مفتی خادم رضوی اور اسلام امن کا دین

آج کل خادم حسین رضوی صاحب کا ایک کلپ بہت مشہور ہو رہا ہے جس میں انہوں نے اسلام کو امن کا دین کہنے والوں کا مذاق اڑایا ہے۔ ایک لحاظ سے مولانا صاحب ٹھیک بات کر رہے ہیں۔ اسلام کے پھیلاؤ میں تلوار کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ نہ صرف اسلام بلکہ دیگر تمام نظریات اور عقائد نے خود کو ایسے ہی پھیلایا تھا۔ یہ انسانیت کے ارتقا کا ایک ناگزیر دور تھا جب پرامن ذرائع کی غیر موجودگی میں مختلف تہذیبیں جنگ کے ذریعے ہی ایک دوسرے سے تعامل کرتی تھیں۔

آج کسی بھی تہذیب کو پھیلنے کے لئے جنگ کی ضرورت نہیں کیونکہ دیگر پرامن ذرائع وجود میں آ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے آج جنگ کا ادارہ تیزی سے متروک ہوتا جا رہا ہے۔ انڈیا میں امریکی کلچر کے پھیلاؤ کی وجہ یہ نہیں کہ امریکہ نے کبھی جنگ کے ذریعے بھارت پر قبضہ کیا تھا بلکہ اس کی وجوہات میں دیگر عوامل شامل ہیں۔ آج ہوائی سفر کی وجہ سے لوگ چند گھنٹوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچ جاتےہیں۔ انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کی وجہ سے لوگوں کا ایک دوسرے سے تعامل تقریباً اسی درجے کا ہے جو کہ ماضی میں صرف جنگوں کے ذریعے ممکن تھا۔ ٹیلی فون اور ٹیلی وژن نے بھی مختلف معاشروں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ انگریزی زبان عالمگیر حیثیت حاصل کر چکی ہے یہ بھی ایک اہم وجہ ہے۔ ان جیسے بہت سے عوامل کی وجہ سے آج تہذیبیں بغیر متشدد ذرائع اختیار کئے ایک دوسرے پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔

ہمارے ہاں دو گروہ موجود ہیں۔ ایک وہ طبقہ ہے جس نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ ہر صورت اسلام کو ایک خونخوار مذہب کی شکل میں پیش کرنا ہے۔ وہ ڈنڈی مارتے ہوئے آج کے پیمانوں کے مطابق اسلامی تاریخ کے ایک خاص دور کو ماپتے ہیں اور اس کے بعد فتوی بازی شروع کر دیتے ہیں کہ اسلام ایک متشدد مذہب ہے۔ حالانکہ ماضی کی تمام تہذیبں جب عروج حاصل کر رہی تھیں تو انہوں نے تلوار کے ذریعے ہی دیگر تہذیبوں پر غلبہ حاصل کیا تھا۔ یہ اسلام سے مخصوص نہیں بلکہ ہر نظرئیے اور عقیدے کا طریقہ ہے۔ ماضی قریب میں سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم کی کشمکش اس کی ایک مثال ہے جس کی وجہ سے بے شمار ممالک میں کروڑوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

دوسرا گروہ ان مولانا صاحب والا ہے جو یہ سمجھنے سے انکاری ہیں کہ انسانیت آج جنگ سے دور ہٹ رہی ہے۔ جنگ وجدل کا ادارہ اب متروک ہوتا جا رہا ہے۔ جس طرح اسلام بادشاہت یا جمہوریت کے بارے میں خاموش ہے اور یہ معاملات انسانی عقل پر چھوڑ دئیے گئے ہیں اسی طرح جنگ اور امن جیسے مسائل کا فیصلہ بھی ہم نے خود کرنا ہے۔ یہ اسلام کا ابدی پہلو نہیں ہے بلکہ تاریخ کے ایک خاص دورکی دین ہے۔ آج ہم اس دور سے نکل چکے ہیں اس لئے آج اسلام کو امن کا دین کہنے میں کوئی حرج نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے