ٹائیگر بھوک سے نڈھال ہے

جمعرات سولہ مارچ کو وزیراعظم نواز شریف نے گوادر میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ "بلوچستان کسی دور میں دہشت گردی کا شکار تھا، لیکن آج اپنی اور ملک کی تقدیر کو بدلنے والی ترقی دیکھ رہا ہے. جلد ہی پاکستان ایشیا اور بلوچستان پاکستان کا ٹائیگر ہو گا”. ایک دن قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما جان محمد اچکزئی نے بیان دیا کہ وزیر اعظم نواز شریف بلوچستان کی ترقی میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں.

لیکن وزیر اعظم کے دورہ گوادر سے ایک روز قبل بدھ کے روز ہائر ایجوکیشن کمیشن بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری عبداللہ جان کو اغوا کر لیا گیا اور دو روز قبل منگل کو نامعلوم افراد نے آواران ضلع کے گِشکور علاقے سے تین سرکاری اساتذہ کو اغوا کر لیا. دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم سمیت کسی سرکاری و حکومتی فرد نے اِن واقعات کے حوالے سے ایک لفظ بھی نہیں بولا.

پاکستان کے وزیراعظم نے جس صوبہ بلوچستان کو اقتصادی ٹائیگر بنائے جانے کی بات کی ہے وہ صوبہ تو پہلے ہی مالا مال اور "دولت مند” ہے. پاکستان کے ارضیاتی سروے کے مطابق قومی سطح پہ نکالی جانے والی 50 معدنیات میں سے 40 بلوچستان سے حاصل کیا جاتی ہیں.

صوبہ بلوچستان 200 ملین میٹرک ٹن سے زائد کوئلے کے ذخائر، تانبے کی ایک ارب میٹرک ٹن، سنگِ مرمر کے 2.5 ملین میٹرک ٹن، سونے کے 300 ملین اونس اور گرینائٹ کے 1.5 ارب ٹن کے ذخائر سے مالا مال ہے.

بلوچستان مویشیوں کی چراگاہ کے لئے سب سے بڑا علاقہ ہے. ماہی گیری سے مالا مال 750 کلومیٹر کا ساحل ہے. یہی صوبہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے صنعتی علاقوں کو سستی ترین قدرتی گیس فراہم کر رہا ہے.

لیکن اُس کے باوجود بلوچستان کی صورتحال کا ایک دوسرا رُخ بھی ہے. دیگر کئی ایک مسائل سمیت غربت بلوچستان میں بہت بڑا عذاب بن چکا ہے. آبادی کی اکثریت رہائش، تعلیم، صحت اور خوراک کی بنیادی ضروریات سے قاصر ہے.

کثیرالابعاد غربت پر پاکستان کی پہلی سرکاری رپورٹ جو کہ منصوبہ بندی، ترقی اور ریفارم کی وزارت کی طرف سے جاری کی گئی ہے کے مطابق بلوچستان کی 71 فیصد آبادی کثیرالابعاد غربت کا شکار ہے. جبکہ قلعہ بلوچستان کے تین اضلاع عبداللہ، ہرنائی اور بارکھان کی نوے فیصد آبادی غربت کا شکار ہے. صوبہ بھر میں سب سے کم غربت ضلع کوئٹہ میں پائی جاتی ہے لیکن اُس کی شرح بھی پچاس فیصد ہے، یعنی صوبہ کے سب سے امیر ضلع میں بھی پچاس فیصد لوگ غربت کا شکار ہیں.

صوبہ بھر میں تیرہ ہزار سکول ہیں، جن میں سے سات ہزار سکول ایسے ہیں جن میں صرف ایک کمرہ ہے، پڑھانے کیلئے صرف ایک استاد ہے اور اِن سکولوں کی کوئی چار دیواری بھی نہیں ہے. صوبہ بھر میں پانچ سال سے لیکر 16 سال کی درمیانی عمر کے بچوں کی 27 لاکھ آبادی ہے جس میں سے 18 لاکھ (66 فیصد) بچے سکول نہیں جا سکتے.

پاکستان کے "مجوزہ” اقتصادی ٹائیگر بلوچستان میں لوگ اکثر ضروری طبی علاج کے لئے ہزاروں کلومیٹر سفر کرنے پر مجبور ہیں. زچہ و بچہ کی شرح اموات سے لیکر خوراک کی کمی کا شکار مریضوں کی تعداد تک، بلوچستان صحت کی سہولیات کے حوالے سے دنیا کے بدحال ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے.

پورے صوبہ بلوچستان میں صرف چھ بڑے ہسپتال ہیں جو سارے کے سارے کوئٹہ میں واقع ہیں، اِن "بڑے” ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی یا شدید بیمار مریضوں کے
علاج کی کوئی مناسب سہولیات موجود نہیں ہیں. دکھ کی بات یہ کہ بلوچستان کے کسی بھی ہسپتال میں آئی سی یو کی سہولت دستیاب نہیں ہے. گزشتہ برس آٹھ اگست کو کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعہ کے بعد سول ہسپتال میں آئی سی یو کا افتتاح کیا گیا تھا.

پورے بلوچستان میں صحت کے مراکز میں صرف مریضوں کیلئے 3500 سے بھی کم بستروں کی سہولت موجود ہے. 2624 افراد کیلئے ایک ڈاکٹر اور پچاس ہزار افراد کیلئے ایک ڈینٹل سرجن دستیاب ہے. ہر دس نوزائیدہ بچوں میں سے ایک بچہ مر جاتا ہے. جبکہ ہر ایک لاکھ میں 785 مائیں زچگی کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں. بلوچستان میں اسی فیصد آبادی کو صاف پینے کے پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے. جبکہ بلوچستان کے پچیس فیصد دیہی علاقوں میں بجلی کی سہولت موجود ہے.

بلوچستان سے سالانہ 85 ارب روپے کی مالیت کی قدرتی گیس نکالی جاتی ہے جس میں سے بلوچستان کو نو فیصد سے بھی کم حصہ دیا جاتا ہے. یہی صورت حال دوسرے منصوبوں کا ہے. سینڈک سے روزانہ پندرہ ہزار ٹن کچ دھات نکالی جاتی تھی، صوبے کو محض دو فیصد حصہ دیا گیا.

اِس پہ مستزاد تشدد، دہشت گردی، اغواء، قتل اور ڈکیتی کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے. لاپتہ افراد اور اجتماعی قبروں کی خبریں مزید دکھ میں مبتلا کرتی ہیں. عمومی رائے تو یہی ہے کہ جو لوگ بلوچستان میں ہونے والی مندرجہ بالا زیادتیوں کے خلاف ریاستی بدمعاشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو اُن کو غائب کر دیا جاتا ہے.

وزیر اعظم نواز شریف سے سوال کیا جانا چاہیے کہ اُن کے پاس بلوچستان کو اقتصادی ٹائیگر بنانے کا کیا پروگرام ہے؟ سابقہ حکومتوں کی طرف سے بھی ایسے بیانات سننے کو ملے تھے، مگر سوال یہ ہے کہ ہوا کیا؟ بلوچستان کی صورتحال میں بہتری کے لئے موجود حکومت نے کونسی سنجیدہ کوشش کی ہے؟

سماجی حالات جوں کے توں ہیں، سیاسی بیگانگی ویسی کی ویسی ہے، معاشی عذاب دن بہ دن بدتر ہو رہے ہیں. آپ کے پاس ایسی کونسی جادو کی چھڑی ہے جس کی بدولت بلوچستان اِس ملک کا ٹائیگر بن جائے گا؟

سابقہ حکومتوں نے ایسے کئی بیانات دئیے تھے مگر عملی طور کچھ بھی نہیں ہوا. بلوچستان کو بدلنے کیلئے ریاستی بیانیہ بدلنا ہو گا، اور ریاستی بیانیے کو بدلنے کیلئے نظام کو یکسر بدلنا ہو گا. کیونکہ سیاسی اشرافیہ اور ملکی و غیرملکی سرمایہ داروں کو بلوچستان کی عوام سے کوئی سروکار نہیں ہے، اُن کو محض اپنی دولت اور اپنے منافع سے غرض ہے، چاہے اُس کی قیمت کچھ بھی کیوں نہ ہو.

گوادر کی زمین "ترقیاتی” منصوبوں سے قبل سستی داموں کس نے خریدی تھی؟ اِس سوال کا جواب مشکل تو نہیں ہے، انہی حکومتی و ریاستی سرمایہ داروں نے اونے پونے داموں خرید کی تھی. آج وہی زمین مہنگے داموں فروخت کرکے بیش بہا منافع کس نے کمایا ہے؟

جب تک بلوچستان کے حوالے سے فیصلہ سازی میں بلوچستان کی عوام کو شامل نہیں کیا جاتا، بلوچستان ترقی نہیں کر سکتا ہے. ایک طرف بلند و بالا عمارتوں کو تعمیر کیا جائے، ایسے دس شہر بسا لیے جائیں، کمال ترقی یافتہ انفراسٹرکچر تعمیر کر لیا جائے، مگر وہاں کی عوام راضی نہ ہو، عوام آپ سے خوفزدہ ہو، نفرت کرتی ہو، کچھ بھی نہیں ہونے والا…!

ایسی شاہراہوں سے، ایسے منصوبوں سے، ایسی ترقی سے سرمایہ داروں کی بھری ہوئی تجوریاں مزید بھر جائیں گی، غریب محنت کش عوام مزید غریب ہو گی. بلوچستان پہلے سے ہی ٹائیگر ہے، مگر آپ نے اِس ٹائیگر کو سرکس کے پنجرے میں مقید کر رکھا ہے. بلوچستان پہلے سے ہی ٹائیگر ہے، مگر یہ ٹائیگر آپ کا پیٹ نہ بھرنے کی وجہ سے بھوک سے نڈھال ہے.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے