سندھ: تمام شراب خانے ایک ماہ کیلئے بند کرنے کا حکم

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے صوبے بھر میں موجود شراب خانوں سے متعلق ایک مکینزم بنائے جانے تک تمام شراب خانے بند کرنے کا حکم دے دیا۔

سندھ ہائی کورٹ نے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کیں کہ شراب خانوں کی فروخت اور لائسنس سے متعلق ایک ماہ میں طریقہ کار وضع کرکے اس حوالے سے رپورٹ پیش کی جائے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی رمیش کمار ونکوانی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ایکسائز پولیس سندھ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے جامع رپورٹ طلب کرلی، جب کہ رپورٹ جمع کرانے تک تمام شراب خانوں کو بند کرنے کا حکم دیا۔

رکن قومی اسمبلی رمیش کمار ونکوانی نے عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ’ ہمارے مذہب میں شراب کی اجازت نہیں ہے لیکن ہمارے مذہب کے نام پر شراب کی فروخت کے لائسنس جاری کیے گئے، لہٰذا ان شراب خانوں کو بند کیا جائے‘۔

رمیش کمار ونکوانی نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ اگر کسی کو شراب فروخت کرنا ہے یا کسی کو شراب فروخت کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، تو ہمارے مذہب کے نام پر نہ دی جائے۔

سندہ ہائی کورٹ نے رمیش کمار کی درخواست پر ڈی جی ایکسائز سے شراب کی فروخت سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی، جس پر ڈی جی ایکسائز نے رپورٹ جمع کرائی، تاہم عدالت نے اسے نامکمل قرار دے کر مسترد کردیا۔

عدالت نے سوال کیا کہ کس میکینزم کے تحت سندھ بھر میں شراب فروخت کی جا رہی ہے، جس پر ڈی جی ایکسائز نے شراب کی فروخت کے طریقہ کار کے بجائے صرف صوبے میں موجود لائسنس یافتہ شراب خانوں کی تعداد بتائی، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔

دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل سندھ ضمیر گھمرو نے عدالت کو بتایا کہ سندھ میں رہنے اور آنے والے غیر ملکیوں کے لیے شراب خانوں کو لائسنس فراہم کیے گئے، جس پر رمیش کمار ونکوانی نے دلیل دی کہ ‘سندھ میں آنے والے غیر ملکی اور بھی بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں کیا انھیں تمام کام کرنے کی اجازت دی جائے گی؟َ’

سماعت کے دوران شراب خانوں کے مالکان کے وکیل میر جاوید ایڈوکیٹ نے کہا کہ تمام شراب خانے قانونی ہیں، جنہوں نے لائسنس حاصل کر رکھے ہیں اور وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

سماعت کے اختتام پر سندھ ہائی کورٹ نے ڈی جی ایکسائز اور سندھ حکومت کو 30 دن کے اندر شراب کی فروخت سے متعلق میکینزم بنانے اور تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ایک ماہ کے لیے تمام شراب خانوں کو بند کرنے کا حکم دیا۔

اس سے قبل بھی سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ برس 27 اکتوبر کو مسلم آبادی اور اسکول کے قریب شراب خانوں کے 2 کیسز میں سندھ بھر کے شراب خانوں کو بند کرنے کا حکم دیا تھا، جسے بعد ازاں سپریم کورٹ نے 23 نومبر 2016 کو کالعدم قرار دیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ تمام شراب خانوں کے لائسنس منسوخ کرکے دوبارہ سے لائسنس کے اجراء کا سلسلہ شروع کیا جائے، کیونکہ شراب خانوں کے لائسنس بغیر تحقیقات کے جاری کیے گئے تھے اور یہ تحقیق ہی نہیں کی گئی کہ کس مذہب میں کس تہوار پر شراب پینے کی اجازت ہے۔

جس کے بعد شراب فروشوں نے سپریم کورٹ میں سندھ میں شراب کی فروخت پر پابندی سے متعلق اپیل دائر کی، جسے عدالت عظمیٰ نے منظور کرتے ہوئے واپس سندھ ہائی کورٹ کو بھیج دیا۔

سپریم کورٹ نے سندھ میں شراب کی فروخت پر پابندی کا سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے عدالت عالیہ کو ہدایت کی کہ معاملے کی سماعت یومیہ بنیادوں پر کی جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے