‘لندن میں جرم کرنے والے جیل جاسکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں’

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پاکستان سپر لیگ کے دوران سامنے آنے والے اسپاٹ فکسنگ کے معاملے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) مکمل تحقیقات کرے گی۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار نے بتایا کہ ‘اسپاٹ فکسنگ کے معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایف آئی اے سے رابطہ کیا، ایف آئی اے نے ابتدائی تحقیقات کیں اور مجھے رپورٹ دی، ایف آئی اے نے مجھے یہ بھی رپورٹ دی کہ پی سی بی اس معاملے میں گومگوں کی کیفیت کا شکار ہے’۔

چوہدری نثار نے کہا کہ اسپاٹ فکسنگ صرف پی سی بی، چند کرکٹرز اور ان کے ذاتی فعل کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کی نیک نامی اور ساکھ کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم پاکستان کے کرکٹرز کو اتنی زیادہ عزت دیتے ہیں اور ان میں سے چند کھلاڑی بار بار ہماری عزت کو خاک میں ملاتے ہیں’۔

چوہدری نثار نے فاسٹ باؤلر محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘تین کرکٹرز جو اسپاٹ فکسنگ میں جیل تک گئے تو ان کی سزا سے یہ پیغام کیوں نہیں گیا کہ یہ فعل ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے’۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ایف آئی اے کو ہدایت کردی ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری رکھیں اور اس معاملے میں کرپشن کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں گی۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ ‘مجھے یہ نظر آرہا ہے کہ پی سی بی اس معاملے کو اپنے طور پر ہی حل کرنا چاہتا ہے، وہ بالکل کریں اور ہم انہیں فرانزک سپورٹ بھی فراہم کریں گے لیکن ایف آئی اے کی تحقیقات بھی آگے بڑھیں گی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘پی سی بی تو کرپشن کے مرتکب کسی کھلاڑی پر صرف پابندی لگاسکتا ہے لیکن انہیں جیل تو نہیں بھیج سکتا اور ایف آئی آر تو درج نہیں کرسکتا لیکن ایف آئی اے ایسا کرے گا اور اس کے پاس اختیارات ہیں’۔

چوہدری نثار نے کہا کہ بار بار اسپاٹ فکسنگ کا واقعہ ہونا ہمارے سسٹم کی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ پاکستان کی کرکٹ اور ساکھ کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستانی کرکٹرز نے ملک کا نام روشن کیا اور ان کی عزت کی خاطر کھیل سے ہمیں کوڑا کرکٹ نکالنا چاہیے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ ‘اگر لندن میں جرم کا ارتکاب کرنے والے جیل جاسکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں جاسکتے؟ لہٰذا ایف آئی اے تحقیقات جاری رکھے گی، پی سی بی کو جس مرحلے پر حکومتی تعاون چاہیے ہوگا ہم دیں گے’۔

انہوں نے کہا کہ اسپاٹ فکسنگ کے معاملے میں جو کھلاڑی بھی ریڈار میں ہیں انہیں جلد ایف آئی اے کی طرف سے نوٹسز جاری ہوجائیں گے، انہیں بلایا جائے گا اور انہیں خالصتاً کرپشن کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جائے گی اور پھر ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

پی سی بی کا اینٹی کرپشن یونٹ پہلے ہی 3 کھلاڑیوں بیٹسمین شرجیل خان، خالد لطیف اور فاسٹ باؤلر محمد عرفان کو معطل کرکے پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی انکوائری کے دوران نوٹس آف چارج جاری کرچکا ہے۔

اس کے علاوہ بیٹسمین شاہ زیب حسن سے سے اینٹی کرپشن بورڈ تحقیقات کررہا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے