ مجھے اعتراف ہے یہ بات درست ہے۔

دل سنبھلا تو سوچنا شروع کیا کہ ایسے کتنے ہی صحافی ہوں گے جو غربت کی چکی میں پس رہے ہوں گے مگر کتنے اطمینان سے ہنستے مسکراتے سب سے ملتے ہیں تو کیوں نہ کسی کو شک ہو کہ یہ لفافہ صحافی ہے۔کیسے کسی کو یہ معلوم ہو کہ وہ کتنے ادھار کے بوجھ تلے دبا ہے جبکہ وہ روز صبح صبح تیار ہو کر نکلتا ہے تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے جو خوشحالی کی علامت ہے لیکن کوئی کیسے دیکھ سکتا ہے کہ اس کی مسکراہٹ اور بار بار لگنے والے قہقہوں کے پیچھے کتنا درد چھپا ہے۔ وہ کتنے اطمینان سے اپنی تحریروں میں، اپنی خبروں میں لوگوں کے حقوق کی بات کہتا ہے لیکن اس کے حق کی آواز کون بلند کرے گا؟
کیا ہمارے نصیب میں ایسے ہی گھٹ گھٹ کر جینا لکھا ہے؟ کیا اس لیے ایک سینئر صحافی کی بیوی ہونے کے ناتے میری امی جی کہا کرتی تھیں میں اپنے کسی بچے کو صحافی نہیں بننے دوں گی کیونکہ انہوں نے بھی ان مشکلات کا سامنا کیا ہو گا مگر کبھی بھی میرے ابو جی کی سفید پوشی کا بھرم نہیں ٹوٹنے دیا۔ کتنے اور صحافی ہوں گے جو اسی طرح ترقی کے نوٹیفکیشن کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور ان کے گھر کا چولہا ٹھنڈا پڑنے پر بچے تعلیم چھوڑ کر نوکری پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ابھی چند دن پہلے ہی ایک دوست نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ اسے ایک چینل نے کئی ماہ کی تنخواہ نہیں دی اس نے نیا کام تو شروع کر دیا ہے لیکن ماں جی کے بیمار ہونے پر اسے اپنی بیوی کا زیور بیچنا پڑا ہے، ایک کیمرہ مین جو کراچی فائرنگ میں شہید ہوا سنا ہے وہ اپنے گھرانے کا واحد کفیل تھا اور بمشکل گھر کا گزارا کر رہا تھا۔ اب اس کے گھر والے اور یونین والے بھی کسی امداد کے منتظر ہیں۔

شاید یہ سب جھوٹ بول رہے ہیں یہ لفافہ صحافی۔۔ورنہ میں تو روز ٹی وی چینلز پر اینکرز کو بڑی اچھی حالت میں دیکھتا ہوں، ان کی تنخواہیں تو اب لاکھوں کے بجائے کروڑوں میں پہنچ گئی ہیں۔ یہی تو اصلی صحافی ہیں جو رات آٹھ بجے سے بارہ بجے تک ٹی وی سکرینوں پر راج کرتے ہیں۔ باقی رہ گئے یہ کیمرہ مین، رپورٹر، اسائنمنٹ ایڈیٹر اور سب ایڈیٹرز ۔۔یہ اصلی صحافی نہیں۔ اصلی صحافی تو وہ ہیں جنہیں ملک کے وزیر اعظم، وزیر، اپوزیشن لیڈران سب دوست رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ مالکان بھی تو انہی کو صحافی سمجھتے ہیں جو ریٹنگ لاتے ہیں خبر لانے، بنانے والا کون ہے؟

رہ گئیں ہماری یونینز تو وہ اتنے حصوں میں تقسیم ہو چکی ہیں کہ ان کی آواز اب سنائی بھی نہیں دیتی، بس کسی کے گزر جانے پر احتجاجی مظاہرہ، زندہ ہیں زندہ صحافی زندہ ہیں کے نعرے ، لواحقین کے لیے حکومتی امداد کا مطالبہ اور پھر خاموشی۔۔ بس اب یہی کام رہ گیا ہے یونین کا ۔ ویج ایوارڈ کیا ہوتا ہے ہمیں نہیں معلوم، انشورنس کرانا مالکان کی ذمہ داری ہے ہمیں نہیں معلوم، آئی ٹی این ای کا چیئرمین کب گیا کب آیا ہمیں نہیں معلوم۔۔ بس ہم احتجاج کریں گے اور گھروں کو چلے جائیں گے۔نامعلوم کتنے سلیم ، کتنے یاسر، کتنے تیمور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوں یا اپنی بیویوں کے زیور بیچنے پر مجبور ہوں گے۔۔ لیکن کیا کریں ایسے ہی سب سر جھکا کر اپنی سفید پوشی کے بھرم کے ساتھ نوکری کرتے رہیں، خاموشی کے ساتھ کیونکہ اس آئین کے تحت مظلوموں کے بولنے پر پابندی ہے

میں بطور ٹریڈ یونینسٹ اپنے آپ کو ان خراب حالات کا ذمہ دار سمجھتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں آج سے میں کسی یونین کے کسی انتخابی عمل میں آئندہ حصہ نہیں بنوں گا، فائدہ بھی کیا ہے۔ ،

میرے والد انوار فیروز مرحوم نے غالباً ایسے ہی دلبرداشتہ ہو کر کبھی لکھا تھا:

دل جلا کے بھی اجالا نہیں ہونے والا
یہ جو آنسو ہے ستا رہ نہیں ہونے والا
چھوڑ دیں کار محبت یہی بہتر ہو گا۔۔
اتنی اجرت میں گزارا نہیں ہونے والا

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے