قزاقوں نے تیل سے بھرا بحری جہاز ہائی جیک کرلیا

موغادیشو: بحری قزاقوں نے صومالیہ کے ساحل کے قریب سے تیل سے بھرے ایک بحری جہاز کو اغوا کرکے اس میں سوار 8 ملاحوں کو یرغمال بنالیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق 2012 کے بعد اس سمندری راہداری میں بحری قزاقوں کی یہ پہلی بڑی کارروائی ہے۔

اطلاعات کے مطابق صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں نے ‘ایریس 13’ نامی بحری جہاز کو اغوا کرلیا جس میں بڑی مقدار میں خام تیل بھرا ہوا ہے۔

ایریس 13 کے اغوا کو گلوبل شپنگ انڈسٹری کے ماہرین حیران کن قرار دے رہے ہیں کیوں کہ اہم سمندری راہداریوں پر نیٹو ممالک، چین، بھارت اور ایران وغیرہ کی بحریہ مسلسل گشت کرتی رہتی ہیں اور انہوں نے گزشتہ کئی برسوں سے صومالی قزاقوں کو کوئی جہاز اغوا نہیں کرنے دیا ہے۔

تاہم اقوام متحدہ نے گزشتہ برس اکتوبر میں خبردار کیا تھا کہ صومالی قزاق دوبارہ حملہ آور ہونے کا ارادہ اور صلاحیت رکھتے ہیں۔

اوشنز بیانڈ پائریسی کے ڈائریکٹر جان اسٹیڈ نے بتایا کہ ‘ایریس 13 نامی جہاز میں 8 ملاح موجود تھے جن کا تعلق سری لنکا سے ہے اور یہ بحری جہاز جبوتی سے تیل لے کر صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو جارہا تھا اور اسی دوران اسے مسلح افراد نے ہائی جیک کرلیا’۔

صومالیہ کی نیم خودمختار ریاست پونٹ لینڈ کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تقریباً دو درجن کے قریب لوگ صومالیہ کے شمالی ساحل کے قریب جہاز پر سوار ہوئے۔

صومالیہ کے قصبے الولہ کے ایک مقامی باشندے سلاد نور نے بذریعہ ٹیلی فون ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ پیر کے روز جہاز کو ہائی جیک کیا گیا تھا اور منگل کو اسے الولہ کے ساحل پر لنگر انداز کردیا گیا اور اب مزید مسلح افراد اس پر سوار ہوچکے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں موجود اس معاملے سے واقف ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب تک قزاقوں کی جانب سے کسی قسم کے تاوان کا مطالبہ سامنے نہیں آیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جہاز کے کیپٹن نے کمپنی کو رپورٹ کیا تھا کہ مسلح افراد نے جہاز کو ہائی جیک کرلیا ہے جبکہ اس کے فوراً بعد اس کی سمت تبدیل کردی گئی اور اب یہ لنگر انداز کیا جاچکا ہے۔

صومالیہ کے قریب یورپین یونین نیول فورس آپریشن کے ترجمان فلائٹ لیفٹیننٹ لوئس ٹیگ کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں جبکہ بحرین میں موجود امریکی بحری بیڑے کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

سری لنکا کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ شپنگ ایجنٹس سے رابطے میں ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کی جاسکیں اور عملے کی سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے۔

اقوام متحدہ کی شپنگ ڈیٹا بیس کے مطابق ایریس 13 بحری جہاز ارمی شپنگ ایس اے نامی کمپنی کی ملکیت ہے جس کا پتہ ارورا شپ مینجمنٹ ایف زیڈ ای درج ہے جوکہ متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ میں رجسٹرڈ ہے۔

دوسری جانب 2014 کے بعد سے آسٹریلوی حکومت کے ریکارڈز کے مطابق جہاز متحدہ عرب امارات کی کمپنی فلیئر شپنگ ٹریڈنگ ایف زیڈ ای کی ملکیت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے