کیامردم شماری سیاست کی نذر ہوجائے گی ؟

عوام کو حاصل بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا دارومدار آبادی کے درست اعداد و شمار پر ہوتا ہے۔ مردم شماری صرف سروں کی گنتی کا نام نہیں بلکہ مردم شماری وہ پیمانہ ہے جس کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ملک کی ضروریات کیا ہیں، ملک کو کن کن مسائل کا سامنا ہے، ملک کی آبادی میں کمی یا اضافہ کتنا ہوا ہے، ملک کی اکثریتی آبادی کا تعلق کس نسل یا زبان سے ہے، کتنے فیصد طبقہ تعلیم یافتہ ہے اور کتنا نہیں، خواندگی کی شرح کیا ہے؟ اس کےعلاوہ ہم معاشرے میں رہنے والے مختلف قسم کے لوگوں کے معیار زندگی کا مطالعہ بھی بہتر انداز میں کرسکتے ہیں۔ وہ قوم جو اپنے نفوس کی تعداد گننے میں دلچسپی رکھتی ہے تو وہ قوم سیاسی، معاشی، سماجی اور ترقیاتی اعتبار سے مضبوط ہوتی ہے۔ آپ اُس وقت تک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتے جب تک آپ کو اپنے ملک کی آبادی کے اعداد و شمار درست طور پر معلوم نہ ہوں ۔

آئین پاکستان میں ہر 10 سال بعد مردم شماری کے عمل کو ضروری قرار دیا گیا ہے لیکن انتہائی افسوسناک امر اور مقامِ شرمندگی یہ ہے کہ ہم پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے لیکر اب تک صرف 5 بار ہی مردم شماری کرا سکے ہیں . یہ ہمارے حکمرانوں کی غفلت اور کوتاہی ہے کہ وہ تواتر کے ساتھ مردم شماری کرانے میں ناکام رہے، جسکا خمیازہ آج پاکستان مسائل کے انبار کی صورت میں بھگت رہا ہے۔ حکمرانوں کی جانب سے مردم شماری کو مسلسل نظرانداز کیے جانے پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس اہم معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے مردم شماری کرانے کا تاریخی فیصلہ سنایا اور پندرہ مارچ 2017 کو ملک بھر میں چھٹی مردم شماری کرانے کا حکم دیا ۔ حکومت کو سختی سے تائید کی کہ اگر اس بار کوئی تاخیری حربہ استعمال کیا گیا تو حکومت کو اس صورت میں سنگین نتائج بھگتنا ہونگے۔ بالاآخر سپریم کورٹ کے دباوٴ پر ملک بھر میں چھٹی مردم شماری ہونے جارہی ہے ۔ تمام تر معاملات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے تیاریاں بھی تقریباً مکمل ہوچکی ۔

لیکن انتہائی افسوس کہ طویل مدت کے بعد ہونے والی اس مردم شماری کو بھی سیاسی بنایا جارہا ہے۔ سندھ میں حکمراں جماعت پیپلزپارٹی شہری سندھ کی آبادی جو اردو بولنے والوں کی اکثریت پر مشتمل ہے اسے اقلیت میں تبدیل کرنے کے راستے تلاش کرہی ہے ۔ سندھ کی شہری عوام کو انکے حق سے ماضی میں بھی محروم رکھا گیا ناانصافیوں اور کوٹہ سسٹم کے تحت اردو بولنے والے شہریوں کا استحصال کیا جاتا رہا ۔ ایک بار پھر سندھ کی حکمراں جماعت کیجانب سےمردم شماری میں بلاکس کی تعداد کم دکھا کر شہری آبادی کی استحصالی کا منصوبہ بنالیا گیا ہے ۔ دیہی علاقوں سے ایک بڑی تعداد میں عوام شہری علاقوں خاص کر کراچی اور حیدرآباد میں ہجرت کرچکی اور وہاں اپنے خاندان فیملی سمیت رہائش پذیر ہے ۔ لیکن اسکے باوجود پیپلزپارٹی کیجانب سے اٹھارہ سال بعد کراچی کی آبادی بڑھنے کی شرح سو فیصد ، جبکہ تھر ، گھوٹکی ، دادو اور دیہی علاقوں میں آبادی کا اضافہ چار سو فیصد دکھایا گیا ۔ جو سراسر غیر منطقی اور حقائق کے بارعکس ہے ۔

کراچی حیدرآباد اور سکھر کے بلاکس سینتالیس اعشاریہ چھ پانچ فیصد تھے جو اب دواعشاریہ چھ پانچ فیصد کم ہوکر پینتالیس فیصد ہوگئے ہیں، جب کہ اٹھارہ سالوں میں دیہی آبادی کے بلاکس باون اعشاریہ تین پانچ فیصد سے بڑھ کر پچپن فیصد ہوگئے ۔ آخری بار 1998 میں کی گئی مردم شماری کی بنیاد پر قومی و صوبائی حلقہ بندیاں ترتیب دی گئی ہیں، جس میں شہری علاقوں میں نئے ضلعے اور دیہی علاقے شامل کرکے رد و بدل کیا گیا ہے۔ اس لئے موجودہ حلقہ بندیاں قطعی طور پر زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتیں۔ دیہی علاقوں کو زیادہ جبکہ شہری علاقوں کو کم نمائندگی دی گئی ہے، حالانکہ گزشتہ دو دہائیوں سے شہری آبادی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے. سندھ کی حکمراں جماعت کے ایک رہنما نے تو یہ بیان تک دے دیا کہ اردو بولنے والے سندھی زبان کے خانہ میں نشان لگائیں ، جبکہ جغرافیائی اعتبار سے سب سندھی ہیں مگر اردو بولنے والی کمیونٹی کی تہذیب اور رسم و رواج سندھ کی دیگر قومیتوں سے یکسر مختلف ہیں۔ تو وہ کیوں اپنی زبان کو چھوڑ کر سندھی زبان کے خانہ میں نشان لگائیں ؟؟

ماضی میں بھی اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے ۔ مردم شماری میں ردوبدل کرکے مختلف اقوام کی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا ۔ 1961 میں ہونے والی مردم شماری پر مشرقی پاکستان کی جانب سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ ان کی آبادی کو کم ظاہر کرکے ان کے وسائل پر ڈاکا مارا جارہا ہے۔ اسی طرح 1982 میں بھی کراچی کی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا اور سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس پر اس وقت کے سیکرٹری داخلہ محمد خان جونیجو نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے وفاق کے دباؤ پر کراچی کی آبادی کے اعداد و شمار میں رد و بدل کیا۔

1991 کی مردم شماری بھی سیاست کی نظر ہوگئی تھی اس وقت بلوچستان اور کراچی کی آبادیوں میں غلطیاں اور تضاد پایا گیا تھا۔ چھٹی مردم شماری 2008 میں ہونا تھی مگر اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے مردم شماری کرانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی . اب اگر مردم شماری ہورہی ہے تو شہری سندھ کی عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے پیپلزپارٹی دھاندلی کرہی ہے ۔ جو قطعاً غیر مناسب عمل ہے ۔ کیونکہ پیپلزپارٹی جانتی ہے کہ اگر شفاف مردم شماری ہوگئی تو شہری سندھ کی آبادی کے زیادہ ہوجانے سے جو اسے دیہی سندھ کی بیساکھی کے ذریعے اقتدار ملتا ہے وہ خطرے میں پڑجائیگا ، اور شہری سندھ کی بڑی سیاسی قوت متحدہ قومی موومنٹ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیگی ۔ جو کہ اسکا حق بھی ہے ۔

لہذا مجھ سمیت شہری سندھ کی عوام آرمی چیف جنرل قمر باجوہ صاحب اور وزیراعظم سے مطالبہ کرتی ہے کہ شہری سندھ کی عوام کے ساتھ ہونے والی اس تاریخی ناانصافی کا نوٹس لیجیے اور مردم شماری کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں ۔ اسے کسی بھی سازش کا حصہ بننے سے روکیے ۔ پیپلزپارٹی کی اس گھناوٴنی سازش سے سندھ کے شہری عوام کے درمیان نفرت پھیل سکتی ہے اور اگر معاملات ہاتھ سے نکلے تو لسانی فسادات کا بھی خدشہ ہے ۔ اپنے دور اقتدار میں بیڈ گورنس ، ترقیاتی کام نہ ہونے کے باعث پیپلزپارٹی کے پاس آنے والے الیکشن میں کیش کرانے کے لیے کچھ نہیں ۔ لہٰذا وہ لسانی آگ بھڑکاکر شہری آبادی کو کم ظاہر کرکے پھر سے اقتدار کا حصول چاہتی ہے ۔

مردم شماری کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم ہوتی ہے اور عوامی ضروریات کے مطابق منصوبوں کیلئے وسائل مختص کئے جاتے ہیں ۔ سندھ کے شہری علاقے کراچی ، حیدرآباد ، سکھر اور میرپورخاص ایک عرصے سے اپنے بنیادی حقوق اور وسائل سے محروم ہیں ۔ وہاں ترقی نہ ہونے کے برابر ہے عوام بنیادی سہولیات تک کو ترس رہی ہے ، کراچی کے شہر کا ریونیو اس شہر پر لگانے کے بجائے حکمراں طبقہ اپنی جیبیں بھررہا ہے ۔

مردم شماری ہی فی الوقت وہ واحد راستہ ہے جس کے شفاف ہونے سے شہری سندھ کی عوام کو انکا حق مل سکتا ہے انہیں وسائل کی منصفانہ تقسیم کی جاسکتی ہے ۔ تو خدارا اس عمل کی شفافیت کو یقینی بنائیے کیونکہ ہر قوم کو اسکے حقوق اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہی مضبوط پاکستان کی ترقی و استحکام کی ضمانت ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے