‘حکومت سی پیک میں پاکستان کے مفادات بھی دیکھے’

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ترقی و منصوبہ بندی نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اگر ملک کے مفادات کے تحفظ کو پیش نظر نہ رکھا گیا تو پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ پاکستان اور اس کے مستقبل کو تعمیر یا تباہ کرسکتا ہے۔

کمیٹی نے حکومت پر زور دیا کہ چین کے ساتھ ہر چیز پر واضح بات چیت کی جائے تاکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان مستقبل میں کسی بھی غلط فہمی سے بچا جاسکے اور اس حوالے سے انٹرنیشنل اور مقامی ماہرین پر مشتمل ایک پینل تشکیل دیا جائے جو سی پیک سے متعلق تمام امور کو پیشہ ورانہ انداز میں دیکھ سکے۔

یہ بھی مشاہدہ کیا گیا کہ حکومت اب تک اس بات کا تعین کرنے میں ناکام ہوچکی ہے کہ سی پیک کے تحت کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کے آغاز پر پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہوں گے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ترقی و منصوبہ بندی کے چیئرمین ریٹائرڈ کرنل سید طاہر حسین مشہدی نے اجلاس کے بعد بتایا کہ ‘آغاز سے ہی ہر چیز بہت واضح ہونی چاہیے تاکہ پاکستان اور اس کے عوام کو 50 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے اس منصوبے کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوسکیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ہر چیز چین کے کھاتے میں ڈالنے کے بجائے سی پیک میں پاکستان کے مفادات کو بھی دیکھنا چاہیے۔

چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کا برادر ملک ہے، لہذا تمام غلط فہمیوں کو دور کیا جانا چاہیے، انھوں نے مزید کہا، ‘سی پیک معاہدوں کے حوالے سے غلط فہمیوں اور ابہام کی وجہ سے چین نے 3 مختلف بجلی کے منصوبوں کے حوالے سے عدالت سے رجوع کیا تھا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کمیٹی کے 6 اجلاس منعقد ہوئے لیکن حکومت کمیٹی کو یہ بتانے میں ناکام ہوگئی کہ پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے چین کے ساتھ کیا معاہدہ کیا گیا ہے۔

طاہر مشہدی نے بتایا کہ سی پیک سے متعلق منصوبوں کو حتمی شکل دیئے جانے کے وقت تمام متعلقہ اداروں کو پارلیمانی کمیٹی کو اعتماد میں لینا چاہیے تاکہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کو نیٹو سپلائی معاہدے کی طرح نہ بنایا جائے، جس کے نتیجے میں افغانستان میں نیٹو افواج کو سپلائی کے لیے بھاری ٹرکوں اور ٹینکرز نے پاکستان کے نیشنل ہائی ویز اور سڑکوں کو استعمال کیا اور انھیں تباہ کردیا، جبکہ پاکستان کو اس نقصان کے بدلے کچھ بھی نہیں ملا۔

چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ ‘ہزاروں گاڑیاں سی پیک راہداری کو استعمال کریں گی، لہذا اس حوالے سے کوئی معاہدہ ضرور ہونا چاہیے کہ ان سڑکوں اور ہائی ویز کی مینٹی نینس کے اخراجات کون برداشت کرے گا’۔

طاہر مشہدی نے کہا کہ یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ سی پیک سے متعلق منصوبوں سے ملازمت کے مواقع کسے ملیں گے، کیا پاکستانی مزدوروں اور نوجوانوں کو ملازمتیں ملیں گی یا زیادہ تر چینی شہریوں کو ہی ان منصوبوں کے ذریعے ملازمت ملے گی؟

کمیٹی کو بتایا گیا کہ صرف چینی صنعتکاروں کو مجوزہ اکنامک زونز کے ساتھ اپنی انڈسٹریز لگانے کی اجازت ہوگی۔

ساتھ ہی انھوں نے سوال کیا، ‘پاکستان کے لیے کیا فوائد ہوں گے، کیا چینی ہمیں اپنے منافع میں سے کچھ حصہ دیں گے یا وہ ٹیکس ادا کریں گے؟’

دوسری جانب جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے بھی طاہر مشہدی کے نقطہ نظر کی حمایت کی اور سی پیک میں پاکستان کے لیے فوائد کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔

کمیٹی نے اس حوالے سے بھی خدشے کا اظہار کیا کہ ہر شہر میں ایک ‘چائنا ٹاؤن’ بن جائے گا، جس سے مقامی افراد اور چینیوں کے درمیان ثقافتی ٹکراؤ ہوگا۔

جبکہ یہ معاملہ بھی زیر غور آیا کہ چین پورے سی پیک کی سرمایہ کاری کے صرف 3 یا 4 فیصد کے لیے گرانٹ یا قرضہ فراہم کرے گا۔

چیئرمین کا کہنا تھا کہ ‘اس طرح چینی بینک کسی بھی دوسرے انٹرنیشنل بینک کے مقابلے میں ہم سے زیادہ سود لیں گے’۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے