ہماری خودمختاری اور دخترپاکستان

کہنے کو تو ہم خود مختارہیں، لیکن جب پیسے اور اقتدار کی ہوس آجائے تو خود مختاری بیان بازی تک محدود ہو
جاتی ہے۔

وطن کی سڑکوں پر دن دیہاڑے ریمنڈ ڈیوس جیسے قاتل قوم اور قانو ن کی آنکھوں کے سامنے سفاکیت کامظاہرہ کرتے ہوےٗ بے قصوروں کا لہو بہا کر باوجود جرم ثابت ہونے کے اور بغیر کسی امریکی عوامی احتجاج کے چندٹکوں کے عوض
با عزت طریقے سے رہا ہوجاتے ہیں۔

اسی امریکہ میں مارچ2003 ؁ سے دخترپاکستان،ڈاکٹر عافیہ صدیقی قید ہیں جو ابھی تک رہا نہیں ہوسکیں۔اس مارچ میں انہیں امریکی صعوبت خانوں میں چودہ سال مکمل ہو جائیں گے۔ امریکی قانون کے مطابق انکا جرم امریکی فوجی پر بندوق تانناہے۔ایسا جھوٹا الزام جو کسی بھی طرح سے صحیح ثابت نہیں ہو سکتا ،ایک صنف نازک اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون اور سائنسدان آخر کیونکر اور کہاں پر ایسا کر سکتی ہے؟ کیا کوئ ثبوت ہے؟وہ اغواہ تو کراچی ائرپورٹ سے ہوئیں پھر کب افغانستان پہنچ گئں؟اورکب انہوں نے امریکی فوجی پر بندوق تان لی؟بقول امریکیوں کے اگر وہ مجرم ہی تھیں تو کیا پاکستان مین عدالتیں موجود نہیں تھیں؟ یہاں پر بھی تحقیقات ہو سکتی تھیں ،کیا امریکیوں نے کسی امریکی مجرم کو جو پاکستان یا عالم اسلام کامجرم ہو اسے پاکستا ن یا کسی بھی اسلامی ملک کے حوالے کیا ؟لیکن ایک پاکستانی بیٹی کے ساتھ ایسا کیوں؟

کیا یہی ہیں تمہارے حقوق نسواں؟کدھر ہیں حقوق نسواں کے ٹھیکیدارجنہوں نے وطن کی بیٹی کواغیار کے ہاتھوں فروخت کیا؟حقوق نسواں کے نعرے لگاکر بے حیائی کا کلچر پھیلانے والے بردہ فروش خاموش کیوں ہیں؟خواتین کے حقوق کے نام پر ڈھونگ رچانے والی این جی اوز وطن کی کی بیٹی کیلیے کیوں نہیں بولتیں؟یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب امریکی غلاموں کیلیے ناپیدہے۔

اگر امریکیوں کی ہی مان لی جائے تو عرض ہے کیا بندوق تاننا قتل کرنے سے بھی بڑا جرم ہے کہ امریکی ریمنڈ ڈیوس تو قتل کرنے کے بعد چند دنوں میں چند ٹکوں کے عوض رہا ہو جاے لیکن دختر پاکستان، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بندوق تاننے کے جھوٹے الزام میں رہائی کی بجائے چھیاسی سال قید سنا دی جائے۔کیا ڈکٹر عافیہ پیسوں کے عوض رہا نہیں ہو سکتیں ؟کیا یہی انصاف ہے ؟کیا ہم بحیثیت پاکستانی اتنے گر گئے ہیں کہ امریکہ کی اس زیادتی کے باوجود ان سے دوستی کی پینگیں بڑھائے ہوئے ہیں ،کیا ہم نے کبھی اس ایشو پر امریکیوں کا بائیکاٹ کیا ؟

کیاہم نے امریکیوں سے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان کی بیٹی ہے اسے رہا کیا جائے اور ڈاکٹر عافیہ کو انصاف ملے بغیر کسی بھی امریکی عہدیدار سے کسی پاکستانی عہدیدار کی بات نہیں ہوسکتی؟ کیاہم نے عالمی فورم پر آواز اٹھائی؟نہیں بالکل بھی نہیں کیونکہ وہ کسی سابقہ یا موجودہ وزیراعظم یا پھر کسی جج کی اولاد نہیں ہے اسی لیے کئی سالوں سے پابند سلاسل ہے اور تڑپ تڑپ کر زندگی گزارتے ہوئے وہ دختر پاکستان آج بھی ہماری آواز اور ہماری امداد کی منتظر ہے۔

لیکن ہم بے روح جسم کی مانند سب کچھ دیکھ اور سن کربھی نظریں پھیرے ہوئے ہیں،سنی ان سنی کر رہے ہیں شاید اس لیے کہ ہماری بیٹیاں محفوظ اورآزادفضاؤں میں باعزت زندگی گزاررہی ہیں اور ہمارے گھر محفوظ ہیں ،لیکن بعید نہیں کل کلاں انہی طاقتوں کے کہنے پر ہم پربھی ایسا وقت آجائے اور ہمیں تب معلوم ہو اپنوں سے جدائی کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے،گزرا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا پھرپچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملتا،اے قوم ہمیں جاگنا ہوگا آج ہی جاگنا ہوگا ،اپنے منتخب نمائندوں کو قوم کی عفت مآب بیٹی کی آزادی کے لیے مجبور کرنا ہوگا ہر شعبے اور فورم سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو آواز اٹھانا ہوگی ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے